MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

“اب ضد چھوڑ دیں”

0 219

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: اعجازعلی ساغر اسلام آباد

- Advertisement -

پاکستان میں اس وقت حالات سیاسی و انتظامی طور پر بہت کشیدہ ہیں انتظامی مشینری تقریباً غیر فعال ھوچکی ہے ایک طرف عمران خان اور اسکی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق ہے جبکہ دوسری طرف حکومتی بیڑے میں تیرہ سیاسی جماعتیں ہیں شامل ہیں جن کے درمیان رسہ کشی جاری ہے عمران خان کہتے ہیں کہ ملک میں فی الفور صاف و شفاف انتخابات کروائے جائیں جبکہ حکومتی اتحاد اس بات پر بضد ہے کہ جب تک حکومت کی مدت پوری نہیں ھوتی تب تک الیکشن نہیں کروائے جائیں گے یہ رسہ کشی طول پکڑتی جارہی ہے عمران خان اور تحریک انصاف کے سپورٹرز نے کچھ دن پہلے روڈ بلاک کرنے شروع کردیے یہ سلسلہ پنجاب,کے پی کے اور وفاق میں طول پکڑ گیا موٹرویز کو بند کردیا گیا ٹریفک کی روانی رک گئی جسکی وجہ سے ہر عام و خاص کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ایمبولینسیز بھی پھنس کر رہ گئیں, راولپنڈی میں مری روڈ کو شمس آباد کے قریب بند کردیا گیا جسکی وجہ سے جڑواں شہروں کے رہائشیوں کو ایک سے دوسری جگہ آنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا مریضوں کیلئے الگ عذاب بن گیا کیونکہ تحریک انصاف کے کارکنان نے مریضوں کو بھی گزرنے کیلئے رستہ نہیں دیا انہیں متبادل رستوں سے ہسپتال جانے کی تلقین کی جاتی رہی سڑکوں کی بندش کا عمران خان نے جلد ہی نوٹس لیا اور کارکنان کو تمام رستے کھولنے کی ہدایت کی کیونکہ اس سے تحریک انصاف کیلئے نفرت کے جذبات ابھر رہے تھے اور لوگ کھل کر عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف بول رہے تھے عمران خان نے رستے کھلوانے کے ساتھ ہی لانگ مارچ کا اعلان کردیا اور کہا میں وزیر آباد (جہاں مجھے گولی لگی تھی) سے دوبارہ لانگ مارچ کو لیڈ کروں گا اور ہم اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی کا رخ کریں گے۔
ان کا لفظ راولپنڈی پر زور دے کر کہنا تھا کہ ہم وہاں سے مطالبات منوا کر ہی اٹھیں گے۔
آخر انہوں نے اسلام آباد کی بجائے پنڈی کا رخ کیوں کیا اس بات کو چھوٹا بچہ بھی سمجھتا ہے وہ آرمی پر پریشر بڑھا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ حکومت اس بات پر بضد ہے کہ وہ وقت پر ہی الیکشن کرائے گی اس سلسلے میں سب سے زیادہ اہم چیز آرمی چیف کی تعیناتی ہے جس کو لیکر حکومت اور عمران خان دونوں پریشان ہیں اس سلسلے میں مشاورت تو پچھلے ماہ ہی شروع ھوگئی تھی لیکن نومبر آتے ہی افواہوں کا بازار گرم ھوگیا عمران خان کا لانگ مارچ جمعرات سے شروع ھوچکا ہے جو پنجاب کے مختلف اضلاع سے ھوتا ھوا راولپنڈی آ پہنچے گا اب یہ وقت بتائے گا کہ وہ یہاں پہنچتا ہے یا اس سے پہلے ہی حکومت اور عمران خان کے مابین رسہ کشی کا خاتمہ ھوجاتا ہے لیکن ملکی صورتحال انتہائی خراب ھوچکی ہے معیشت دن بدن خراب ھوتی جارہی ہے ملک میں لاقانونیت عروج پر ہے جہاں عام آدمی خود کو غیر محفوظ تصور کررہا ہےغربت اور ۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان کا دورہ پاکستان منسوخ ھوچکا ہے جسکی وجہ سے حکومتی کیمپوں میں کھلبلی سی مچ گئی ہے کیونکہ یہ دورہ سعودی حکومت کی طرف سے کنفرم تھا لیکن پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سعودی پرنس نے پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا اور انڈونیشیا کے دورے پر جانے کا عندیہ دیدیا بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ھوگی لیکن سفارتی محاذ پر یہ پاکستان کی بہت بڑی شکست ہے حالات کو کنٹرول کرنا ھوگا اور یہ سب تبھی ممکن ھوگا جب مقتدر حلقے اپنی ضد اور انا کو چھوڑ کر ملک کا سوچتے ھوئے سخت فیصلے لیں گے ملک کو ایسی گھمبیر صورتحال سے نکالنا ھوگا اور تمام اسٹیک ھولڈرز کو ایک پیج پر لانا ھوگا کسی کی ذاتی خواہش یا انا پر ملک کو قربان نہیں کرنا چاہیئے آرمی چیہف کی تعیناتی کے فوراً بعد ملک میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردینا چاہیئے تاکہ سیاسی عدم استحکام ختم ھو کیونکہ جب تک ملک میں انتخابات نہیں ھوتے تب تک ملک میں استحکام نہیں آئے گا اس وقت سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ملکی سلامتی کے اداروں,انکے سربراہوں اور افسران کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں اور ان پر تنقید کررہے ہیں سابق وزیراعظم عمران خان اپنے اوپر حملے کا الزام وزیراعظم,وزیر داخلہ اور ایک فوجی افسر پر لگا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کیخلاف ایف آئی آر درج کی جائے جبکہ پنجاب حکومت بضد ہے کہ کسی طرح فوجی افسر کا نام درمیان سے نکال دیا جائے جس پر عمران خان راضی نہیں ہیں ایف آئی آر نہ کاٹنے پر آئی جی پنجاب فیصل شاہکار پر دباؤ بڑھایا گیا تو انہوں نے کام چھوڑ دیا اور چھٹی پر چلے گئے ادھر وفاقی حکومت نے جب دیکھا کہ پنجاب اور کے پی کے کی صوبائی حکومتیں عمران خان کے لانگ مارچ کو سپورٹ کررہی ہیں تو شہباز حکومت نے صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹریز کو خط لکھا کہ وہ وزیراعلیٰ یا وزراء کا کوئی غیر آئینی حکم نہ مانیں ساتھ ہی وفاق نے صوبوں پر پریشر بڑھا دیا ہے اور ان کو دھمکی دی ہے کہ اگر صوبوں نے بات نہ مانی تو دونوں صوبوں میں گورنر راج لگا دیا جائے گا ادھر عمران خان نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے کہ چیف جسٹس اس سارے معاملے پر سو موٹو لیں اور ملک میں الیکشن کی راہ ہموار کرائیں ادھر تحریک انصاف یہ واضح کرچکی ہے کہ اگر حکومت Early الیکشن پر راضی ھوجاتی ہے تو وہ لانگ مارچ ختم کردے گی۔
حالات دن بدن خراب سے خراب تر ھوتے جارہے ہیں سردیاں آچکی ہیں ملک میں گیس کا بحران پیدا ھونے کا امکان ہے حکومت واضح کرچکی ہے کہ گھریلو صارفین کیساتھ ساتھ صنعتوں کو بھی گیس نہیں ملے گی,مہنگائی اس وقت عروج پر ہے بجلی کے بلوں میں روز بروز اضافہ ھوتا جارہا ہے بیروزگاری دن بدن بڑھ رہی ہے جسکی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ھوچکی ہے جب تک مستحکم حکومت نہیں ھوگی عام آدمی کے مسائل حل نہیں ھوں گے کیونکہ موجودہ مخلوط حکومت عوامی مسائل میں ذرا بھی دلچسپی نہیں رکھتی جو کام تحریک انصاف نے کیا وہی کام موجودہ حکومت بھی دہرا رہی ہے اور کچھ قوتیں ملک میں ایمرجنسی اور مارشل لاء کو دعوت دے رہے ہیں جو ان کیلئے اور ملک کیلئے بہت خطرناک ھوگا ھمارا ملک ابھی فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلا ہے اس کیلئے تمام سیاستدانوں کو ٹھنڈے مزاج سے سوچنا ھوگا۔
تیرہ جماعتوں کی مخلوط حکومت نے عوام سے بہت سے واعدے وعید کیے اور ملک سے مہنگائی,غربت اور بیروزگاری ختم کرنے کا واعدہ کیا لیکن وہ اس پر عمل نہ کرسکی مہنگائی,غربت اور بیروزگاری کم ھونے کی بجائے مزید بڑھ گئی وہ لوگ جو کورونا کے باوجود کم مہنگائی کرنے پر عمران خان کو کوستے تھے شہبازشریف کی حکومت میں عمران خان کو یاد کرنے لگے۔
موجودہ حکومت اپریل سے اب تک کچھ بھی ڈلیور کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے اگر شہباز حکومت نے عوامی مسائل کی طرف توجہ نہ دی تو الیکشن میں ان کیلئے مشکلات پیدا ھوسکتی ہیں کیونکہ عمران خان کا بیانیہ تیزی سے مقبول ھورہا ہے اور عوام جوق در جوق ان کے ساتھ ھوتی جارہی ہے دوسری طرف پنجاب میں چوھدری پرویز الہی نے اپنے دروازے عوام کیلئے کھول دیے ہیں اور ہر عام و خاص کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے نظر آرہے ہیں یقیناً یہ عمران خان اور تحریک انصاف کی جیت ہے۔
وفاقی حکومت کیلئے یہ سب باعث تشویش ہے کیونکہ ان کے بارے میں عوامی رائے ایک بار پھر تبدیل ھورہی ہے موجودہ حکومت میں کرپشن عروج پر پہنچ چکی ہےبیوروکریسی اس حد تک دلیر ھوچکی ہے کہ وہ وفاقی وزراء کو بھی گھاس نہیں ڈال رہی وزراء کو بھی اپنے کاموں کیلئے بار بار کہنا پڑ رہا ہے اسکے باوجود ان کے کام نہیں ھورہے جب وفاقی وزراء کو بھی اپنے کام کروانے کیلئے بار بار ریکوئیسٹ کرنی پڑ رہی ہے وہاں عام آدمی کی کیا حالت ھوگی اور ان کے کام کیسے ھوتے ھوں گے۔
وہ شہبازشریف جن کے سائے سے بھی بیوروکریسی ڈرتی تھی ان کے وزیراعظم بننے کے بعد وہی بیوروکریسی تمام حکومت پر حاوی ہے پچھلی حکومت کی ناکامی میں بھی بیوروکریسی کا رول تھا اور موجودہ حکومت کو بھی یہ تختہ دار پر پہنچا کر دم لے گی۔
شہبازحکومت عمران خان کی نسبت بہت کمزور حکومت ہے کیونکہ یہ تیرہ پارٹیوں کا مجموعہ ہے ایک بھی پارٹی ادھر ادھر ھوئی تو حکومت کی چھٹی لازمی ہے۔
اس ساری صورتحال کے پیش نظر عوامی رائے یہی ہے کہ ملک میں جلد از جلد صاف و شفاف انتخابات ھوں اور اس ملک سے پارلیمانی سسٹم کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ پارلیمانی نظام میں جو بھی حکمران آئے گا وہ ٹھیک سے ڈلیور نہیں کر پائے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں مضبوط صدارتی نظام نافذ کیا جائے تاکہ ملک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے۔
اس ملک کے پالیسی میکرز سے اس چوبیس کروڑ عوام کی اپیل ہے کہ خدارا ضد چھوڑ دیں اور اب بس کردیں اس ملک سے کرپٹ مافیا و ملک دشمنوں کا خاتمہ کرکے اس ارض پاک کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کریں تاکہ ہم بھی آنیوالے چند سالوں میں یورپ اور مغربی ممالک کا مقابلہ کرسکیں۔
خداوند کریم میرے ملک کو ھمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.