اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عدم اعتماد سے ایک رات قبل مجھے حکومتی وزیر کی جانب سے دھمکی پہنچائی گئی کہ فوری الیکشن کرائیں یا پھر مارشل لاء آئے گا ، ہمیں غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل میں شامل افراد کے لیے کمیشن بنانا چاہیے ۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں بحران ہی رہے ہیں ، حکومت میں آنے سے پہلے صورتحال ٹھیک نہیں تھے ، سلیکٹڈ وزیراعظم کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا ، 4سال میں سابق وزیراعظم نے ملک میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کو یاد رکھا جائے ، سابق وزیراعظم آئین شکنی کرچکے ہیں ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سیاسی حریف رہ چکے ہیں ، کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ یہ جماعتیں اتحادی حکومت میں ایک ساتھ ہوں گی ، ایسے سیاسی حالات صرف تب ہوتے ہیں جب ملک میں جنگی حالات ہوں ۔
- Advertisement -
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت ملک میں ہر شعبے میں بحران ہے ، گزشتہ چار سال کے دوران ہر ادارے کو متنازعہ بنایا گیا ، جاتے جاتے عمران خان جمہوریت اور اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا گئے ، آئین اور جمہوریت پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ، سابق وزریراعظم خود کو مقدس گائے سمجھتے ہیں ، ملک میں اداروں پر حملے کیے گئے ،ہمیں نظر انداز نہیں کرناچاہیے ، ہمیں غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل میں شامل افراد کے لیے کمیشن بنانا چاہیے ، جو تین اپریل سے اب تک ہوتا رہا ہے، کیسے چھوڑ دیں ، 3اپریل سے اب تک آئین پر جو حملے ہورہے ہیں اس پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ 4سال چور چور کا شور مچاتے رہے کسی کو سزا نہیں دلوا سکے خود چور نکلے، کیا ہم اس وزیر اعظم کو اجازت دے رہے ہیں، کہ وہ چاہے بول دے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ، جو احتساب اور کرپشن کی باتیں تین سال سے مسلسل کر رہے ہیں ہمارے کان پک چکے ہیں ، جس وزارت کو دیکھیں بے قاعدگیاں اور کرپشن ہی کرپشن ہے ، سابق وزیر اعظم کے اپنے خزانے کیسے بڑھے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کے یکطرفہ اقدام کو مسترد کرتےہیں ، بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی آبادی کو تبدیل کررہاہے ، بھارت کی جانب سےمقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی گئی ، بھارت نے 5اگست کے بعد غیر کشمیریوں کی آباد کاری شروع کی ، بھارت کے ان اقدامات کی پرزور مذمت کرتے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں حد بندی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں ، بھارتی حکومت نئی حد بندیوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آواز کو دبانا چاہتی ہے ، جموں کی نشستوں میں کا اضافہ کیا گیا ، مقبوضہ کشمیر میں صرف ایک نشست بڑھائی گئی ، بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر سخت احتجاج کیا گیا ، عالمی برادری کے سامنے یہ معاملہ بار بار اٹھاتے رہیں گے ، ایوان اس معاملے پر متفقہ قرارداد منظور کرے گا ۔