کراچی کی تقدیر کب جاگے گی؟
تحریر:کنول زہرا
- Advertisement -
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے۔ منی پاکستان کی آبادی لگ بلگ تین کڑوڑ شمار کی جاتی ہے، پاکستان کے ہر شہر سے تعلق رکھنے والے افراد بانی پاکستان کے شہر کے باسی ہیں، یہ شہر ہر رنگ، نسل، قوم، زبان سے تعلق فرد کا دوسرا گھر ہے، ہر ایک فرد کی تہذیب کا امین کراچی کھانوں کے اعتبار سے بھی بہت مقبول ہے، غریب پرور شہر کا طعام انتہائی لذیذ اور قمیت کے لحاظ سے بھی معیاری ہوتا ہے۔ شہر قائد میں 50 روپے تک میں بھی پیٹ بھر کر کھایا جاسکتا ہے، فلاحی اعتبار سے اس شہر کا کوئی ثانی نہیں ہے، جگہ جگہ غریبوں کی امداد کے کوئی نہ کوئی مرکز ضرور موجود ہوتا ہے، کراچی کی شاپنگ کو بھی پذئرائی حاصل ہے، مزار قائد سے لیکر سمندر کی موجوں تک یہ شہر اپنی مثال آپ ہے۔
کراچی پاکستان کا معاشی اور مالیاتی دارالحکومت ہے، جی ڈی پی میں کراچی35 فیصد حصہ دیتا ہے، وفاق میں65 فیصد ریونیو اور صوبہ سندھ میں 70 فیصد حصہ شامل کرتا ہے، اس کے باوجود اس دودھ دینے والی گائے کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، دکھ تو یہ بھی ہے کہ بندرگاہ اور پورٹ بن قاسم ہونے کے باوجود حکومتیں وہ فائدہ نہیں اٹھا سکا، جو کراچی اور پاکستان کا حق تھا۔
بانی پاکستان کا شہر ان گنت مسائل میں گھیعا ہوا ہے، جس میں انسانی ضروریات کے بنیادی مسائل سے لیکر ٹریفک، انفرا اسٹرکچر، اغوا، اسٹرئیٹ کرائمز، جگہ جگہ کچرا، بجلی، گیس کا فقدان، معیار تعلیم کی زبوں حالی غرض کہ ضروریات زندگی سے وابستہ ہر سہولت سے ناپید یہ شہر بے بسی کی مکمل تصویر بن چکا ہے مگر پاورکوریڈورز والوں کو شرم نہیں آتی ہے، سیاست کی نذر ہوجانے والے اس شہر کے سر پر کوئی ہاتھ رکھنے کو تیار نہیں ہے، اس شہر کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے، یہ بتایا بھی نہیں جاتا ہے اور سزا ختم بھی نہیں کی جاتی ہے۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے مرتضی وہاب کامیاب ہوئے ہیں، ماضی قریب میں ایڈمنسٹریٹر کراچی بھی رہ چکے ہیں، یعنی کراچی کے رموز سے آشنا ہیں مگر کیا وہ مسائل کے آماجگاہ کراچی کے مسائل کو حل کراسکیں گے؟ کیا وہ اہلیان کراچی کا اعتماد جیت سکیں گے؟ انہوں نے بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی ایسا کوئی خاطرخواہ کام نہیں کیا ہے جس کے بنیاد ہر انہیں کامیاب مئیر کے طور پر اطمینان کیا جا سکے، بہرحال ابھی وہ تازہ تازہ میئر منتخب ہوئے ہیں، مبارکباد کے حقدار ہیں، تاہم کراچی کے مسائل کے انبار اپنے حل کے لئے مرتضی وہاب کی جانب دیکھ رہے ہیں۔