Get real time updates directly on you device, subscribe now.
کوئٹہ(خ ن)گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا ہے کہ معاشرے میں ا ±ستاد کا طلبہ کے اذہان کو علم کی روشنی سے روشن کرنے کے ساتھ ساتھ ا ±ن میں کردار کی خوبصورتی پیدا کرنے کے حوالے سے بھی کلیدی کردار ہے. پیغام پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب کا مقصد یہ ہے کہ اساتذہ کی قدر و منزلت کو برقرار رکھنے سے ہی ہم ایک ترقی یافتہ معاشرہ کے خواب کو بآسانی پورا کر سکتے ہیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز یونیورسٹی آف بلوچستان میں منعقدہ تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان اور سرور جاوید کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے. شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ اساتذہ کرام درس و تدریس جیسے اہم شعبہ سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اپنی زندگیوں کو معاشرے میں علم وشعور کے چراغ کو روشن کرنے کیلئے وقف کر دی ہیں. گورنر ظہور احمد آغا نے کہا کہ ہم شاندار اقدار اور روایات کے آمین ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہم انہی پر عمل پیرا ہو کر ملک و قوم کی مزید ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات کریں. قبل ازیں پیغام پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کے شرکاءسے وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان اور سرور جاوید نے بھی خطاب کیا۔گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا ہے کہ پشتون کلچر کی بنیادیں اجتماعیت، امن و آشتی، بردباری، صلہ رحمی اور مہمان نوازی کے اقدار میں پیوست ہیں. پشتون ثقافت اپنے اندر تخلیقی قوت رکھتی ہے. اور اپنے گردوپیش کے دیگر تمام ثقافتی اکائیوں کے ساتھ یگانگت، ہم آہنگی اور رواداری کے ا ±صولوں کی بنیاد پر تعامل کرسکیں. گورنر ظہور آغا نے کہا کہ ہماری ثقافت کے پیچھے ایک طویل تاریخ ہے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتون انٹرنیشنل کلچر ڈے کی مناسبت سے یونیورسٹی آف بلوچستان میں پشتو ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام پروگرام کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان اور ڈین فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب سمیت روایتی کپڑوں میں ملبوس اساتذہ کرام، طلبہ اور خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی. اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ اس خطے میں رہنے والے اقوام کو ملکر اخوت اور بھائی چارے پر مبنی اجتماعی حکمت عملی بنانی ہوگی. گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ میں ہمارے جن اسلاف اور اکابرین نے قومی تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے قربانیاں دی ہیں اور اپنے تاریخی ورثے کو تحفظ دینے کی خاطر سختیاں برداشت کی ہیں خراج تحسین کے مستحق ہیں. انہوں نے اساتذہ کرام پر زور دیا کہ طلباءکی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے کردار اور اخلاق سنوارنے پر توجہ دی جائے تاکہ معاشرے کے فرض شناس شہری بن سکیں. قبل ازیں وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان، پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے صدر سید خیر محمد عارف، معروف ادیب ودانشور وحید ظہیر، بلوچی ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر رحیم بخش بلوچ نے ثقافتی تنوع پر پ ±رمغز مقالے پیش کیے۔