محکمہ تعلیم کی ناقص کارکردگی
عبد الغنی شہزاد
- Advertisement -
کل بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوئٹہ نے ایف اے ، ایف ایس سی کے سالانہ امتحانات 2022کے نتائج کا اعلان کردیا گیا جس میں پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن سمیت اکثر پوزیشن میں بلوچستان کے نجی تعلیمی اداروں کے طلباء نے نمایاں پوزیشن حاصل کی،
حالیہ نتائج سے انٹرنیٹ میڈیٹ کے نتائج سے محکمہ تعلیم کی مایوس کن کارکردگی واضح ہوگئی، تعلیم پرخطیر بجٹ صرف ہونے کے باوجود بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرنا لمحہ فکریہ ہے، سرکاری سکولوں اور کالجوں کا ناقص تعلیمی نظام نونہالان قوم کے روشن مستقبل پر سوالیہ نشان ہے،جب ہمیشہ پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن نجی تعلیمی ادارے لے جارہے ہیں ،تو اربوں روپے خرچ کرنے والے غریب طلباء کے سامنے جوابدہ ہیں، اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ سرکار کے زیر اہتمام چلنے والے تعلیمی ادارے بہتر رزلٹ دینے میں کیوں ناکام رہے ہیں، ان وجوہات کو تلاش کرکے سکولوں اور کالجوں میں نظم اور ڈسپلن کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی حاضریوں پر توجہ دینا ہوگی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام وافراد کی ترقی کا انحصار علم و تعلیم پر ہے۔ اس لیے ہر معاشرے میں تعلیم کی ترقی کیلئے کوششیں ہوتی ہیں. ماضی میں تعلیم کی ترقی کیلئے مفکرین اور علماء نے بہت کوششیں کی ہیں اور ان کی بدولت ماضی میں ہماری درسگاہوں اور اساتذہ کا اپنا مقام تھا. لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام کا ایسا ستیاناس ہوا پچھلے کچھ دہائیوں سے کہ ہر کوئی اس سے دور بھاگنے کی کوشش کررہا ہے. بنیادی سہولتوں کا فقدان ، غیر ضروری نصاب، اقربا پروری، کرپشن، رشوت خوری اور میرٹ کے برعکس وزرات تعلیم کی سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں بنیادی وجوہات ہیں۔ طلباء کو کوئی چیز عملی طور پر کرانے کی بجائے ان کو رٹنے پر مجبور کیا جانا اور تعلیمی نظام حکومت کی ناقص پالیسی اور تعلیم کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی وجہ سے بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے، اس کے علاؤہ کوئی بھی شخص نجی تعلیمی ادارے کے کردار کے مخالف نہیں، انہی کی بدولت سرکار سے بوجھ کم ہوا ہے، جو طلباء ایف اے سی کے امتحان میں نمایاں مقام حاصل کرگئے ہیں وہ مبارکباد کےمستحق ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تعمیر نوکالج کے احمد مصطفیٰ ولد زبیر قیصر نے 1067نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی، تعمیر نو کالج ہی کےا حمد مزمل خان ولد عبدالرشید خان اور بی آر سی ژوب کے محمد کامل خان ولد راز محمد نے 1062نمبر لیکر مشترکہ طور پر دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ بی آر سی لورالائی محمد اسحاق ولد عبدالرازق نے 1056نمبر لیکر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اعجاز احمد بلوچ، کنٹرولر پروفیسر شوکت علی سرپرہ اور سیکرٹری بورڈ محمد عظیم ساجدی نے بورڈ آفس میں گزشتہ روز اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ امتحانات میں کل 84489طلباء شریک ہوئے جس میں سے 79688کامیاب قرار پائے، کامیابی کا تناسب 88فیصد رہا فرسٹ ائیر میں 41545طلباء شریک ہوئے جن میں سے 35507کامیاب قرار پائے کامیابی کا تناسب 85.5فیصد رہا سیکنڈ ائیر میں 47944طلباء شریک ہوئے جن میں سے 44181کامیاب قرار پائے کامیابی کا تناسب 92.2فیصد رہا ۔ تعمیر نو کالج کے احمد مصطفیٰ ولد زبیر قیصر رول نمبر 344940نے 1067نمبرلیکر پہلی ، تعمیر پبلک کالج کے احمد مزمل خان ولد عبدالرشید خان رول نمبر 345132اور بلوچستان ریذیڈنشل کالج ژوب کے محمد کامل خان ولد راز محمد رول نمبر 172561نے 1062نمبر لیکر مشترکہ طور پر دوسری اور بلوچستان ریزیڈنشل کالج لورالائی کے محمد اسحاق ولد عبدالرازق رول نمبر 180008نے 1056نمبر حاصل کرکے تیسری حاصل کرلی ہے، آرٹس گروپ میں گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج سریاب روڈ کوئٹہ کے سید محمد مزمل آغا ولد سید مولوی عبدالاحد آغا رول نمبر 373413نے 982نمبر حاصل کرکے پہلی، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کوئٹہ کینٹ کی حافظہ سارہ حمید بنت ہمایوں حمید رول نمبر 388801نے 941نمبر حاصل کرکے دوسری اور گورنمنٹ انٹر کالج پہنور کے محمد فیاض فاروق ولد غلام فاروق رول نمبر 282351نے 940نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کرلی، کامرس گروپ میں بلوچستان ریذیڈنشل کالج لورالائی کے عبداللہ ولد زیتو خان رول نمبر 189006نے 1052نمبر حاصل کرکے پہلی، بلوچستان ریذیڈنشل کالج لورالائی کے سید محمد حسنین شاہ ولد سید امیر شاہ بخاری رول نمبر 189002نے 1034نمبر حاصل کرکے دوسری اور ریذیڈنشل کالج لورالائی کے ہی سید صفی اللہ شاہ ولد ارشد حسین شاہ رول نمبر 189001نے 1026نمبر لیکر تیسری پوزیشن حاصل کرلی فرسٹ ائیر سائنس گروپ میں کل 34793امیدوار شریک ہوئے جن میں سے 30075پاس ہوئے یوں کامیابی کا تناسب 86.4فیصد رہا آرٹس گروپ میں کل 6605امیدوار شریک ہوئے جن میں سے 5316پاس ہوئے یوں کامیابی کا تناسب 80.5فیصد رہا کامرس گروپ میں 147امیدوار شریک ہوئے116کامیاب رہے کامیابی کا تناسب 78.9فیصد رہا فرسٹ ائیر میں کل 41545امیدوار شریک 35507کامیاب ہوئے اور یوں کامیابی کا تناسب 85.5فیصد رہا اسی طرح سیکنڈ ائیر سائنس گروپ میں کل 34619امیدوار شریک ہوئے 32605امیدوار کامیاب ہوئے اور کامیابی کا تناسب 94.2فیصد رہا آرٹس گروپ میں کل 13164امیدوار شریک ہوئے 11424امیدوار کامیاب ہوئے کامیابی کا تناسب 86.8فیصد رہا ،کامرس گروپ میں 161امیدوار شریک ہوئے اور 152امیدوار کامیاب کامیابی کا تناسب 94.4فیصد رہا یوں کل امیدوار 47944امتحانات میں شریک ہوئے، 44181کامیاب ہوئے کامیابی کا تناسب 92.2فیصد رہا مجموعی طور پر 89489شریک ہوئے جن میں سے 79688کامیاب ہوئے اور کامیابی کا تناسب 89فیصد رہا۔اس رزلٹ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طبقاتی نظام تعلیم کے باعث غریب طالب علم ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا ، کیوں جہاں اچھی تعلیم ہے وہاں نان شبینہ کے محتاج طلباء کیسے داخلہ لے سکتے ہیں ؟ اور نہ حکومت کی جانب سے ایسی کوئی سہولت میسر ہے، ہمارا تعلیمی نظام حکومت کی ناقص پالیسی اور تعلیم کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی وجہ سے ناکامی کا شکار ہے . ہمارے ہاں طبقاتی بنیاد پر تعلیمی بجٹ تقسیم کیا جاتا ہے، جہاں مراعات یافتہ طبقے کے لوگوں کی بچے زیرِ تعلیم ہیں باقی سرکاری اداروں کے لیے کچھ بچتا نہیں۔
بلوچستان میں 75 فیصد اسکول ایسے ہیں جو رہائش کے قابل نہیں، دنیا میں سب سے زیادہ صفائی کا خیال اسکولوں میں رکھا جاتا ہے، اس کیلئے کئی افراد کو مختص کیا جاتا ہے
اسکولوں اور گندگی کی وجہ سے بچوں کی صحت پر برے اثرات مرتب نہ ہوں لیکن یہاں عالم یہ ہے کہ اسکول گائے بھیڑ اور بکریوں کی رہائش گاہ بن گئے ہیں۔ ان اسکولوں میں بچے و بچیاں خاک زیور تعلیم سے آراستہ ہونگے، جبکہ پورے بلوچستان میں 76 فیصد اسکول ایک عمارت میں ہیں۔
کیا ان عداد و شمار کو جاننے کے بعد آپ کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، خاص کر تعلیم کے میدان میں، بلوچستان میں جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے، اُس کا سب سے پہلا دعویٰ یہی رہا ہے کہ تعلیم کو بہتر بنانا اولین ترجیح ہے ، جبکہ وہی حکومت کے کارندے قابل اور محنتی افراد کو نظر انداز کر کے میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے من پسند افراد کو تعینات کرتے ہیں ۔ اس کے ذمہ دار حکومت کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جن کو سیاسی پارٹیاں ایسے افراد کو وزارت تعلیم کی کرسی پر بیٹھاتی ہیں کہ جن کا تعلیم سے دور کا واسطہ نہ ہو۔
[…] نیوز)محکمہ تعلیم میں خالی 9ہزار سے زائد اسامیوں پر جلد بھر تیاں کی جا […]