MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بلوچستان اسمبلی اجلاس، سڑکوں کی تعمیر میں تاخیر پر جواب طلب، اساتذہ کی کمی پر قرارداد منظور

1 301

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ (مسائل نیوز) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں میں استاتذہ کی کمی کو دور کرنے کی قرار داد منظور جبکہ کوئٹہ کے ارکان اسمبلی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ، چےئر مین قادر علی نائل نے شہر کی سڑکوں کی تعمیر کی تاخیر پر کوئٹہ پیکج کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے تفصیلات طلب کرلیں، سرکاری حکام کو سوالات کے جوابات وقت پر دینے کی ہدایت ، جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنے کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین کے رکن قادر علی نائل کی زیر صدارت میں شروع ہوا، اجلاس میں سوالات کے محرکین اور وزراءکی موجودگی کے باعث وقفہ سوالات ملتوی کردیا گیا جبکہ بی این پی کی رکن شکیلہ نوید دہوار نے سوالات کے جوابات نہ دینے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم اہم ادارہ ہے لیکن سوالات کے جوابات نہیں دیئے جارہے ہیں ایک سال سے سوال جمع کرایا ہے لیکن محکمہ دلچسپی نہیں لے رہا ،پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ زیرے نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے رولنگ کے باوجود محکموں کے سیکرٹریز اجلاس میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیںجبکہ سوالات کے جوابات بھی وقت پر نہیں دئےے جاتے اس موقع پر چےئرمین قادر علی نائل نے رولنگ دی کہ محکمہ تعلیم کے سیکرٹری کو مراسلہ جاری کیا جائے اور تمام سوالات کے بروقت جوابات دئےے جائیں ،اجلاس میں رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کی جانب سے محکمہ توانائی سے متعلق توجہ دلاو نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر برائے محکمہ توانائی کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کروائی کہ بلو چستان انرجی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو کون ہے اور ان کا بورڈ آف گور ننگ کتے اراکین پر مشتمل ہے ان کے نام بمعہ ولدیت اور لوکل کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے جس پر اجلاس کی صدارت کر نے والے چیئرمین قادر علی نائل کی جانب سے محکمہ توانائی حکام کو دو دن میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی جس کے بعد توجہ دلاﺅ نوٹس کو نمٹا دیا گیا اجلاس میں عبدالواحد صدیقی کی عدم موجودگی پر انکی قرار داد کو ڈیفر کردیا گیا جبکہ پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ زیرے نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہاہر گاہ کہ کوئٹہ کی آبادی تقریباً 35لاکھ سے سے زائد ہو چکی ہے اور اس کے اطراف میں جو گرلز اور بوائز اسکو لز قائم ہیں ان سکولز میں طلباءو طالبات کی تعداد بہت زیا دہ ہے اور اس کے مقابلے میں اسا تذہ کی تعداد بہت کم ہے جسکی وجہ سے ان علا قوں کے اکثر طلباءوطالبات تعلیم سے محروم ہورہے ہیںلہٰذ یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفا رش کرتا ہے کہ محکمہ تعلیم کوئٹہ کے مضافات جن میں مشر قی بائی پاس، سریاب ، کچلاک ، مو سیٰ کا لونی، خلجی کالونی، بڑیچ آباد، پشتون آباد میں اساتذہ کی کمی دور کر نے کی بابت عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائیں قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے محرک نصر اللہ زیرے نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25Aکے تحت مفت بنیادی تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی تو نافذ ہے لیکن عملا اس پر کوئی اقدامات نہیں ہورہے مستونگ، کردگاپ، پنجپائی ، برشور سمیت صوبے کے 75فیصد اسکولوں میں استاتذہ اور سہولیات نہ ہونے کے بعد یہ اسکول بند ہیں کوئٹہ شہر اور مضافاتی علاقوں میں قائم اسکولوں میں استاتذہ کی تعداد میں شدید عدم توازن ہے شہر کے وسطی علاقوں مسجد روڈ، گوردت سنگھ روڈ، ریلوے کالونی سمیت دیگر علاقوں میں انتہائی کم تعداد میں طلباءو طالبات کے لئے بڑی تعداد میں استاتذہ موجود ہیں ریلوے اسکول کی پرنسپل نے خود لکھ کردیا ہے کہ انکے سکول میں 30اضافی استاتذہ تعینات ہیں انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں میں استاتذہ نہ ہونے کے برابر ہیں عدم توازن کے باعث کئی اسکولوں میں تدریسی عمل بھی تعطل کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ باہر کے لوگ کوئٹہ میں پوسٹنگ حاصل کر کے یہاں کے مقامی لوگوں کا حق مارتے ہیں اس سلسلے کو بند کیا جائے ،محکمہ تعلیم میں فوری طور پر ریشنلائزیشن کی جائے صوبے کے بند سکولوں کو کھولا جائے جبکہ کوئٹہ کا کلسٹر بجٹ مضافاتی علاقوں میں قائم اسکولوں کے لئے مختص کیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کے سکولوں کا مسئلہ حل کر نے کے لئے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی ، وزیرتعلیم،سیکرٹری تعلیم اور دیگر افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو صورتحال کا جائزہ لیکر بہتری کے لئے اقدامات اٹھائیں ،قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چےئرمین اختر حسین لانگو نے کہا کہ تعلیم کا مسئلہ کوئٹہ نہیں پورے بلوچستان کا ہے جن لوگوں کی تعیناتی مضافاتی علاقوں میں ہوتی ہے وہ جائے تعیناتی پر کچھ وقت گزارنے کے بعد اثر و رسوخ استعمال کر کے شہر آجاتے ہیں استاتذہ کی بڑی تعداد وزرائ، سیکرٹری سمیت دیگر حکام کے ساتھ تعینات ہے اس کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے کہا کہ شہر کی آبادی اب کم ہوگی ہے پرانے اسکولوں کونئی جگہ قائم کیا جائے انہوں نے کہا کہ ایوان میں حکومتی واپوزیشن ارکان اور آفشلز موجود نہیں ہیں ہمیں نظام کی بہتری کے لئے سنجدیگی دیکھانی ہوگی ، بی این پی کی رکن شکیلہ نوید دہوار نے کہا کہ صوبے میں 15ہزار سے زائد اسکول ہیں جن میں سے بیشتر بند ہیں صوبے کے گرلز سکولوں کی بڑی تعداد بند ہونے کی وجہ سے آبادی کا بڑا حصہ ناخواندگی کا شکار ہے بوائز اسکولوں میں استاتذہ کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ گرلز سکولوں پر بھی توجہ دی جائے انہوں نے کہا کہ کلسٹر بجٹ کو ڈی سینٹرلائز ہونا چاہےے جبکہ محکمہ تعلیم میں مانٹریننگ کا نظام بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے ، بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کچی بیگ کے ایک سکول میں 80طالبات ایک کمرے میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں قرارداد منظور ہوتی ہیں مگر ان پر عملدآمد بھی ہونا چاہےے انہوں نے کہا کہ سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے اسکولوں میں استاتذہ اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے سول اور بی ایم سی ہسپتال کے علاوہ کسی ہسپتال میں ڈاکٹر میسر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہر سال بجٹ میں ہزاروں آسامیاں رکھی جاتی ہیں مگر ان پر بھرتی کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان آسامیوں کے لئے رکھے گئے فنڈز بھی لیپس ہو جاتے ہیں حکومت عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دے انہوں نے کہا کہ رواں سال بھی توقع ہے کہ 25سے 30ارب روپے کے فنڈز لیپس ہوجائیں گے عوام کے کام نہیں ہورہے سبزل او ر سریاب روڈ پر کام التواءکا شکار ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کے ارکان اسمبلی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ تعلیمی اداروں کا مسئلہ حل کیا جائے ، جمعیت علماءاسلام کے رکن یونس عزیز زہری نے کہا کہ کوئٹہ کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں تعلیمی اداروں کی حالت اس سے بھی ابتر ہوگی انہوں نے کہا کہ خضدار میں 166اسکول بند ہیں چھ ماہ ہوگئے ہیں صوبے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی حکومت سنجیدہ دیکھائی نہیں دیتی اگر معاملات کو سنجیدیگی سے نہیں دیکھا گیا تو یہ ہمارے لئے مصیبت بن جائیں گے اور الیکشن میں ہمیں عوام کو اس پر جوابدہ ہونا پڑیگا انہوں نے کہا کہ حکومت نے بہتری کے دعوے کئے مگر وہ جام کمال کی حکومت سے بھی آگے چلے گئے ہیں ،صوبائی وزیر محمد خان لہڑی نے کہا کہ کابینہ نے صوبے میں خالی آسامیوں پر بھرتی کے میکنزم کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد محکمہ تعلیم کی 8ہزار آسامیوں پر جلد بھرتی کا عمل شروع ہو جائےگا بعدازاں چےئر مین قادر علی نائل نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سیکرٹریٹ نے سیکرٹری تعلیم سے رابطہ کر کے انہیں اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا اسمبلی حکام فوری طور پر منظور شدھ قرار داد کو سیکرٹری تعلیم کو بھجوائیں اور کوئٹہ کے ارکان اسمبلی کی سطح پر کمیٹی بنائی جائے جو اسکولوں کی صورتحال کا جائزہ لے ساتھ ہی وزیراعلی اور سیکرٹری تعلیم صوبے کے دیگر علاقوں کا دورہ کریں اور ارکان اسمبلی کے تحفظات کو سنتے ہوئے انہیں دور کرنے کے اقدامات اٹھائیں انہوں نے رولنگ دی کہ کوئٹہ پیکج کے پروجیکٹ دائر یکٹر شہر میں سڑکوں کی تعمیر کے کام میں سست روی کی وجوہات ارکان اسمبلی کو بتائیں بعدازاں نصر اللہ زیرے کی قرار داد کو منظور کرنے کے بعد اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو دوپہر اڑھائی بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

- Advertisement -

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] (مسائل نیوز) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میر اختر حسین لانگو نے کہا ہے کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی قانون کے مطابق تمام […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.