MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کوئٹہ شہر ایک بار پھر مارکیٹ مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنایا گیا۔

0 6

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

*اٹا۔ مہنگا۔ گیس ناپید۔ بجلی
غائب*
صوبائی حکومت اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دیں سکتی۔

- Advertisement -

***تحریر۔ تجزیہ۔
نذر بڑیچ
چیف کوارڈینیٹر
پامیر کنزیومر سوسائٹی کوئٹہ***
ہر سال رمضان آتے ہی مسلمان مارکیٹ مافیا منفی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اشیاء خورد نوش جن کو بنیادی ضروریات زندگی کے طور پر انسان استعمال کرتے ہیں۔ مارکیٹ سے غائب کرکے قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیتے ہیں پھر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسلمانوں کا خون چوستے ہیں۔ انتظامیہ کے چند مخصوص افسران ان مارکیٹ مافیا کا سہولت کار بن کر مختلف قسم کے ڈرامے کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر کوئٹہ میں آٹا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ حکومت عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو مصروف عمل رکھتے ہیں کہ حکومت حرکت میں آئی ہے۔ درست بات ہے ڈپٹی کمشنر اور ضلعی انتظامیہ اپنا کام کررہی ہیں۔ لیکن مسلہ حل نہیں کرسکتے کیونکہ آٹا پنجاب سے اتا ہے ۔اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ضلع تک محدود اختیارات رکھتے ہیں۔ جبکہ آٹا بین الصوبائی مسلہ ہے۔اگر حکومت سنجیدہ ہے مصنوعی جعلی مہنگائی سے عوام کو ریلیف اور چھٹکارہ دینا چاہتے ہیں تو صوبائی سطح پر پنجاب حکومت سے بات کریں یا خود پاسکو یا دیگر اداروں سے شہر اور صوبے میں وافر مقدار میں گندم یا آٹا لاکر عوام کو ارزاں نرخ پر فراہم کریں ۔
اٹا۔ پنجاب سے۔
مرغی پنجاب سے۔
الو۔ کینو پنجاب سے
یہ ان کی مرضی ہے ہمیں کس طریقے یا جس قیمت پر دیں۔ جس چیز کی بلوچستان کو ضرورت ہے پھر سندھ پنجاب بین الصوبائی پابندی لگاتے ہیں۔ بلوچستان واحد صوبہ جس کا ایک شخص جب سندھ یا پنجاب جاتے ہیں لاہور یا کراچی تک پندرہ۔ بیس جگہ پر جامہ تلاشی کے ساتھ بار بار شناختی کارڈز دیکھاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔ آلو پیاز۔ سیب ۔ انار کے ٹرک پنجاب سندھ کراچی تک راستے میں کس اذیت کے بعد پہنچتے ہیں۔ لیکن جب ہہی گاڑی۔ یا انسان جب لاہور کراچی سے لاوارث شہر کوئٹہ آتے ہیں تو پھر اخوت دوستی۔ بھائی چارے جیسے القابات سے تشریف لاتے ہیں اور کوہٹہ شہر میں حکمران بن جاتے ہیں۔
آج کوہٹہ شہر عملہ دوسرے صوبوں کی کالونی کے طور پر ان کے رحم و کرم پر ہے۔
بات مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے پر صوبائی حکومت کی خاموشی اور عوام کے آنکھوں پر مٹی ڈالنے کے ہرانے طریقے سے مزید کب تک ورغلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگے۔
کوئٹہ میں مصنوعی جعلی اور مارکیٹ مافیا کے ہاتھوں یرغمال شہر کو جان چھڑانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
صرف رمضان میں بے دریغ کمائی اور بے شمار عوام کا خون چوسنے کے عمل سے حکمرانی کب تک ہوگی۔
عوام کو اذ خود بھی اس جعلی مہنگائی مارکیٹ مافیا،کے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ مارکیٹ مافیا اٹا،یا دیگر اشیاء خورد نوش کی مصنوعی قلت پیدا،کرکے اپنے مرضی کی قیمت وصول کرنے والو کے سازش کا ادراک کرنا لازمی ہے۔
ورنہ صرف اٹا،نہیں بلکہ رمضان سے قبل۔ گوشت۔ دودھ۔ کھجور۔ سبزی۔ و دیگر خوراکی اجناس کی مصنوعی قلت پیدا،کرکے من پسند قیمت مقرر کرکے بلیک منی کا ریکارڈ قائم کرنے کی تیاری ہوچکی ہے۔
انتظامیہ اس خاموشی سے بری الذمہ نہیں۔
انتظامیہ کو بھی فوری طور پر اشیاء خورد نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ پردے کے پیچھے مارکیٹ مافیا کو محفوظ راہ سے فرار نہیں کیا جاسکتا۔ ۔
ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر پرائس کنٹرول کمیٹی کے ساتھ مشاورت اور اکٹھے ہوکر مافیا کے خلاف عوام کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو نبھانا ہوگا۔

 

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.