MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

انسانیت مر چکی ہے

0 662

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر ۔۔۔۔صحافی بشریٰ جبیں
کالم نگار تجزیہ کار

- Advertisement -

آج کے دور میں انسان تو زندہ ہیں لیکن بد قسمتی سے انسانیت مرگئی ہے انسان دوسرے انسان کا دشمن بنا ہوا ہے احساس نام کی چیز ہم میں رہی ہی نہیں وه دور اور تھا جب انسان کو اپنے ہمساؤں رشتے داروں دوستوں کا احساس ہوتا تھا لیکن آج کل بہت کم ایسا دیکھا جاتا ہے کہ کہیں کوئی کسی کی بے لوث مدد کرے
انسانیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے وابستہ رکھتا ہے اور اگر یہ احساس ختم ہو جائے تو معاشرہ اور قوم سب تباہ اور برباد ہو جاتا ہے آج کے دور میں اپنی خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوۓ ہر انسان کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہر انسان کے دل سے انسانیت کا جذبہ واحساس ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر ’’الف‘‘ سے انڈے اور انگور کی جگہ ’’الف‘‘ سے ’’انسانیت‘‘ سکھایا جاتا تو زیادہ بہتر تھا تاکہ انسانیت دفن نہ ہوتی اور ہم حیوان نہ بنتے آج کے حالات دیکھ کر دکھ کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ انسان تو زندہ ہیں لیکن انسانیت حقیقی لفظوں میں مر چکی ہے
کٸی ایسے واقعات سن کر روح کانپ جاتی ہے اور انسانیت تو واقعی مر جاتی ہے یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسے انسان حیوان سے بھی بدتر ہیں جو اس قدر اخلاقیات سے گر رہے ہیں اس طرح کے اور بھی کافی واقعات ہیں جو کہ انتہائی درد ناک ہیں جن میں لڑکیوں کو نوکری کا جانسا دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر بلیک میل کیا جاتا ہے
آج ہمار ی تمام بھاگ دوڑ اور کوششیں صرف روپے پیسے سے شروع ہوتی ہیں اور اسی پر ختم ہو جاتی ہیں۔ ہم دوستیوں اور رشتہ داریوں کی بنیاد بھی کسی نا کسی مفاد کی خاطر رکھتے ہیں۔ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو بدصورت اور تلخ بنانے پر ہمیں افسوس تک نہیں ہوتا۔ ہم ہر وقت دولت اور لالچ کی ہوس میں رہتے ہیں اور ان قمیتی لمحات سے لطف اندوز ہونے کے بجائے ان کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے ضائع کردیتے ہیں جو قدرت نے ہمیں جینے کےلیے عطا کیے ہوتے ہیں۔
ہمیں سزا اور جزا کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا جب تک ان جیسے حیوانوں کو سزا نہیں ملے گی یہ ایسے ہی آزاد گھومتے رہے گے کوئی بھی تعلیم ہمیں صرف شعور دے سکتی ہے انسانیت نہیں سیکھا سکتی اندر کے حیوان کو صرف اور صرف سزا کا خوف ہی مار سکتا ہے
اگر ‏مذہب میں سے انسانیت اور اخلاقیات نکال دی جائے تو باقی صرف اللّه پاک کی عبادات رہ جاتیں ہیں اور رب کائنات کے پاس اپنی حمدوثنا اور عبادات کیلئے فرشتوں کی کوئی کمی نہیں اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مگر دوسروں کے لئے جینا سیکھیں اپنے اپ میں انسانیت کا جذبہ پیدا کریں اور یہ ہی اصل زندگی ہے دوسروں کے لئے جینا ہی انسانیت کی خدمت ہے انسان اپنے حسن و اخلاق اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے بھی عوام میں بہت مقبولیت حاصل کر لیتا ہے پر امید انسان کی کامیابی کا راز پرسکون دماغ ہوتا ہے اور پرسکون وہ ہوتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے
اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔۔۔
بقول شاعر:
دھجیاں اڑنے لگیں انسانیت کی چار سو

دل درندہ ہوگیا انسان پتھریلے ہوئے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.