MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

عسکری قیادت کو بدنام کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی

1 335

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز) ایف بی آر نے ڈیوٹی اور ٹیکسز فری 6 ہزار سی سی گاڑیوں کے حوالے سے نوٹیفیکیشن کی تردید کر دی۔ایف بی آر نے اس ضمن میں میڈیا میں شائع ہونے والی خبر کو جعلی قرار دے دیا۔ایف بی آر کے مطابق 2019 میں وفاقی کابینہ نے منظوری دی تاحال نوٹیفیکشین جاری نہیں ہوا۔ملک میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کے عروج کے وقت ایسی تجویز ضرور سامنے آئی تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل مشتاق شہید اور پیڈ لین حملے کے بعد تجویز ضرور زیر غور آئی۔پہلی بار یہ تجویز 2015 میں زیر غور آئی تھی،تجویز میں 6ہزار سی سی گاڑیوں کا ذکر نہیں تھا۔بلٹ پروف گاڑیاں تیا رکرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے بلٹ پروف گاڑی 6 ہزار سی سی کی تیار ہوتی ہے۔سروسز چیف اور آپریشن میں حصہ لینے والے افسران کے لیے گاڑیوں کی تجویز زیر غور رہی۔
تمام معاملات تجویز کی حد تک محدود رہے۔عملدرآمد نہیں کیا گیا۔کسی بھی ریٹائرڈ جنرل نے اس تجویز کے تحت کوئی گاڑی درآمد نہیں کی۔قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ وفاقی کابینہ نے مسلح افواج کے تھری اور فور اسٹار افسران کو ریٹائرمنٹ پر 6 ہزار سی سی تک کی ڈیوٹی فری بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کرنے کی پالیسی کی منظوری دے دی ہے تاہم اس کی حتمی منظوری وزیر اعظم کی تائید سے مشروط ہوگی. رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا تھا کہ یہ سہولت تینوں سروسز چیفس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کو بھی ان کی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد دستیاب ہو جائے گی تاہم اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن ابھی جاری ہونا باقی ہے. وفاقی کابینہ کے اصولی فیصلے کے مطابق فور اسٹار مسلح افواج کے افسران 6 ہزار سی سی تک کی 2 بلٹ پروف گاڑیاں بغیر ڈیوٹی درآمد کر سکیں گے، تھری اسٹار افسران ریٹائرمنٹ کے بعد ایک بلٹ پروف گاڑی بغیر ڈیوٹی درآمد کر سکیں گے مذکورہ افسران ان گاڑیوں کو 5 برس تک اور ایف بی آر کی منظوری کے بغیر مارکیٹ میں فروخت نہیں کر سکیں گے لیکن اگر وہ اس مدت سے پہلے گاڑی بیچنا چاہیں تو انہیں کسٹمز ڈیوٹی اور تمام ٹیکسز ادا کرنے ہوں گے علاوہ ازیں ان گاڑیوں کی درآمد وزارت دفاع کی تجویز سے مشروط ہوگی. ذرائع نے کہا کہ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ سہولت کن شرائط سے مشروط ہوگی یا یہ صرف ریٹائرڈ آفرز پر لاگو ہوگی، ہم ابھی تفصیلات نہیں بتا سکتے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد چیزیں واضح ہو جائیں گی ذرائع نے بتایا کہ حکومتی فیصلے پر سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یہ نوٹیفکیشن فی الحال موخر کر دیا، اب یہ نوٹیفکیشن وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور وزیر خزانہ سے منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا.

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] آباد (مسائل نیوز)حکومتی و عسکری قیادت کا قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز کرانے […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.