MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کیا واقعی خاموشی عبادت ہے؟؟؟

0 494

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: قادر خدرانی

- Advertisement -

تحصیل وڈھ سول ہسپتال مسائل کا انبار لگا ہوا ہے تعلیمی پسماندگی روز بروز بہتر ہونے کے بجائے پسماندگی کی طرف جارہاہے منشیات کے عادی افراد میں روز اضافہ ہوتا جارہا ہے درجنوں کے حساب سے سکول غیر فعال ٹیچرز کی لوٹ کھسوٹ جاری ترقیاتی کاموں میں معیار کا فقدان کئی سالوں تک تعمیراتی کام روکے ہوئے ہیں کرپٹ ٹھیکدار حضرات اپنی مانی سے باز نہیں یہ سب آنکھوں دیکھے لمحے ہیں پھر بھی تسلی کیلئے کیا واقعی خاموشی عبادت ہے عبادت تو ضرور ہے مگر اتنی بھی نہیں کہ آپ کی خاموشی ہی آپ کو مجرم بنادے خاموش رہ کر ظلم سہنے کے بجائے عوام کے مسائل پر آواز بلند کرکے سو فیصد نہ سہی مگر کچھ نہ کچھ حل ہوسکتے ہیں عوام کے مسائل کیلئے چیخ پکار کرکے دنیا کو ہم باور کروائیں ہم ایک زندہ قوم ہیں مسائل کا حل ہمارے پاس نہیں ارباب اختیار کے پاس ہے کم از کم ہم زندوں میں شمار کئے جائیں تاریخ خاموش رہنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتا بلکہ مجرم ضرور قرار دیتا ہے سب سے پہلے مدعا مسائل کی طرف آؤں اس سے پہلے آپ سب کو ایک اہم مسلئے کی جانب متوجہ کرنا چاھتا ھوں وہ ہے ہم سب کی خاموشی یے مسائل زیادہ ہیں خاموشی اسے دگنا زیادہ ایسا ہرگز میں نہیں کھتا ہماری مسائل بولتے ہیں اسی چپی کو توڑنا اب ضرورت بن چکا ہے ایسا نہیں صرف اپنی زات زاتی مفاد تک سوچیں یا بولیں جہاں جہاں تک ممکن ہو ہم عوام عوامی مسائل کیلئے آواز اٹھائیں ذات پات سے ہٹ کر کبھی فرصت سے سوچیں ہم جدید دور کے قدیم لوگ ہیں وجہ جاننے کی کوشش کریں ہمارے ساتھ نا انصافی کیو ہورہاہے ہمارے مسائل اتنے زیادہ کس وجہ سے ہیں ہماری تعلیمی پسماندگی میں کمی کے بجائے اضافہ ہونا قابل توجہ ہے اپنی پسماندگی ناخواندگی بھوک افلاس کے کبھی کھوج لگانے کی کوشش کریں زمہ داران کو ڈھونڈیں سوال کریں’ نوجوان نسل تعلیم کے بجائے منشیات کا عادی بنتا جا رہا ہے ہمارے تعلیمی ادارے کیو غیر فعال ہیں نشہ کو کھلی چھوٹ ملی ہے تعلیمی ادارے ویران نظر آرہے ہیں آفیسران ارباب اختیار منظر سے غائب ہیں سر عام منشیات کے خرید و فرخت ہورہی ہے چوری ڈکیتی کے وارداتوں میں اضافے بااختیار اپنی فرض سے غافل اپنی فرض نبھانے میں ناکام عوام اور عوامی مسائل کا کسی کو کوئی فکر نہیں سیاسی جماعتیں خاموش سماجی صحافی حضرات سوشل ایکٹوسٹ کی چپی کیا کسی کے منشور میں عوام اور ان کے مسائل شامل نہیں؛ دنیا تیزی سے ترقی کی طرف جارہا ہے ہم اور ہمارے لوگ ٹیکنالوجی کے دور میں قدیم بنتے جارہے ہیں جدید دور کے قدیم لوگ کھنا اور لکھنا اکیسویں صدی ٹیکنالوجی میں مزاق لگتا ہے مگر سچ تو سچ ہے لکھنا پڑتا ہے میں اگر قلم کی نوک کو موڑ بھی دوں ترقی پافتہ لکھنے کی کوشش کروں مگر زمانہ تو لکھے گا تعلیم یافتہ ترقی دور کے انپڑھ لوگ ہیں اس بات سے انکار نہیں رقبہ کے لحاظ سے بڑا تحصیل ہے وقت پر مسائل پر قابو نہیں کیا جاسکتا مگر اتنا بھی نہیں اپنی زمہ داری فرض سے منہ موڑ لیں یہاں صدی گزرے کوئی تبدیلی نہیں وہی عوام کے بے بسی بے حسی نظروں کے سامنے ہے کہیں روڈ نہیں ایمبولینس کی سہولت نہیں ایمرجنسی میں ایک ٹیبلٹس دستیاب نہیں برائے نام دور دراز علاقوں میں جن میں سب تحصیل آڑینجی کنجڑ ماڑی جھمبورو سب تحصیل سارونہ سمیت تمام علاقے جن میں بی ایچ یو بیسک ہیلتھ سنٹر تو موجود ڈاکٹرز غائب دوائی نہیں زچگی کے دوران مرنے والے خواتین کی تعداد میں اضافہ شعبہ صحت کے سنٹرز بری طرح متاثر کہیں کہیں بلڈنگ تو دیکھائی دیتے ہیں مگر علاج گاہ نہیں موت گاہ ہیں تمام چیزیں موجود نہیں تعلیم ایمرجنسی ان علاقوں میں نہیں سیکنڑوں بچے تعلیم سے محروم سڑکیں نہیں پانی کئی کلومیٹر دوری سے جانوروں کے زریعے لانے پر مجبور یہ اکیسویں صدی ہے پتھروں کا زمانہ نہیں لیکن اس صدی میں ان علاقوں کے لوگ وہی پرانے دور کے بدقسمت باسی ہیں تمام سہولیات کا نام سنتے ہیں مگر دیکھتے نہیں اور جانتے بھی نہیں یکسر محروم ہیں کیا کبھی معاشرے کے باشعور لوگ جاننے کی کوشش کی ہیں ان سب کے پیچھے کون ان سب کا زمہ دار کون یقیناً ہر کسی کے پاس جواب ہوگا لیکن میں لکھتا ہوں ہم سب بے حس معاشرہ ان لفظوں پر مخاطب کرنے کی کوشش کرتاہوں میں اور آپ سماج کے ہر وہ باشعور شخص جو خاموش ہیں اگر میں اور آپ یا خاموش سماج ہے تو اس جرم کو لیکر ہم سب تاریخ کے سامنے کیا جواب دیں گے؟ وہ تمام لوگ ہیں جو سب جان کر انجان ہیں محرومی دیکھ کر محسوس نہیں کرتے ہیں تعلیم حاصل کرکے ناخواندگی سے واقف نہیں کیا ہماری خاموشی جرم میں شمار نہیں ہوگا ہمارے لوگ تعلیم کے خواب دیکھتے ہونگے مگر تعلیم نہیں اپنی مریضوں کو وقت پر علاج کے خواہاں ہونگے مگر ایک ٹیبلٹس موجود نہیں کشادہ پکی سڑک ان کی ضرورت ہے مگر کچھی سڑک دستیاب نہیں وڈھ کے دور دراز علاقے مسائلساں مریضوں کیلئے سہولیات نہیں ایمرجنسی کے صورتحال میں کوئی چیز دستیاب نہیں سڑک کوئی اور حادثہ ہوجائے تو زخمیوں کو طبی امداد کیلئے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں کئی گھنٹے طویل سفر طے کرکے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں تو آپ اندازہ لگائیں یہاں کے غریب باسی جدید دور سے کیا فائدہ اٹھائیں رہاہے ہیں کیا فائدہ جدید دور کا ہمیں ایک انجکشن تک میسر نہیں خیر وہاں دوردراز دشوار راستہ کی وجہ سے سہولیات نہیں سول ہسپتال وڈھ تو وہاں تک تو سڑک موجود اپنی اے سی گاڑی میں بیٹھ کر پہنچ سکتے ہیں وڈھ سول ہسپتال میں سہولت کا فقدان نام تو وڈھ سول ہسپتال مگر صرف نوٹیفکیشن تک باقی سہولیات نہیں جو ایک سول ہسپتال میں ہونا چاہئے تھا جو ایک شعبہ صحت میں ہونا چاہئے تھا کیا کبھی ہمارے صحافی سماجی حضرات اتنی بڑی آبادی کے ہسپتال کا رخ کر چکے ہیں روزانہ کتنے مریضوں کا علاج ہوتا ہے کیا سہولیات ہیں اگر عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سیاسی سماجی اپنی خاموشی توڑدیتی تو شاید آج عوام جن مسائل کا شکار ہیں شاید اتنے زیادہ نہیں ہوتے افسوس سے لکھنا پڑھ رہا ہے خاموشی کے جرم کا ارتقاب ہر طبقہ کی جانب سے نظر آ رہا ہے جب تک معاشرے کے باشعور افراد اور عوام کی طرف سے خاموشی رہے گی نہ خود مسائل ختم ہونگے نہ ارباب اختیار کی طرف سے مسائل کا خاتمہ ہو سکے گا نہ کوشش ہو گا تو آئیں اس خاموشی کو ملکر توڑ دیں اپنے سماجی حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوں یہ حق ہمیں ملکی آئین دیتی ہے انسانی اصول دیتے ہیں تو اپنی حقوق مانگیں اپنی حق کیلئے خاموشی توڑیں جہدوجہد سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے موجودہ وقت کی تمام دانشور سماجی لکھاری خاموش ہیں لکھنے اور بولنے سے محروم ہو گئے ہیں خاموشی کو ترجیح دی ہوئی ہیں نہیں معلوم مجھ سمیت وہ کب لکھیں گے اور کب بولیں گے تمام تر عوام باشعور شامل ہیں اس جرم میں بڑے ناموں سے لیکر چھوٹے ناموں تک سبھی شامل ہیں حکمران اور عوامی مینڈیٹ لینے والوں سے سوال کرنے سے کتراتے ہیں اور اس بے بسی میں خوش ہو تے ہیں اور پھر بھی ہم اس غلط فہمی میں ہیں حکمران ہمیں سب سہولیات دیں گے یہ ہماری تقدیر نہیں یہ ہماری خاموشی کا پھل ہے پھر ایسی دانشوری اور ایسی صحافت ایسی لکھاری سوشلسٹ کس مرض کے دوا ہیں۔۔؟؟

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.