MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کیا عمران خان بند گلی میں جا رہے ہیں؟

0 275

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالم نگار۔عمران امین

- Advertisement -

پاکستان میں معرض وجود میں آنے کے بعد سے مخلص اور دیانت دار سیاسی قیادت کا فقدان رہاہے۔آزادی کے بعد ابتدائی عشروں میں ہمارے حکمرانوں کی اکثریت چند خاندانوں تک محدود رہی مگر اللہ بھلا کرے مرحوم ضیا الحق کا ،جنہوں نے غیر جماعتی الیکشن کروا کر ملکی سیاست میں کئی نئے سیاسی چہرےمتعارف کروائے اور یوں حکمران خاندانوں کی تعداد میں تو اچھا خاصااضافہ ہوگیا مگر قوم کی بری تقدیر نہ بدلی۔ ظلم،ناانصافی،کرپشن،جبر اور بدمعاشی کی عملی شکل والے معاشرے میں بدبودار حکمرانوں کی جوتیاں چاٹنا ،اس قوم کا نصیب رہا۔ حکمران طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے قوم کا ہر فردایک پیدائشی غلام کی طر ح مالکوں کی طرف سے دئیے گئے دلفریب نعروں کو بلند بھی کرتا رہا اور مسلسل بدحالی کا شکار بھی رہا۔ہاں البتہ نئے اور پرانے حکمران خاندانوں کے وسائل اور آمدن میں وقت کے ساتھ ساتھ بے تحاشا اضافہ ہوتا رہا۔
پاکستان میں ہمیشہ سے حکومت اور اپوزیشن کا مخصوص کردار رہا ہے البتہ ہر بار حکومتی جماعت اور اپوزیشن کی جماعت بدلتی رہی۔جب حکومت مٰیں ہوتے ہیں تو آمر بن کرادارے کنٹرول کرنا اور من پسند انداز میں حکومتی اُمور چلانے کے خواہش مند ہوتے ہیں مگر جونہی اپوزیشن میں جاتے ہیں تو میرٹ پسندی،خودداری ، ملکی سلامتی،مہنگائی اور سازش کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔ماضی ہویا حال، ہماری سیاسی پارٹیوں کا یہی سیاسی چلن رہا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں کبھی بھی اُصولوں کی سیاست نہیں رہی بلکہ ہمیشہ سے پاور پالیٹکس رہی ہے۔ملکی سیاسی منظر نامے میں مقبول قیادت اور اداروں کے درمیان اختلافات کی صورت میں ہمیشہ سے یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ پاپولر عوامی قیادت کو دیوار سے لگا دیا جائے۔اگرچہ اس عمل سے وقتی طور پر مطلوبہ نتائج توملتے ہیں مگر یاد رکھیں جبر سے متاثرہ قیادت کا تشخص آنے والے وقت میں مزید اُبھرا۔اسی جبر کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا،ایک مقبول سیاسی رہنما کا عدالتی قتل ہوا اور ایک کو عوامی مقبولیت کے صلے میں ملک بدر ہونا پڑا۔پی پی پی اور نون لیگ کی اپنے اپنے صوبوں میں مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاپولر سپورٹ کو ڈی سپورٹ نہیں کیا جا سکتا ۔
اب ہم موجودہ ملکی سیاست کی بات کرتے ہیں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال میں کل کی اپوزیشن جو پچھلے دنوں ملکی اداروں پر الزامات لگا رہی تھی اب حکومت میں آنے کے بعداداروں سے مطمئن ہے جبکہ کل کی حکمران جماعت جو کل تک اداروں کی خود مختاری کی حمایت کرتی تھی آج انہی اداروں کے فیصلوں پر سوال اُٹھا رہی ہے۔اب کی باراپوزیشن پی ٹی آئی کو امریکہ مخالف کارڈ اور ملکی خودداری کارڈ نے مضبوط کر دیا ۔کیونکہ ملک کی 60%آبادی تیس سال سے کم عمر ہے اور نوجوان نسل میں عمران خان کی بہت زیادہ فین فائولنگ ہے لہذاملکی خودمختاری پر وہ سب پی ٹی آئی کا ساتھ دے رہے ہیں۔عمران خان کو مزید تقویت ،قومی قیادت کے بغیر پورے ملک میں ہونے والے عوامی احتجاج نے دی۔پھرپی ٹی آئی کی جانب سے جلسوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں آخری جلسہ لاہور میں ہوا۔عمران خان نے اب تک کسی بھی تقریر میں اپنی حکومتی کارکردگی کا ذکر نہیں کیا بلکہ اُن کی تقریروں میں اینٹی امریکہ اور ملکی خودداری کا ذکر ہی سننے کو ملا ہے ۔ابتدا میں عمران خان نے فوج اور عدلیہ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور یورپ کو بھی خوب کھری کھری سنائی مگر بعد میں انہیں سمجھ آگئی کہ فوری الیکشن کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ ضروری ہے جبکہ اینٹی امریکہ بیانیہ پرعمران خان کو جماعت کے اندر سے بھی مخالفت کا رجحان ملا ۔لہذا پہلے جلسے کے بعد سے فوج پر سے ہاتھ اُٹھا لیا گیااورمریکہ اور یورپ سے دوستی کی بات شروع ہو گئی مگر عدالتوں سے گلہ کیاجاتا رہا۔تاحال عمران خان اچھا کھیل رہے ہیں کیونکہ انہوں نے خلائی مخلوق کی گردان نہیں چھیڑی ،سلیکٹر کا لفظ نہیں بولا،میمو گیٹ اور ڈان لیکس جیسے وقوعہ سے دور ہیں،اینٹ سے اینٹ بجانے والا تاریخی جملہ ادا نہیں کیا اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند نہیں کیا اگرچہ اُن کے ساتھیوں کی جانب سے چندنا مناسب بیانات ضرور آئے ہیں مگر کپتان امریکہ دشمنی اورملکی سلامتی کا بیانیہ اتنا اُوپر لے گئے ہیں کہ جہاں عوام کے سامنے ایسے غیر ضروری بیانات اہمیت نہیں رکھتے ۔یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کا محتاط انداز ہی اُن کے لیے اقتدار کے راستے دوبارہ کھول سکتا ہے ورنہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائو کے بعد ہم نے مصر میں اخوان المسلمین،بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اور پاکستان میں ایم کیو ایم کا حشر دیکھا ہواہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف اپنی برطرفی کے بعد جی ٹی روڈ بیانیہ لے کر جب باہر نکلے تو انہیں اندازہ ہوا کہ سب قوتیں چڑھتے سورج کو سلام کرتی ہیں جبکہ عمران خان کے پیچھے بلا شک و شبہ اس وقت عوام کی ایک بڑی تعداد ہے۔موجودہ حکومت، اپوزیشن اور اداروں کے بقول عوام اب باشعور ہیں لہذا اب سب کا فرض ہے کہ باشعور عوام کی آواز سُنیں اور خصوصاً عمران خان کا فرض ہے کہ نہ صرف سُنیں بلکہ اس کی طاقت کا ٹھیک طرح سے استعمال کریں تاکہ وہ اگلی باری برسر اقتدار آکر اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے ملک و قوم کی تقدیر بدل سکیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.