MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

دعا زہرا کے والد کا بیٹی کا انٹرویو کرنے والی اینکر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان

0 240

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کراچی (مسائل نیوز) کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرا نے گذشتہ روز شوہر کے ہمراہ پہلی تفصیلی انٹرویو دیا تھا۔شوہر ظہیر احمد کے ساتھ پہلے انٹرویو میں دعا زہرا نے بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر والدہ سے یہ نہیں کہا کہ میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، والدہ نے جج کو جھوٹ بولا ہے۔ دعا زہرا کا کہنا تھا کہ والدین مجھے ملاقات کے دوران کہتے رہے کہ جج سے کہو کہ آپ ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہو تاہم میں نے ان سے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتی۔
دعا کے مطابق میں نے والدہ سے کہا کہ اگر آپ چاہتی ہیں تو صلح کر لیں تاہم والدہ نے کہا کہ ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے، بس آپ جج سے وہ کہو جو ہم کہہ رہے ہیں جس پر میں نے انکار کر دیا تاہم والدین نے جج سے جھوٹ بولا کہ میں ان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔

دعا زہرا کے انٹرویو پر اب ان کے والد کا بھی ردِعمل سامنے آیا ہے۔مہدی کاظمی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے اندازہ تھا کہ اس قسم کی ویڈیو سامنے آئیں گی،ہو سکتا ہے آئندہ دنوں میں مزید ویڈیو بھی سامنے آئیں۔

- Advertisement -

بچی ان کے قبضے میں ہے وہ جو مرضی اس سے بلوا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس ویڈیو میں جو باتیں تھیں سب جھوٹ کا پلندا تھا۔میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔مہدی کاظمی نے مزید کہا کہ جو خاتون انٹرویو کر رہی ہیں وہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ دعا اور ظہیر سے ان کا رابطہ شروع دن سے تھا۔میں انہیں قانونی نوٹس بھیجنے کے لیے اس وقت سپریم کورٹ میں ہوں، اب دیکھیے گا یہ سب دوبارہ غائب ہو جائیں گے اور پھر یہ خاتون کہے گی کہ میرا تو ان سے کوئی تعلق نہیں۔
ہم نے پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ دعا زہرا کی ایسی ویڈیوز سامنے آئیں گی۔۔

۔واضح رہے کہ دعا زہرا نے والدین سے صلح کی درخواست بھی کی تھی۔دعا نے کہا تھا کہ والدین سے معافی مانگتی ہوں، درخواست ہے دل بڑا کر کے ہمیں قبول کر لیں۔ مجھے کسی نے نشہ نہیں دیا، نہ بلیک میل کیا اور نہ ہی زبردستی کوئی بیان دلوایا گیا، میں نے اپنی مرضی اور پسند سے شادی کا فیصلہ کیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.