پیپلزپارٹی بھی سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری کے خلاف بول اٹھی
اسلام آباد (مسائل نیوز) پیپلزپارٹی بھی پی ٹی آئی رہنماء سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری کے خلاف بول اٹھی، سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے گرفتاری کی مذمت کر دی۔ تفصیلات کے ماطبق اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اعظم سواتی کی گرفتاری کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا، اس لیے سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔
رضا ربانی کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنان اور جماعتوں کا اسٹیبلشمنٹ سے اختلافِ رائے ہو سکتا ہے تاہم ایک مخصوص شخص پر تنقید معاملہ خراب کر دیتی ہے، سیاسی جماعتیں اس سے کم کی زیادہ بھاری قیمت ادا کر چکی ہیں کیوں کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے پہلے ہی ریڈ لائن کھینچ دی گئی ہے۔ بتاتے چلیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سینیٹر اعظم سواتی کو ایف آئی اے سائبر کرائم سیل نے گرفتار کیا اور انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم سیشن کورٹ نے اعظم سواتی کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء کو پولیس کے حوالے کردیا۔
معلوم ہوا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ پیکا ایکٹ سیکشن 20 کے تحت درج کیا گیا ہے، مقدمے میں تعزیرات پاکستان کے سیکشن 109/ 131/ 500/ 501 اور 505 کی شقیں شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی کے خلاف مقدمے کا مدعی ایف آئی اے کا ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمٰن ہے، اعظم سواتی کے خلاف مقدمے کا اندراج انکوائری کی تکمیل پر عمل میں لایا گیا ہے کیوں کہ اعظم سواتی نے ریاستی اداروں، سینئر عہدیداروں کے خلاف ٹوئٹس کیں، جو نفرت پیدا کرنے کی کوشش تھی، اعظم سواتی نے غلط مقاصد کی تکمیل کیلئے انتہائی تضحیک آمیز ٹویٹ کیا، بدنیتی پر مبنی ٹویٹ میں ریاستی اداروں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، اعظم سواتی کا ٹویٹ اداروں میں تقسیم پھیلانے کی گھناونی سازش ہے۔