MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

معاشرتی ظلمت میں نبوی انقلاب

0 313

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: سید نجیب اللہ حریفال

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ایک ایسی دل سوز و خون چکاں معاشرے میں ہوئی، جہاں ہرسو جہالت کے اندھیرے و تاریکیاں پھیلی ہوئی تھیں۔کفر وشرک لوگوں کی روش اور ظلم و ستم طریقہ بن چکا تھا۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زمین میں زندہ دفن کیا کرتے تھے،اور ایک دوسرے کے خون بہانے سے سیراب نہیں ہوتے تھے۔ ایسے مخدوش حالات میں دنیا والوں کو ایک نبی کی ضرورت تھی۔ خداوندِ متعال نے ان تاریک لمحات، دلگیر و المناک حالات میں ایک نور و روشنی چمکائی۔ کائنات میں ایک عظیمُ الشان انقلاب لانے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے محسنِ انسانیت خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔

سرورِ دوعالم حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واقعہ اصحابِ فیل کے پچاس یا پچپن روز بعد بتاریخ 12 ربیع الاوّل بروز پیر عام الفیل کے پہلے سال مکہ مکرمہ میں صبحِ صادق کے وقت اپنی تمام تر خوبیوں اور برکتوں کے ساتھ پیدا ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے متعلق باختلاف روایات آٹھ، نو، بارہ ربیع الاول کے مختلف اقوال ہیں، مشہور قول کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 12 ربیع الاوّل کو ہوئی ہے۔ البتہ محققین علماءِ کرام کے دو قول ہیں، 8 ربیع الاول یا 9 ربیع الاول، بعض نے ایک کو ترجیح دی ہے، بعض نے دوسرے کو راجح و مختار قرار دیا ہے۔

پیغمبرِ اسلام، سرورِ کونین، سید الثقلین، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھا۔ والدِ ماجد کا اسمِ گرامی حضرت عبد اللہ، والدہ محترمہ کا نام حضرت بی بی آمنہ بنت وہب جدِ بزرگوار حضرت عبد المطلب تھا، سرورِ دوعالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کُنیت ابو القاسم، لقب اُمِّی اور قبیلہ قریش تھا۔ شہر مکہ معظمہ، مُلک عرب، براعظم ایشیا اور خاندان کا نام بنو ہاشم تھا۔ اختلاف روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کل گیارہ بیویاں جبکہ تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں۔

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کل عمر تریسٹھ برس تھی۔ چالیس سال نبوت سے قبل اور تیرہ سال نبوت کے بعد یعنی تقریباً تریپن (53) سال مکہ مکرمہ جبکہ دس سال مدینہ منورہ میں گزارے۔ چالیس سال نبوت سے پہلے ربِ جلیل کی جانب سے جہاں انعامات و نوازشات کا سلسلہ جاری رہا، تو اس کے ساتھ آزمائشی امتحانات سے بھی قدم قدم پر سامنا ہوا۔

ولادتِ مُبارکہ سے قبل والدِ گرامی کا سایہ سر سے اٹھا، پھر چھ سال کی عمر میں والدہ محترمہ اس جہانِ فانی سے کوچ فرما گئیں۔ یہاں پر بھی غم و الم کی داستان رکی نہیں۔ آٹھ سال کی عمر میں محسن اور ہر دلعزیز شخصیت جدِ بزرگوار جناب عبدالمطلب نے دنیا کو خیر آباد کہا۔ کبھی اپنے لاڈلے فرزندان و اولاد کے بچپن میں سپرد خاک ہونے پر افسردہ ومغموم رہے، تو کبھی اپنی اصلی و آبائی وطنِ عزیز مکہ مکرمہ سے نکال دیے گئے۔ چار مرتبہ شق صدر کی صورتحال سے گزرنا پڑا۔ ان تمام تکالیف و مشکلات کی بدولت آپ بلند و بالا مقامات و عنایات اور منازل طے کر،میں تا ابد شاد و آباد ہوئے۔

اعلانِ نبوت سے قبل قریش بلکہ مکہ کے تمام کفار و مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کہہ کر پکارتے تھے۔ اعلانِ نبوت کے بعد وہی لوگ ساحر و کاہن، ابتر و مجنون کے طعنے دینے لگے۔ ظلم و ستم کی وہ داستانیں رقم کیں کہ آج تک ان کے ناپاک و معاندانہ عزائم لوگوں پر واضح و نمایاں ہیں۔ دنیا و آخرت میں ان بدعقیدہ لوگوں کا انجامِ کار بربادی و ناکامی رہی۔

- Advertisement -

اعلان نبوت کے بعد مکہ مکرمہ سے تعلق رکھنے والے قبائل نے مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور خاندانِ بنوہاشم کو تکالیف و آزمائشات سے دل شکستہ و دل خستہ کردیا۔وہ دل افسردہ و دل افتادہ داستانِ ظلم وستم کیا تھی؟ ہاتھ کپکپا رہے ہیں، زبان ان درد بھرے الفاظ کے اظہار سے قاصر ہے۔ قلم کی نوک اس ظلم و تعدی کو لکھنے میں ساتھ نہیں دے رہی، کوشش ہوگی کہ اس داستانِ ظلم کا خلاصہ قلم بند ہو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے بنائے گئے، آپ کی نبوت کا انکار کیا گیا، آپ کے کھانے پینے کی اشیاء میں زہر ملائی گئی، بھاری پتھر پھینکنے کا منصوبہ بنایا گیا، کبھی ساحر و کاہن اور ابتر و مجنون کے دل سوز طعنے دینے لگے، تو کبھی پیاری بیٹیوں کو طلاقیں دی گئیں، کبھی احد کے میدان میں دانت مبارک زخمی ہوئے، تو کبھی طائف کے سنگلاخ چٹانوں میں خون سے لہولہان ہوگئے، ظلم کا ہر حربہ اور تنگ کرنے کا ہر نسخہ آزمایا گیا۔

کبھی مکے کے کفار ومشرکین گلے میں رسی ڈال کر سخت طریقے سے گلہ گھونٹ رہے تھے. تو کبھی بازارِ ذو المجاز میں چچا ابولہب پتھروں سے مار رہا تھا،کبھی پیغمبرِ اکرم کے چہرہ انور پر تھوکنے کی ناجائز عمل کو اختیار کیا گیا ، تو کبھی بازار ذو المجاز میں شقی القلب ابوجہل پیغمبرِ اسلام پر مٹی پھینک رہا تھا، کبھی مشرکین نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ کر اتنے زور سے کھینچے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ بال اکھڑ گئے، تو کبھی پیٹھ مبارک پر سجدے کی حالت میں ظالم و جابر عقبہ بن ابی معیط نے اونٹ کی اوجھڑی رکھی گئی۔کبھی غزوات اور سرایا کے مشکل اور کٹھن حالات سے دو چار ہوئے۔تو کبھی مکہ مکرمہ کے تمام قبائل نے مل کر خاندانِ بنوہاشم کے تقریباً تین سال بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا۔

یہ تکالیف و آزمائشات سہنے کے باوجود، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علمی و روحانی سلسلہ رُکا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ اعلیٰ و نبوی اخلاقِ حسنہ میں فرق و تبدیلی آئی،نہ اپنے اصل موقف سے پیچھے ہوئے، نہ لوگوں کو جانی و مالی نقصان پہچایا، نہ اس دشوار گزار راہِ راست سے پیچھے ہٹ گیا، انہی تکالیف کے نتیجے میں مکے کے وہ سنگ دل لوگ ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے، کبھی سخت گیر پیاسے حالت میں رہ کر دوسروں کے پیاس بجھاتے تھے ،کبھی بکری کی سری کا ہدیہ سات گھروں پر جاکر واپس پہنچایا جاتا تھا،کبھی مہمان کی خاطر چراغ کو بجھا دیا جاتا تھا، کبھی اپنے اولاد کو یتیم کیا جاتا تھا، کبھی اپنی بیویوں کو بیوہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، کبھی مال و دولت پیغمبرِ اسلام کے قدموں میں رکھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، کبھی اپنی پیاری جانوں کی قربانیاں پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

لوگ اس عجیب صورتِ حال کو دیکھ کر جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہوتے رہے، اور یوں دینِ اسلام کی شعاعیں اطراف عالم میں پھیلتی رہی،اور اسلام اور قرآن کا نظام دنیا میں چمکتے دمکتے سورج کی طرح نمودار و نمایاں ہوتے رہے۔اور یوں اسلام کا یہ عظیم ہستی پیر کے دن مشہور قول کی بنا بارہ (12) ربیع الاول گیارہ (11) ہجری کو یہ حسین و جمیل چشم وچراغ آفتابِ نبوت تریسٹھ (63) سال کی عمر میں غروب ہوگیا۔جب کہ تحقیق کے مطابق تاریخ وفات کے مشہور بارہ (12) ربیع الاول کا قول درست نہیں ہے۔ بعض نے یکم (1) ربیع الاول کو اور بعض نے 2 کو تاریخ وصال قرار دیا ہے، علامہ سہیلی نے روضۃ الانف میں اور علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں اسی کو راجح قرار دیا ہے۔اور مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کے باٸیں سمت میں واقع روضہ مبارک میں آرام فرما ہوئے۔

شافعِ محشر نے ملک و ملت میں قرآنِ کریم اور سنّتِ نبوی کے احکامات و طریقہ جات جاری وساری فرمائے،ہر چیز کےلیے اصول و ضوابط قواعد و قوانین مرتب کیے،جو سرورِ کائنات کی حیات مبارکہ ہی میں منزلِ مراد کو پہنچے، ایک ایسے اسلامی انقلاب کی داستانیں رقم کیں ،جو دُنیا و تا قیامت تمام انسانیت اور بعد میں نمایاں ہونے والے تمام انقلابات کے لیے بہترین مثل، اور رشد و ہدایت و مشعل راہ کی بنیاد رکھتی ہے۔

ربِ کریم ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔أمین ثم أمین!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.