حکومت پر سیلاب متاثرین کو سیاسی بنیادوں پر ریلیف دینے کا الزام
اسلام آباد(مسائل نیوز) حکومت پر سیلاب متاثرین کو سیاسی بنیادوں پر ریلیف دینے کا الزام عائد کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے سیلاب پر نیشنل ایکشن پلان نہیں بنایا اور متاثرین سیلاب کو سیاسی بنیادوں پر ریلیف دیا جا رہا ہے، سیاسی کارکنان کے ذریعے ریلیف کی تقسیم سے کرپشن کے دروازے کھل رہے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام کسانوں کے زرعی قرضے معاف کیے جائیں اور سیلاب متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ میں سیلاب متاثرین کو سہولیات دینے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے سندھ حکومت سے سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات طلب کیں جس پر سندھ حکومت نے جواب داخل کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی۔
دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ سندھ حکومت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ عوام کے لیے کام ہو رہا ہے، عدالت نے پی ڈی ایم اے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے بھی جواب طلب کرلیا اور قرار دیا کہ سیلاب انتظامی اختیارات کا نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے،سندھ ہائیکورٹ نے عوامی مفاد میں احکامات جاری کیے تھے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے شہری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت امدادی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی،سندھ حکومت کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ عوام کے لیے کام ہو رہا ہے۔سیلاب متاثرین کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی جواب کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگا جا رہا ہے،سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ مر رہے ہیں۔ جب کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ جواب آنے میں تاخیر سے کوئی موت نہیں ہو رہی۔عدالت نے مزید سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی۔