MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پاک فوج کا فاٹا انضمام میں بھرپور کردار

0 256

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
حب الوطنی وہ جذبہ ہے, جس کے معتدد اور منفرد انداز ہیں, مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد, مختلف انداز میں مادر وطن کے ساتھ محبت نبھاتے ہیں, جس طرح کا اپنے انداز کا طرز حب الوطنی ہے اسی طرح  افواجِ پاکستان جو وطن عزیز کی سرحدوں کی محافظ ہیں, ہمارے جوان سرزمین اور عوام سے محبت میں اپنی ہمت سے بڑھ کر اپنا فرض نبھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں, الله کی مدد, عوام کو تعاون سے پاک فوج دہشت گردی سمیت دیگر چیلنجز پر کافی حد تک قابو پا چکی ہے, دہشت گردی کے بعد انتظامی چیلنچز میں فاٹا اصطلاحات بہت  cاہم چیلنج تھا جو الحمدﷲ 2017 میں قومی دھارے میں آچکا ہے,تاخیر کے ساتھ ہی سہی مگر قبائلی علاقے فاٹا کا خیبر پختونخوا میں ضم ہونا خوش آئند امر ثابت ہوا, فاٹا کے قبائل نے قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا, باجوڑ سے قومی اسمبلی کے سابق رکن شہاب الدین خان نے فاٹا انضمام جیسے مشکل کام کی تکمیل پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت پاک فوج کے کردار کو خوب سراہا,
فاٹا یوتھ جرگہ کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ “فاٹا کی اصلاحات کے عمل کو حکومت بغیر کسی فیصلے کے ختم کرنا چاہتی تھی، لیکن آرمی چیف کی بیش بہا کوششوں سے فاٹا قومی دھارے میں شامل ہوا, فاٹا انضمام میں پاک فوج کے کردار کے بعد پی پی پی اور پی ٹی آئی نے بھرپور اور کامیاب کوشش کی۔
سرحد پر باڑ
فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے بعد
پاک فوج کا دوسرا چیلنج سرحد پر باڑ لگانا تھا, پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے 94 فیصد حصے پر  غیر قانونی نقل و حرکت اور ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے باڑ لگائی گئی ہے, تاکہ پاکستان کے امن اور استحکام میں پائیداری آئے
بارڈر ٹرمینلز
اسی سلسلے کا ایک اور چیلنج بارڈر ٹرمینلز ہے, جس کے ذریعے پاک افغان تجارت کو فروغ دینا ہے, اس لئے  مطلوبہ بنیادی ڈھانچے کے ساتھ سرحدی ٹرمینلز کی ترقی کے لئے انٹرنیشنل ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔

- Advertisement -

عارضی طور پر بے گھر افراد کی واپسی
فاٹا انضمام  کے بعد  95% ٹی ڈی پیز اپنے علاقوں اور گھروں میں واپس آگئے ہیں۔ پاک فوج نے بے گھر افراد کی کفالت کے لئے 80 ارب  سے زائد رقم متاثرین میں تقسیم کی
فاٹا میں تعلیم
پاک فوج کی جانب سے619, تعلیمی ادارے زیر تعمیر ہیں جن میں پانچ کیڈٹ کالج ہیں
صحت کا شعبہ
فاٹا میں
140, صحت کے مراکز مکمل جبکہ 70 زیر تعمیر ہیں
مواصلاتی انفراسٹرکچر
اس سلسلے میں
980 کلومیٹر سڑکیں مکمل ہو چکی ہیں۔ 360 کلومیٹر سڑکیں زیر تعمیر ہیں۔
سماجی و اقتصادی شعبہ
فاٹا کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے ایگریکلچر پارک وانا، گومل زام اور کرم تنگی ڈیم، پولیس انفراسٹرکچر، 153 مساجد کی تزئین و آرائش، 97  مارکیٹوں کی تعمیر، 63  چلڈرن پارکس اور 15 ایکس سپورٹس گراؤنڈز تیار کیے گئے۔
پاک فوج نے ترقیاتی کاموں سمیت انتظامی امور کی سرانجامی کے لئے محفوظ ماحول فراہم کیا ہے۔
مستقل  تعمیراتی منصوبے:
فاٹا میں زندگی کو فعال کرنے کے لئے تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہیں جس میں
26.6 بلین روپے کے 72  منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ ۔ 28.9 بلین روپے مالیت کے 32 منصوبے جاری ہیں۔
فوری بحالی کے منصوبے
اس سلسلے میں
14 ارب روپے کے 1799  منصوبے مکمل ہوچکے ہیں ۔ 7 ارب روپے کے 815 پراجیکٹس پر کام جاری ہے جبکہ 5 ارب روپے کے 686 پراجیکٹس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
فارن فنڈڈ پروجیکٹس:
ان منصوبوں کے تحت اٹھارہ ارب
روپے کی مالیت کے 132  پروجیکٹس جاری ہیں,
یو ایس ایڈ کے
52 بلین روپے کے 14  پروجیکٹس پر کام چل رہا ہے, سعودی عرب کی جانب سے 2.7 بلین روپے کے 47 پروجیکٹس پاک آرمی کی زیر نگرانی میں چلائے جا رہے ہیں
یوتھ ایمپلائمنٹ اسکیم
فاٹا میں  آرمی پبلک اسکولز اور کالجز میں نئے ضم شدہ اضلاع کے طلباء کو 1500  اسامیاں الاٹ کی گئی ہیں؛ اس وقت 1383 طلباء کے داخل ہیں۔ فوجی اور کیڈٹ کالجوں میں زیر تعلیم نئے ضم شدہ اضلاع کے 183  طلباء • 15000 سے زیادہ نوجوان فوج / ایف سی میں شامل ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.