MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اقتصادی بحران اور ریاست

0 236

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
عالمی وبا کارونا کی وجہ سے پوری دنیا اقتصادی بحران کا شکار ہے,  ورلڈ بینک کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اقتصادی صورتحال اس قدر دگرگوں ہوئی ہے کہ ترقی یافتہ اور امیر ممالک کی صورتحال بھی متاثر ہوئی ہے, جیسا کہ پاکستان پہلے ہی ترقی پذیر ملک ہے, کارونا کے آثارات نے پاکستان کی معشیت کو بری طرح متاثر کیا,دوسری جانب اقتصادی حالات کی درستگی کے بجائے ہماری نظر میں سیاسی حالات کی بہت اہمیت ہے جبکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ ملک معاشی ابتری کی وجہ سے دیوالیے سے دوچار ہوسکتا ہے, وزات خزانہ کی جانب سے حالیہ بجٹ میں ہی آئندہ بجٹ کی صورتحال کا عندیہ بھی دیا جاچکا ہے, جس کے مطابق کہا گیا ہے کہ اگلے مالی سال میں بھی جی ڈی پی کی ترقی کی رفتار چھ فیصد نہ ہونے کی وجہ آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی اور ڈالر کی اونچی اڑان ہوگی, جسے قابو میں لانا بہت ضروری ہے, ایک عرصے سے پاکستان ناقص معاشی پالیسی پر گامزن ہے, گذشتہ 30 سالوں سے معاشی اعداد و شمار ملک کی کمزور معاشی حالات کی غمازی کرتے ہیں, ملک کے معاشی تقاضوں میں بہتری کے لئے نہ صرف حکمرانوں کو سخت فیصلے کرنے ہونگے بلکہ عوام کو بھی جذباتیت کو بالائے طاق رکھ کر ہوش سے رائے شماری میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا, کسی کی بھی منشا یا خوشی کے لئے اپنے ملک کے اداروں کی نشانہ تنقید برائے تضحیک بنانا مناسب نہیں ہے, تنقید کی جاسکتی ہے تضحیک کا کسی کو بھی کوئی حق نہیں ہے, جبکہ پہلے ہی ملک معاشی معاملات کی سنگینی کا شکار ہو, انتشاری ماحول مزید بے یقینی کو بڑھا کر ملک کے لئے اور بھی زیادہ شدید معاشی مشکلات اور پریشانیوں کا باعث بننے گا۔ ہمیں ایک بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیں کہ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں,  ملک کا استحکام اور اداوں کی ترقی بہت اہم ہے, ریاستیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خود دار یا مضبوط نہیں ہوتی ہیں بلکہ اس کے لئے  ground level  پر محنت اور لگن کے ساتھ خوب کام کرنا پڑتا ہے, خوابوں پر ممبنی تقاریر سے سود مند نتائج نہیں ملتے بلکہ اس کے لئے حقیقت پسندانہ محنت بھی کرنا پڑتی ہے, جس میں اداروں کے ساتھ ساتھ حکمرانوں , سیاستدانوں اور عوام کو بھی بہت ساری جگہوں پر کمپرومائز کرکے ملک کی بقا کے خاطر مشکل فیصلے اور کڑوے گھونٹ پینے پڑتے ہیں, اسی طرح ریاست کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ یکسوئی کے ساتھ ملک کے دیگر معاملات کی بحالی سمیت معاشی تقاضوں کاسود مند فائدہ لینے کے لئے بہتر سے بہترین حکمت عملی مرتب کرکے اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاروں کو اپنی جانب مائل کرتے ہیں تاکہ ملک میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ہو اور خوشحالی آئے, اگر حکمران جماعت ملک کو درپیش معاشی مسائل سے نکالنے کے لئے اپنے سب سے بڑے حریف سے بات چیت کی پیشکش کرتی ہے تو ملک کی خاطر ضد اور انا کو چھوڑ کر اس دعوت کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے, اگر ایسا ہو تو, اس سلسلے میں میڈیا کو بھی مثبت کردار ادا کرنا ہوگا, پاکستان کی خاطر سابقہ بیانات کو پس پشت ڈال کر میثاق معیشت کی پالیسی پر ساری سیاسی قوت کو  ایک پیج پر آنے والے موقع کو سراہانا ہوگا, اقتصادی بحران سے قوم کو سمجھنا چاہئیے کہ ٹی وی اور وٹس ایپ پر ملک کو سوپر پاور سمجھنے سے سوپر پاور نہیں بن جاتی۔ قوم کو “غدار” اور “محب الوطنوں” میں تقسیم کرنا اور دوسرے ممالک کو دشمن سمجھنا بند کیا جائے۔ حقیقت پسندی اپنائی جائے۔ اقتصادی ترقی اور عوامی بہبود پر توجہ دی جائے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.