پاک فوج کے جوان, دل کے سپاہی
تحریر: کنول زہرا
افواج پاکستان ہر مؤقع پر اپنی قوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے, چیف سے لیکر سپاہی تک قوم کی داد رسی کے لئے چاک و چوبند نظر آتا ہے, اگرچہ مؤسم کی خرابی کے پیش نظر پاکستان آرمی کے ٹاپ کے افسران حادثے کا شکار ہوچکے ہیں مگر پھر بھی قوم کی دادرسی کے لئے وطن کے بیٹے مادر وطن کی کامرانی کے لئے ہر گھڑی تیار ہیں, پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ مل کر ملک بھر میں سیلاب سے بچاؤ کی قومی کوششوں کی نگرانی، رابطہ کاری کے لیے ہیڈ کوارٹر آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ راولپنڈی میں آرمی فلڈ ریلیف سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف صوبوں میں سیلاب زدگان میں سیلاب سے متعلق امدادی سامان کی وصولی، نقل و حمل اور تقسیم میں مدد کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں فلڈ ریلیف سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ فوج کے دستے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، سیلاب متاثرین کو پناہ، کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ میں زیادہ بارش کے زیادہ پانی کی وجہ سے سانگھڑ، لاڑکانہ اور خیرپور 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ قمبر شہداد کوٹ میں مقامی بند ٹوٹنے کے سبب 600 افراد متاثر ہوئے۔ ایسی کی تکلیف دہ صورتحال سندھ کے دار
حکومت سمیت دوسرے شہروں کی بھی ہے مگر اٹھاویں ترمیم کے تحت صوبوں کو خود مختار کرنے کا نعرہ لگانے والی, صوبہ سندھ پر عرصہ دراز سے حکومت کرنے والی سائیں سرکار کچھ نہ کرسکی, تاہم مشکل کی اس گهڑی میں افواج پاکستان کے سندھ کے عوام کو فوری ریلیف اور ریسکیو کرنے کی فعال حکمت عملی مرتب کی, پاک فوج نے ٹھٹھہ میں 60 خاندانوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خیمہ گاؤں قائم کیا, پاک فوج کے جوان تھر ، بدین،سجاول، سانگڑھ، جامشورو، میرپور خاص, کوٹڈیجی, خیرپور, نوشہرو فیروز اور دادو ضلع میں سیلاب متاثرین کو راشن اور امدادی اشیاء فراہم کر رہے ہیں۔ ٹنڈو اللہ یار اور مٹیاری میں موبائل میڈیکل ٹیموں کے ذریعے طبی امداد فراہم کر رہے ہیں, پاک فوج کی جانب سے سانگھڑ میں فیلڈ میڈیکل سینٹر کو فوری قائم کیا گیا جہاں 136 سے زیادہ مریضوں کا علاج ہوا تاہم یہ سلسلہ تاحال جاری ہے.صوبہ بلوچستان بارش کی کثرت کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے, سیلابی صورتحال کی وجہ سے زندگی مکمل مفلوج ہوچکی ہے, پورے صوبے جو پانی نے اپنے حصار میں لے لیا ہے, پاک فوج کی امدادی کوششوں کے تحت صوبے میں 5 فیلڈ میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں اب تک 575 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے جبکہ طبی امداد کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے, متاثرین کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ان کے کھانے, پینے, رہائش کے انتظام کو فوری یقینی اور موثر بنایا جارہا ہے,لسبیلہ، جھل ماگی، غنڈاوا، راجن پور، ڈی جی خان دادو اور غذر کے آفت زدہ علاقوں سے 40000 سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
- Advertisement -
سیاست کے میدان میں ہمیشہ موضوع بحث رہنے والا صوبہ پنجاب بھی سیلاب سے متاثرین ہوا ہے مگر وہاں کی حکمران جماعت سوائے جلسے اور مجھے اقتدار میں واپس لاو کی دھونس کے علاوہ کچھ اور کر
تی نظر نہیں آرہی ہے ایسے میں کیسے پاک فوج اپنے لوگوں کو تنہا چھوڑ سکتی ہے, پاک فوج نے بے رحم پانی کی سفاکی سے ڈی جی خان کے 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ۔ 2000 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 50 سے زائد ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جہاں 5562 افراد کو جگہ دی گئی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 38242 راشن پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ 37428 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے, 4 فیلڈ میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے,ہر ایک فیلڈ میڈیکل کیمپ میں ایک لیڈی میڈیکل آفیسر کے علاوہ دو میڈیکل آفیسرز ہیں, جہاں 3847 مریضوں کا اب تک علاج کیا جاچکا ہے, طبی امداد کا یہ عمل ابھی بھی جاری ہے.
صوبہ خیبر پختونخوا میں مسلسل بارشوں کے باعث شہر در شہر سڑکوں کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے, پاک فوج کی کی امدادی کوششوں کے سبب زندگی کو محفوظ رکھنے کا عمل جاری ہے, پاک فوج ریلیف کیمپ قائم کرچکی ہے, مزید کا قیام جاری ہے, پاک فوج کی جانب سے تاحال ایک ہزار سے زائد متاثرین میں راشن کے پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں, ایک ہزار سے زائد مریضوں کا علاج ہوچکا ہے
سیلاب متاثرہ صوبوں میں فوجی دستے ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔پاکستان آرمی کے جنرلز نے ایک ماہ کی سیلری سیلاب زدگان کو دینے کا اعلان کیا ہے
6500 فوجی اہلکاروں کو ملک بھر میں اب تک 250 گاڑیاں، 50 کشتیاں اور 60 ڈی واٹرنگ ٹیموں کے ساتھ مختلف ریسکیو/ ریلیف آپریشنز میں متعین کیا جا چکا ہے۔ وقتاً فوقتاً متعدد ہیلی کاپٹرز کو امدادی سرگرمیوں کے درمیان استعمال کیا جارہا ہے اور پھنسے ہوئے افراد کی بڑی تعداد کو نکالا گیا ہے اس کے علاوہ لسبیلہ، اُتھل، آواران، غذر، کوہ سلمان (جنوبی پنجاب)، راجن پور کے دور دراز علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم میں مدد اور ڈی جی خان کے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کیا گیا ہے
سندھ، بلوچستان، پنجاب، کے پی اور گلگت کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاکستان آرمی کا 3 دن کا خشک راشن (1476 ٹن) کا عطیہ کیا گیا متعلقہ فارمیشنز کے ذریعے۔ سیلاب متاثرین کے لیے سندھ کے لیے 633 ٹن اور بلوچستان کے لیے 492 ٹن خشک راشن تقسیم کیا گیا ہے۔
پاک فوج نے متاثرہ علاقوں میں ملک کے مختلف حصوں میں 200 سے زائد میڈیکل کیمپس قائم کیے ہیں۔ جس میں 22000 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
آرمی فارمیشنز نے متاثرہ علاقوں میں 60 ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں اور 11000 افراد کو پناہ کی دی گئی ہے۔
ملک بھر میں سیلاب متاثرین میں 14000 نان فلڈ آئٹمز اور 73000 فوڈ پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔
پاک فوج نے سیلاب متاثرین کے لیے 27,000 خیمے، 31,000 لحاف اور 108,000 کھانے کے پیکٹ فراہم کیے ہیں۔