بلوچستان آسمبلی میں Truth & Reconciliation کا قرارداد کا پاس ہونا خوش آئند ہے: طارق خان ترین
ایم پی اے ثناء بلوچ کی کاوشیں بلوچستان کی بہتری کے لئے قابل تقلید ہے:
کوئٹہ (مسائل نیوز) بلوچستان جہاں گو نا گو مسائل سے دوچار ہے, جہاں غربت, بے روزگاری, افرا تفری, پسماندگی اور احساس محرومی کی وجہ سے بہت سے معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں، وہاں بلوچستان کے اسمبلی سے ایسے قرارداد کا پاس ہونا انتہائی طور پر خوش آئند ہے. انہوں نے کہا کہ صوبے کی بہتری کیلئے اچھی نیت کی ضرورت ہے کہ جن سے تمام تر مسائل بندوق کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کئے جاسکتے ہیں. تمام تر مسائل جن میں تعلیم, صحت, امن و امان, بشمول ناراض بلوچ افراد کو منانا جیسے گھمبیر مسائل کو مفاہمت کے ذریعے حل کئے جاسکتے. ان باتوں کا خیال کالم نگار و صوبائی سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ تحریک جوانان پاکستان طارق خان ترین نے اپنے پریس ریلیز میں کہتے ہوئے کیا. انہوں نے مزید کہا کہ ایم پی اے ثناء بلوچ کی کاوشیں قابل ستائش ہونے کے ساتھ ساتھ قابل تقلید بھی ہے. واضح رہے کہ ثناء بلوچ نے قراداد پاس ہونے سے پہلے اسمبلی فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی عوام کی ایک آئینہ دار ادارہ ہے اور ایک آئنی ادارہ ہے, بلوچستان کے جو بھی گمبیر مسائل ہے وہ حل ہونے چاہئے. یہاں وسائل بہت ہے مگر مسائل میں گھرے ہوئے بلوچستان کو نکالنے کے ساتھ ساتھ قتل و غارت گری, امن و امان کے نفاذ, ناراض بلوچ افراد کے ساتھ مذاکرات جیسے مسائل کو حل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک Truth & Reconciliation Commission بنائی جائے جن کے لئے قرارداد پیش کی گئی نہ صرف بلکہ کثرت رائے سے منظور بھی کی گئی. طارق خان ترین نے مزید کہا کہ دنیا کے ہر ملک میں مسائل ہوتے ہیں مگر ان مسائل سے نجات پانے کے لئے نیک نیتی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ہم زاتی یا پھر پارٹی مفادات سے ہٹ کر ملک و ریاستی مفادات کو ترجیح دینگے تو تمام تر مسائل کا حل ہونا ناگزیر بن جاتا ہے. انہوں متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ قرارداد پاس ہونے کے بعد جلد سے جلد کمیش کا قیام عمل میں لائی جائے تاکہ وقت کے ضیاع نا ہو اور بلوچستان کے تمام تر معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام ہو.