MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

“مداخلت کے موسم میں تہذیب کا زوال”

0 114

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:سید نور آغا

ہم ادب کے قحط کے زمانے میں جی رہے ہیں۔ الفاظ اب بھی زبانوں پر ہیں مگر ان کے لہجے مر چکے ہیں۔ سوال کرنا اب شعور کی علامت نہیں رہا، بلکہ برتری جتانے کا طریقہ بن گیا ہے۔ کسی کے فیصلے پر انگلی اٹھانا، کسی کی زندگی میں جھانکنا، کسی کے دائرے میں مداخلت کرنا یہ سب ہمیں معمول لگنے لگا ہے۔ شاید ہمیں احساس بھی نہیں کہ اس “رویہ” کے پیچھے کتنی گہری اخلاقی زوال پذیری چھپی ہے۔ میں نے زندگی میں دو طرح کے لوگوں کو قریب سے دیکھا ہے: وہ جو اپنی بڑائی منوانے کے لیے دوسروں کو دباتے ہیں، اور وہ جو اپنی چھوٹی سی سمجھ کو بڑی آواز میں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں کے درمیان فرق صرف عمر کا رہ گیا ہے، وقار کا نہیں۔ ایک بزرگ جب نصیحت کے نام پر جبر کرتا ہے، یا ایک نوجوان جب سوال کے بہانے حاکمیت جتاتا ہے ۔دونوں ادب کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ سوال اگر فہم کے لیے کیا جائے تو علم پیدا کرتا ہے، مگر اگر جتانے کے لیے ہو تو دلوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔

ایک دن یونیورسٹی کی کینٹین میں میں نے ایک منظر دیکھا۔ ایک طالبعلم اپنے استاد سے مخاطب تھا۔ استاد نے محض یہ کہا کہ “بیٹا، کسی بات پر تحقیق سے پہلے ایک نظر حوالہ دیکھ لیا کرو۔” طالبعلم نے جواب دیا، “سر، آج کل ریفرنس سے زیادہ تجربہ چلتا ہے۔” میں نے دیکھا کہ استاد خاموش ہو گئے۔ اس خاموشی میں شکست نہیں تھی، بلکہ صدیوں کی تہذیب کی تھکن تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں مجھے احساس ہوا کہ سوال علم کا نہیں، اختیار کا آلہ بن گیا ہے۔

ہم نے اپنی روایات سے سادگی کا جوہر کھو دیا ہے۔ پہلے باتوں میں شائستگی فطری تھی، اب ہر جملے کے پیچھے کوئی ارادی یا غیر ارادی سازش بولتی ہے۔ گفتگو اب خیر کے لیے نہیں، تاثر کے لیے ہوتی ہے۔ رائے اب اصلاح کے لیے نہیں، اثر جتانے کے لیے دی جاتی ہے۔ پہلے اختلاف بھی وقار سے ہوتا تھا، اب اتفاق بھی مداخلت کے زہر سے بھرا ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثر کو احساس ہی نہیں کہ رائے دینے اور دخل دینے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ رائے وہ ہوتی ہے جو کسی کی روشنی بڑھا دے، مداخلت وہ جو اس کے چراغ پر پھونک مار دے۔

- Advertisement -

یہ رویہ گھروں میں بھی ہے۔ کوئی بھائی کسی بات پر دوسرے سے یوں سوال کرتا ہے جیسے عدالت میں جرح کر رہا ہو۔ کوئی بہن دوسرے کے فیصلے پر یوں تبصرہ کرتی ہے جیسے منصف ہو۔ حتیٰ کہ دوستیاں بھی اب اعتماد کے بجائے احتیاط پر قائم ہیں۔ ہر کوئی ہر بات پر “پوچھنے” کے نام پر ٹٹولنے لگا ہے۔ جیسے گفتگو نہیں، نگرانی ہو رہی ہو۔ روایت اور جدت کا امتزاج اگر توازن میں ہو تو خوبصورت ہے، مگر ہم نے روایت سے وقار نہیں لیا، صرف خودنمائی لی ہے۔ ہماری گفتگومیں سچائی کی جگہ “اثر” نے لے لی ہے۔ ہر جملہ اب ایک منصوبہ لگتا ہے، ہر مسکراہٹ کے پیچھے کوئی مفہوم چھپا محسوس ہوتا ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ شاید یہ سب محض تہذیبی زوال نہیں، بلکہ ایک باطنی بحران ہے۔ ہم نے سوال کرنے کا حق تو سیکھ لیا، مگر سوال کرنے کا ادب بھلا بیٹھے۔ ہم رائے دینے کے عادی ہو گئے، مگر خاموش رہنے کے قابل نہیں رہے۔ علم وہ ہے جو جھکنے سے بڑھتا ہے، اکڑنے سے نہیں۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی گفتگوؤں، اپنے سوالوں، اور اپنی زبانوں کا احتساب کریں۔ سوال پوچھنا جرم نہیں، مگر اس کے لہجے میں اگر تذلیل کی جھلک آ جائے تو وہ سوال نہیں رہتا، تعذیب بن جاتا ہے۔ ادب یہ نہیں کہ ہم بولنا چھوڑ دیں، ادب یہ ہے کہ بولتے وقت ہمارے لہجے میں وقار باقی رہے۔

ہمارے درمیان اب شاید ایک نئی تہذیب کی ضرورت ہے ایسی تہذیب جو سوال سے نہیں ڈرے، مگر سوال کے پیچھے چھپے زہر کو پہچان لے۔ جو رائے کا حق دے، مگر مداخلت کی حد کھینچ دے۔ اور جو ہمیں یہ یاد دلائے کہ گفتگو میں سب سے قیمتی شے الفاظ نہیں، دل کا ادب ہے۔مگر افسوس، آج کے معاشرے میں دل کے اس ادب کی چادر تنگ پڑ چکی ہے۔ ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی کے معاملے میں اپنی ناک ڈالنے کو فریضہ سمجھ بیٹھا ہے۔ اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے دل کا ادب صرف خاموشی یا تابعداری کا نام نہیں، بلکہ توازن کا ہے۔ اس توازن میں ہی مکالمے کی اصل روح چھپی ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہر شخص کو اس کی سوچ، احساسات اور تجربے کے مطابق مارجن دیا جائے۔ ہر رائے کو سننے کا حوصلہ رکھا جائے، مگر یہ بھی سمجھا جائے کہ ہر دروازہ دستک کے لائق نہیں ہوتا اور یہ وہ وقت ہے جب بے جا مداخلت و سوال کرنے کا جذبہ علم کی طلب نہیں، بلکہ اپنی برتری جتانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اور اس خطرناک روش نے گھروں سے لے کر اداروں تک، ادب سے لے کر عبادت تک، ہر رشتے کی بنیاد کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہ بے جا مداخلت دراصل ایک تہذیبی زوال ہے، جس نے احترام اور وقار کے بیچ کی لکیر مٹا دی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک دریا اپنے بہاؤ کی حد سے نکل جائے تو تباہی لاتا ہے، چاہے نیت پانی دینے کی ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اگر زبان اپنی حد سے بڑھ جائے تو عزتیں ڈوبتی ہیں، دل ٹوٹتے ہیں، رشتے جل جاتے ہیں۔
لیکن زندگی میں مداخلت کے دروازے ہمیشہ آدھے کھلے رکھیں تاکہ روشنی اندر آئے، مگر طوفان نہیں۔ دوسروں کو بات کرنے دیں، مگر اس انداز میں کہ ان کی بات ان کی ہی رہے، آپ کی تفسیر نہ بن جائے۔ کسی کے فیصلے پر رائے دیں، مگر اس کے اختیار کو کمزور کیے بغیر۔ ہر شخص کے دائرے، ہر رشتے کے احترام، اور ہر گفتگو کے وقار کی حفاظت کریں۔ یہی ادب کی معراج ہے۔اور اس بے جا مداخلت کا حل بھی یہی ہےحل بھی مشکل نہیں، بس اتنا ہے کہ ہم ہر دل کو اس کی وسعت کے مطابق مارجن دیں۔ ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق ہو، مگر یہ حق کسی دوسرے کے وقار کی قیمت پر نہ ہو۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ خاموشی بھی ایک علم ہے، اور تحمل بھی ایک دلیل۔ اگر ہم چاہیں تو یہ معاشرہ دوبارہ وہی بن سکتا ہے جہاں سوال شعور کی نشانی تھا، گستاخی کی نہیں۔ جہاں اختلاف دشمنی نہیں، بلکہ فہم کی گنجائش تھی۔
ادب، وقار، اور لحاظ یہی وہ تین ستون ہیں جن پر ایک مہذب گفتگو کھڑی ہوتی ہے۔ ان میں سے اگر ایک بھی گر جائے، تو باقی دو خود بخود بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ لہٰذا اختلاف کی اجازت دیں، مگر بے ادبی کی نہیں؛ رائے دیں، مگر زہر نہیں۔ کیونکہ بات کہنے سے زیادہ اہم ہے یہ جاننا کہ کب، کیسے، اور کس سے کہنی ہے۔ آخرکار، گفتگو کا حسن صرف بات کرنے میں نہیں، بلکہ سننے، سمجھنے اور حد پہچاننے میں ہے۔ مداخلت کے موسم میں جو شخص یہ توازن قائم کر لے وہی اصل میں تہذیب کا وارث ہے۔آخر میں، میں اپنے بزرگوں سے گزارش کروں گا کہ سوال کو دبنے نہ دیں اسے سنیں، سمجھیں، اور اگر اس کے لہجے میں کمی یا گستاخی ہو بھی جائے تو اس کی نیت کو پرکھیں، اس کے شعور کو جِلا دیں۔ سوال کو رد کرنے کے بجائے اس کی سمت درست کر دیں، کیونکہ جب سوال زندہ رہتا ہے تو علم سانس لیتا ہے، اور جب علم سانس لیتا ہے تو معاشرہ زوال سے امید کی طرف بڑھتا ہے۔

اور اب اجازت چاہوں گا اپنے عزیز دوست زین عباس کی ان خوبصورت نظم “سوال ہی سوال ہیں”کے ساتھ:
کٹی زبان پر سجا
صلیب پر لٹک رہا
زمین میں گڑا ہوا
سناں پہ بولتا ہوا
یہ کون ہے ؟
سوال ہے !
کہاں کہاں سوال ہے؟

جہاں جہاں چراغ ہے
جہاں جہاں دماغ ہے
وہاں وہاں سوال ہے
زمین گر سوال ہے
تو آسماں سوال ہے
یہ سب جہاں سوال ہے
زبان اور خیال کا وصال ہے
سوال ہے
تو شاعری سوال ہے
یہ شاعری ہے زندگی
یہ زندگی ہے شاعری
تو زندگی سوال ہے
یہ زندگی سوال ہے تو ہر گھڑی سوال ہے
گھڑی کا روشنی سے رشتہ کیا کمال ہے؟
سوال ہے
یہ روشنی ہے آگہی
تو آگہی ہے آدمی
ہوں میں بھی ایک آدمی
ہے تو بھی ایک آدمی
سو آدمی سوال ہے
جزا بھی اک سوال ہے
سزا بھی اک سوال ہے
خدا ! خدا !!
خدا تو خود سوال ہے
سوال ہی سوال ہیں
لہو میں تربتر ہوئے
سوال ہیں
یہ پتھروں کی بستیوں میں بولتے
سوال ہیں
یہ غربتوں کی چکیوں میں پس رہے
سوال ہیں
جو پیر میں ہیں بیڑیاں
سوال ہیں
یہ بن بیاہی بیٹیاں
سوال ہیں
عقیدتوں کی آڑ میں جو پھٹ رہی ہیں جیکٹیں
یہاں ہر ایک بولتی زبان کے نصیب میں ہیں بیرکیں
محافظوں کی آہٹیں
یہ بن بلائی دستکیں
سوال ہیں
لہو میں غرق ہچکیاں
یہ رات کی ردا تلے جو اٹھ رہی ہیں سسکیاں
سوال ہیں
سوال ہی سوال ہیں
وہ جاگتے
وہ سوچتے
وہ دیکھتے
وہ بولتے
وہ روکتے
وہ گمشدہ جو ہو گئے
وہ “لاپتہ” سوال ہیں
یہ جان لو
جب اک سوال مر گیا
تو سو سوال اٹھ گئے
سوال سے ڈرو نہیں
سوال کا جواب دو!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.