شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے پر اب نئی سازش سوچی جا رہی ہے
اسلام آباد (مسائل نیوز) ا داروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے قمیض اٹھا کر اپنی کمر دکھائی اور کہا کہ مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اسی حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں شہباز گل پر ہونے والے تشدد کی مذمت کر سکوں۔
شہباز کے جسم پر تشدد کے نشان ظلم کی اس داستان کی گواہی ہیں۔ اب جب ریمانڈ مسترد ہو گیا ہے شہباز کو جیل نہیں بھیجا رہا بلکہ ابھی تک منشی خانے میں ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اب نئی سازش سوچی جا رہی ہے۔فواد چوہدری نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہی۔
۔خیال رہے کہ آج شہباز گل کوڈیوٹی مجسٹریٹ عمر شبیر کی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔
شہباز گل نے عدالت کو بتایا کہ چار بجے کا وقت تھا، اس وقت کوئی موبائل نہیں چل رہا تھا ، سگنل نہیں تھے، میرا جسمانی چیک اپ اور میڈیکل نہیں کیا گیا۔ میرا فرضی میڈیکل کیا گیا ہے۔وکلاء سے نہیں ملنے نہیں دیا جا رہا، جیل میں ساری رات مجھے جگائے رکھا گیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ افواجِ پاکستان کے بارے میں ایسی بات کروں گا۔
مجھے سے بار بار سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ سب کہنے کے لیے عمران خان نے کہا تھا؟میں کہتا ہوں ایسا کوئی بیان نہیں دیا، مجھ سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔خیال رہے شہبازگل کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد آج اسلام آباد کچہری میں پیش کیا گیا تھا۔