بلوچستان کے دس ہزار سیلاب متاثرہ خاندانوں میں راشن اور ڈھائی ہزار میں خیمے،کپڑے تقسیم کر دیئے ہیں،منیجر کرنل ریٹائرڈ افتخار غنی
جعفرآباد (مسائل نیوز)بلوچستان کے دس ہزار سیلاب متاثرہ خاندانوں میں راشن اور ڈھائی ہزار میں خیمے،کپڑے تقسیم کر دیئے ہیں،منیجر کرنل ریٹائرڈ افتخار غنی دکھی انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کرنے والے عبدالعلیم خان فاؤنڈیشن کے پراجیکٹ منیجر کرنل ریٹائرڈ افتخار غنی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے دس ہزار سیلاب متاثرہ خاندانوں میں راشن اور ڈھائی ہزار میں خیمے،کپڑے جوتے بچوں میں چوکلیٹ،بسکٹ اور ٹافیاں تقسیم کر دئے ہیں ریلیف کے بعد سیلاب متاثرین کی بحالی کے منصوبوں پر توجہ دی جائے گی تاکہ سیلاب متاثرین اپنے ہاؤں پر کھڑے ہو سکیں سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں عبدالعلیم خان فاؤنڈیشن کے سربراہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی تک ان کا آپریشن جاری رہے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں سیلابی صورتحال کے بعد ان کی فاؤنڈیشن نے ڈیرہ غای خان،شکار پور اور جعفرآباد کے علاقوں میں تیس بیس کیمپ قائم کئے تاکہ بے گھر ہونے والے سیلاب متاثرین تک امدای راشن خیمے چٹائیاں مردانہ و زنانہ کپڑے جوتے اور دیگر ضروری اشیاء کی تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے شروع دن سے ہماری یہی کوشش رہی کہ بے سہارا خاندانوں تک امدادی سامان پہنچایا جا سکے ایس ایس پی جعفرآباد محمد جواد طارق نے ریلیف آپریشن کی کامیابی میں ہمارا مکمل ساتھ دیا جس پر عبدالعلیم خان فاؤنڈیشن بلوچستان پولیس کی مشکور ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی حالت دیکھنے کے قابل ہے بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں زمینی راستے بند ہیں ہم نے وہاں کے سیلاب متاثرین تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی بھوک سے متاثرین کی حالت دیکھنے کے قابل ہے یہ وہ وقت ہے کہ ہم ان بے سہارا اور بے گھر لوگوں کی مدد کر کے اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو راضی کر سکتے ہیں ہمارے بلوچ بھائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں جہاں تک ممکن ہے ہم ان تک رسائی حاصل کر کے انہیں راشن فراہم کر رہے ہیں انہوں نے مزیدکہا کہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے اور قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں ہم بلا تفریق انسانیت کی خدمت پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا سیلابی پانی اترنے کے بعد جب متاثرین اپنے گھروں کو واپس جائیں گے تو ہماری یہ کوشش ہو گی کہ انہیں صاف پینے کا پانی میسر ہو۔