لاہور (مسائل نیوز) تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے رات 8 بجے ریسٹورنٹس بند کرنے کے فیصلے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔انہوں نے کہا ہے کہ رات آٹھ بجے ریسٹورںٹس بند کرنے کا فیصلہ اس انڈسٹری سے جڑے لاکھوں لوگوں کی کمر توڑ دے گا۔حکومت کے پاس تیل خریدنے کے پیسے نہیں تو بجلی بچانے کا یہ کوئی طریقہ نہیں۔ فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ساری کابینہ ہروقت بیرونی دوروں پررہتی ہے،ان کی عیاشیاں ختم کرنے کی بجائے بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے وفاقی کابینہ کے ریسٹورنٹس رات 8 بجے اور شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بغیر مشاورت مارکیٹس رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔
مرکزی تنظیم تاجران کے عہدیداروں نے کہا کہ وفاق، صوبوں کی لڑائی میں تاجروں کو تختہ مشق بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور حکومت نمائشی اقدامات کے بجائے معاشی بحران کے حل پر توجہ دے۔
- Advertisement -
یاد رہے کہ وفاقی حکومت توانائی بچت پالیسی کی منظوری جمعرات کو دے گی،پالیسی کے تحت بازاراورمارکیٹیں رات 8 بجے اور ریسٹورنٹس بند کرنے کی تجویز ہے،20 فیصد سرکاری ملازمین گھر سے کام کریں گے، جبکہ حکومتی اقدامات سے 62 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دو روز میں چاروں صوبوں کو مختلف امور پر آگاہ کریں گے،پاکستان واحد ملک ہے جہاں رات گئے تک مارکیٹیں کھلی ہوتی ہیں۔صبح ہمارے ہاں 12ایک بجے مارکیٹیں کھلتی ہیں،ہم دن کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھاتے،ملک اس سنگین معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے وسائل میں رہنا ہے تو ہمیں چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا ہوگا،رات ایک بجے یا 2 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا عمل سمجھ نہیں آتا۔