MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

تامل فلموں کا ہیرو

1 396

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
جب ہم چھؤٹے تھے تو اکثر تامل چینل لگا کر ایکشن موویز دیکھا کرتے تھے, بچپن میں اوٹ پٹانگ ایکشنز بہت پسند آتے تھے, جس میں عمر رسیدہ ہیرو جسم میں پوست 18 گولیوں کے بعد بھی 50 لوگوں سے لڑائی کرکے اپنی ہیروین کو گود میں اٹھا کر بھاگ رہا ہوتا ہے, اس کی دنوں ٹانگوں میں گولیاں لگی ہوتی ہیں مگر خوب برق رفتار بھاگ رہا ہوتا ہے, ہم تھے تو بچے مگر حقیقت پسندی کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے کہ یہ تو فلموں میں ہی ہوتا ہے, مگر میرے لیڈر نے اسے ثابت کیا کہ ہم غلط تھے, اوائل نومبر میں میرے ہینڈسم کپتان پر ناعاقبت اندیش نے جان لیوا حملہ کیا, جس میں الله کے فضل سے میرے محترم لیڈر محفوظ رہے مگر بدقسمتی سے ان کی ٹانگ میں ایک نہیں, دو نہیں, تیں نہیں بلکہ چار جی ہاں 4 گولیاں لگی تھیں, ابتدا میں یہ گولیاں دونوں ٹانگوں میں پوست تھیں پھر ایک ہی ٹانگ میں آگئیں کیونکہ خان زخمی ٹانگوں کے باوجود خود چل کر اسپتال گئے تھے وہ بھی کسی عام  بلکہ کینسر اسپتال میں زیرعلاج ہوئے کیونکہ وہ انہوں نے بنوایا ہے, جو کہ واقعی قابل تحسین بات ہے, ہاں تو بات ہو رہی تھی تامل فلموں کی جس میں عمر رسیدہ مگر ورزشی بدن کا ہینڈسم ہیرو زخمی ہوکر بھی توانا نظر آتا ہے, تامل فلمی سین کو میرے کپتان نے ہوبہو سچ کر دیکھایا یقینا یہ ویژنری لیڈر کی علامت ہوتی ہوگی بالکل ایسے جیسے یوٹرن لینے والا عظیم لیڈر ہوتا ہے, جس میں میرے ہینڈسم کپتان نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے, اسی لئے انہوں نے اپنے اقتدار میں آنے سے قبل اور اس کے دوران بار بار یوٹرنز لئے جسا کہ خان صاحب نے 90 دن میں کرپشن ختم کرنے کا دعوی کیا بلکہ زیادہ جذبات میں  آکر اپنے ہی بتائے ہوئے نوے دن کے دورانیے کو یوٹرن لیتے ہوئے نو دن پر مشتمل کیا اور جیسے ہی اقتدار ملا تو یہ کہتے نظر آئے کہ نیا پاکستان کی بٹن نہیں ہے کہ جسے دبا کر فوری نیا پاکستان مل جائے گا, خاں صاحب مہنگائی کی وجہ حکمرانوں کی کرپشن بتایا کرتے تھے, جبکہ خود صادق و امین کا لقب لیکر خوب مہنگائی کرتے رہے, عمران خان دھرنے اور احتجاج کو بلیک میلنگ کہا کرتے تھے جبکہ ان دونوں معاملات میں اں کا کوئی ثانی نہیں ہے, عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بنکر
قرضہ نہیں لوں گا, لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے
نے آئی ایم ایف سمیت متعدد سے قرضہ لیا, عمران خان کہا کرتے تھے کہ پیٹرول، گیس، بجلی سستی کروں گا جبکہ پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کیا گیا, ڈالر مہنگا نہیں کروں گا مگر  پی ٹی آئی کی حکومت میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا,خان نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندوستان سے دوستی نہیں کروں گا مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے ابتدا میں بھارت کی جانب خیر سگالی کے لیے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا تاہم بعد میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے,ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہیں دوں گا تاہم انہوں نے  مسلم لیگ (ن) کی جانب سے متعارف کروائی گئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو معمولی رد و بدل کے ساتھ شروع کیا, عمران خان کا کہنا تھا کہ میں آزاد امیدواروں کو نہیں لوں گا, مگر حکومت بنانے کے لیے اراکین کی تعداد مکمل کرنے کے لیے آزاد اُمیدواروں کو شامل کیا, سیکیورٹی اور پروٹوکول نہیں لوں گا اس پر عمل دارآمد بھی نہیں, وزیراعظم کو لائبریری اور گورنر ہاؤس پر بلڈوزر چلاؤں گا اس اعلان پر بھی عمل نہیں,بیرون ملک دورے نہیں کروں گا عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ایک سال ہی میں امریکا، سعودی عرب اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک کے کئی دورے کیے,عام کمرشل فلائٹ میں جاؤں گا اس اعلان پر بھی عمل درآمد نہیں کیا,ہیلی کاپٹر کے بجائے ہالینڈ کے وزیراعظم کی طرح سائیکل پر جاؤں گا اب تک اس اعلان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا,میرے ہینڈسم کپتان کہا کرتے تھے کہ مختصر کابینہ بناؤں گا, عمران خان کی کابینہ میں وزرا اور مشیروں کی تعداد میں متعدد مرتبہ اضافہ کیا, میرے لیڈر کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس پر الزام ہوگا اسے عہدہ نہیں دوں گا لیکن ایسا بھی نہ ہوا پی ٹی آئی کے متعدد وزرا کو مقدمات کا سامنا رہا,جو حلقہ کہیں گے کھول دوں گا, ایسا بھی نہ ہوا,میٹرو بس نہیں بناؤں گا,  خان اس کے بھی برعکس نظر آئے پشاور کی بس سروس سب کے سامنے ہیں,میرے ہینڈسم کپتان کا ایک اور فرمان تھا کہ مختصر کابینہ بناؤں گا مگر یہاں بھی وہ اپنے الفاظ کی پاسداری نہ کرتے دیکھائی دئیے, 35 پنجر سے غیر ملکی سائفر سے لاتعلقی تک میرے لیڈر کا ہر یوٹرن ویژنری ہے, حال ہی میں توشہ خانہ کی قیمتی گھڑی کی فروخت کے حوالے سے عمر فاروق ظہور کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ شہزاد اکبر اور فرح گوگی نے اس وقت کے وزیراعظم کو تحفے قیمتی اشیا فروخت کیں, عمران خان نے ان اشیا کی قیمت گوشواروں میں کم کرکے بتائی,عمران خان نےگھڑی اسلام آباد میں پانچ کروڑ دس لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا دعویٰ کیا۔ مبینہ خریدارعمرفاروق نے گھڑی فرح خان سے اٹھائیس کروڑ میں خریدنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ذرا آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ عمر ظہور کون ہے?
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایف آئی اے نے عمر فاروق ظہور کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم نہیں کیا ہے,عمر فاروق ظہور کا نام اس وقت موضوع بحث بن چکا ہے کیونکہ انہوں نے محض ایک روز قبل ایک میڈیا گروپ کو دیے گئے انٹرویو میں گزشتہ حکومت سے 20 لاکھ ڈالر مالیت سے زائد میں ایک بیش قیمت گھڑی خریدنے کا دعویٰ کیا جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو تحفے میں دی تھی۔تاہم عمران خان نے اس الزام کی تردید کی ہے اور مبینہ خریدار اور متعلقہ پاکستانی میڈیا گروپ کے خلاف برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کے دوران عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمے کی پیروی میں ایف آئی اے سرگرم رہی لیکن اپریل میں مسلم لیگ(ن) کے برسراقتدار آنے کے بعد مقتدر حلقوں کے عمر فاروق ظہور سے مبینہ رابطوں کے پیش نظر ایف آئی اے کی اس مقدمات میں دلچسپی کم ہو گئی تھی۔
تاہم ایف آئی اے اسلام آباد کے ذرائع نے بتایا کہ ’عمر فاروق ظہور کے خلاف کیس بند نہیں ہوا ہے، ہم اس پر پیش رفت کر رہے ہیں‘۔جنوری میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے عمر فاروق ظہور کے عالمی مالیاتی جرائم میں ملوث ہونے پر متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ کے ساتھ ان کی وطن واپسی کے لیے چار رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ایف آئی اے کے 2 سابق سربراہان بشیر میمن اور سعود مرزا سے بھی عمر ظہور کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے کے الزام میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔
ایف آئی اے کو ڈائریکٹر انٹرپول نیشنل سینٹرل بیورو (این سی بی)، جوائنٹ سیکریٹری داخلہ اور وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ساتھ عمر ظہور اور شریک ملزم محمد زبیر کی حوالگی اور 2 کم سن بچیوں کی وطن واپسی کے حوالے سے اقدامات کرنا تھے۔دوران تفتیش انٹرپول این سی بی اسلام آباد کے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی کہ ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر نے اغوا ہونے والی کمسن بچیوں (زینب عمر اور زونیرہ عمر) کی تلاش اور وطن واپسی کے لیے جاری کیے گئے انٹرپول کے نوٹس واپس لے لیے ہیں۔زینب عمر اور زنیرہ عمر کو ان کی والدہ صوفیہ مرزا (پاکستانی ماڈل) کی قانونی تحویل سے غیر قانونی طور پر نکال کر جعلی شناختی کارڈز/سفری دستاویزات پر بیرون ملک منتقل کیا گیا تھا۔ایف آئی اے لاہور کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم عمر ظہور سے اس حوالے سے تفتیش کی جانی چاہیے تھی لیکن انٹرپول کے ریڈ وارنٹ کی واچ لسٹ میں ہونے کے باوجود انہیں 19-2018 میں ایف آئی اے کی جانب سے غیر قانونی طور پر پاکستان آنے اور جانے میں سہولت فراہم کی گئی۔ایف آئی اے نے اس حوالے سے بھی تحقیقات کیں کہ سوئٹزرلینڈ میں ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم یا نورڈیا بینک فراڈ اوسلو 2010 سے حاصل کردہ 8 کروڑ 90 لاکھ کرونر کی رقم کا کوئی حصہ انہوں نے پاکستان میں منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کیا یا نہیں۔
ایف آئی اے اس بات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ عالمی سطح پر مطلوب مفرور ملزم عمر ظہور 2017 سے 2019 کے درمیان کم از کم 32 بار پاکستان آنے میں کیسے کامیاب ہوا حالانکہ اس کے خلاف 2015 میں ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
دوسری جانب
دبئی میں مقیم پاکستانی نژاد نارویجن کروڑ پتی تاجر عمر فاروق ظہور کے پاس یہ چیزیں ثابت کرنے کے لیے مکمل شواہد موجود ہیں کہ اس نے سابق مشیر داخلہ شہزاد اکبر سے مہنگی ترین گھڑی اور تین دیگر توشہ خانے تحفے 75 لاکھ درہم میں خریدے۔ تحائف میں ایک گھڑی، ایک انگوٹھی، کف لنکس کا جوڑا اور قلم شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تمام توشہ خانہ کی چیزیں خریدنے کے بعد مجھے بلیک میل کرنے کے لیے سابق مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا سہارا لیا، اور اس کے لیے انہوں نے مجھ پر منی لانڈرنگ کے جعلی مقدمات درج کروائے گئے۔
عمر فاروق ظہور نے ایک حلفے نامے میں بتایا کہ میں کراچی میں رہتا ہوں، اور پختہ یقین اور حلف کے ساتھ اعلان کرتا ہوں میں نے توشہ خانہ کے تحائف خریدے ہیں، اور ان کی قیمت 75 لاکھ اماراتی درہم ہے۔
حلف میں بتایا گیا کہ توشہ خانے کے چار تحائف میں نے خریدے، ان میں لگژری چیزیں شامل تھیں، یہ تمام اشیاء خریدنے سے قبل مجھے شہزاد اکبر ملے اور تمام تحائف دکھائے، جس کے بعد میں نے خریدنے میں فوری آمادگی ظاہر کر دی۔ تمام چیزیں دیکھنے کے بعد میں نے قیمت پر بات چیت نہیں کی، مجھ سے جو کچھ مانگا گیا میں نے دیدیا، کیونکہ مذکورہ تحائف بہت زیادہ قیمتی تھے، جب میں نے یہ تحائف خرید لیے تو شہزاد اکبر نے میرا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں (عمر فاروق) اس معاملے پر کسی سے بات نہ کروں جس پر میں نے اتفاق کیا۔
عمر فاروق ظہور نے کہا کہ جب تک شہزاد اکبر نے دوبارہ رابطہ نہیں کیا میں خاموش رہا، اس دوران اپنی دونوں بیٹیاں واپس منگوانے کی استدعا کی۔ میں اور سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا گزشتہ 14 سال سے اپنی جڑواں بیٹیوں کی تحویل کو لیکر عدالت میں کیس لڑ رہے ہیں۔ اسی دوران شہزاد اکبر نے وارننگ دی تھی کہ اگر میں نے بیٹیوں کو پاکستان نہیں بھیجا اور صوفیہ مرزا کے ساتھ اس (اداکارہ) کی شرائط پر تنازعہ طے نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج بھگنتا ہونگے۔
حلف نامے میں پاکستانی معروف تاجر نے بتایا کہ میں نے بلیک میل ہونے سے انکار کر دیا اور شہزاد اکبر نے میرے خلاف دہشت گردی جیسے مقدمات کے اندراج کی مہم شروع کی، سابق مشیر داخلہ نے عالمی مالیاتی جرائم کے جعلی مقدمات کے اندراج کے لیے ایف آئی اے کا استعمال کیا بدقسمتی سے میری سب سے بڑی غلطی اس مہنگی گھڑی کو خریدنا تھی۔ مجھ پر 16 ارب روپے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر انکوائری شروع کی گئی جبکہ نام ای سی ایل میں ڈالا گیا, گھڑی کے مبینہ فروخت نے عمران خان کی دیانت پر براہ راست سوال اٹھا دئیے ہیں.
آخر ایک مشکوک شخص عمران خان نے یہ قمیتی اشیا کیوں فروخت کیں, اگر فواد چوہدری کے مطابق وہ لوگ ان سے نہیں ملے تو پھر کیسے یہ تمام تحائف عمر ظہور کے پاس ہیں?
اگر اسے تحائف فروخت کیے گئے، جو قانونی طور پر غلط نہیں ہے، رسیدیں کہاں ہیں?
خریدار کا دعویٰ ہے کہ اس نے اعلان کردہ رقم سے 8 گنا زیادہ ادائیگی کی ہے, یہ رقم پاکستان کیسے پہنچی?
اگر واقعی پیسہ بغیر بینکنگ چینلز کے لانڈرنگ کیا گیا تھا  تو کیا یہ آیان علی اور پاناما سے مشہبے بات نہیں ہے?
اگر خریدار کے دعوے کے مطابق رقم اتنی ہی تھی، جس کی ادائیگی اس نے کی، تو سال کے لیے ٹیکس ریٹرن میں صرف 5 کروڑ کا اضافہ کیوں ہوا؟ کیا عمران خان 40 کروڑ ٹیکس سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے؟

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] دہلی (مسائل نیوز)بھارتی خاتون کے ہاں جنم لینے والی چار ٹانگوں والی بچی نے سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.