نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ڈیپریشن(مایوسی)ایک المیہ
تحریر:ساجد حسین
- Advertisement -
گزشتہ دنوں ایک خبر نے انتہائی دکھی کر دی جب نیوز پیپر میں یہ پڑھا کے خضدار کالج کے ہونہار طالب علم نے فیس نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی کرلی ہے، گزشتہ کئی ادوارسے اس طرح کے افسوسناک واقعات رُونما ہوتے چلے آ رہے ہیں بلکہ میں اگر یوں بھی کہوں تو غالبا ًیہ غلط نہ ہو گا کہ معاشی مسائل کی وجہ سے بلوچستان سمیت ملک بھر میں گزشتہ کہیں سالوں سےلوگوں میں بلخصوص نوجوان طبقے میں مایوسی ( ڈیپریشن) بڑھتی جا رہی ہے جو آگے چل کر ناامیدی کی دہلیز کو چھوتے ہوئے خود کشی جیسے ناسور امر کو انجام دے کر دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی عاقبت بھی خراب کر بیٹھتے ہیں یا کہ یہی لوگ کسی ایسی ثانوی امور میں ملوث ہوجاتے ہیں جو ملک و قوم کی فلاح و بقاء کیلئے ناسور بن جاتے ہیں۔
یقیناً اس وقت پورے ملک کے نوجوانوں میں مایوسی کی ایک عجیب لہر بے روزگاری کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہے۔ ملک میں ہنر کی کمی، کاروباری مراکز کا نہ ہونا، سرکاری نوکریوں پر سفارش اور پیسہ کلچر کی بھرمار، نوجوانوں کی کیرئیر کونسلنگ پر عدم توجہی وغیرہ یہ وہ تمام خامیاں ہیں جو ایک مستقبل کے معمار سمجھا جانے والے نوجوان کے زاویہءِ زیست کا رخ خوشحالی سے بدحالی کے جانب موڑتا ہے۔
ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک کی بیشتر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،جبکہ بدقسمتی یہ ہے کہ یہی نوجوان اپنےمستقبل کو تاریک دیکھ کر ڈیپریشن کا شکارہوجاتے ہیں، حکومتی سطح پر ایسا کوئی پروگرام ہی نہیں ہے کہ جس کے تحت نوجوان نسل کو ہنر مند اور خود کفیل بنایا جا سکے، یہی نوجوان اپنی تعلیمی کیریئر مکمل کر کے روزگار کے متلاشی ہوتے ہوئے حدِعمر سے تجاوز کر جانے کے بنابریں اپنی تاریک مستقبل کو دیکھ کر ڈیپریشن کاشکار ہوجاتے ہیں ۔اسی ڈیپریشن کے بدولت ان میں سےکچھ نشے کا عادی بن جاتے ہیں یا کسی جرائم پیشہ جیسے عنصر کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ جو ملک و قوم کی پستی و تباہی کا باعث بن سکتی ہیں۔
اگر حکومت نوجوانوں کو ٹینشن فری رکھنے، اور انکی ذہنی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کیلئے ہنرمندی کے پروگرام بغیر کسی شرط و شرائط کے شروع کر دے،نوجوانوں کو با عزت اور با وقار روزگار مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدانوں کو آباد رکھنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تو میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایک صحت معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے بشرطیکہ معاشرے سے برائیوں کے اڈوں کا خاتمہ (ساقی خانوں وغیرہ)، سرکاری اداروں میں پیسہ کلچر کا خاتمہ، ہنرمندی کے اداروں میں اضافے اور فارغ التحصیل نوجوانوں کیلئے نوکری کا بند وبست ممکن بنایا جانے کے بنابریں لوگوں میں خاص کر نوجوان طبقے میں مایوسی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔