گندم اور آٹا کو اشیاءضروریہ ایکٹ میں شامل کرنے کیخلاف پاکستان فلور ملزم کی ملک گیر ہڑتال
کوئٹہ (مسائل نیوز) سیکرٹری خوراک پنجاب کی جانب سے گندم اور آٹا کو اشیاءضروریہ ایکٹ میں شامل کرنے کیخلاف پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے پنجاب کے بعد ملک گیر ہڑتال کا عندیہ دے دیا ہے۔گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سنیئر رہنماءو سابق مرکزی چیئرمین بدرالدین کاکڑ کا کہنا تھا سیکرٹری خوراک پنجاب کے گندم اور آٹا کو اشیائے ضروریہ ایکٹ میں شامل کرنے کے خلاف پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب ریجن نے ہڑتال کر دی ہے اشیاءضروریہ ایکٹ میں گندم اور آٹا کو شامل کئے جانے کے بعد اب پنجاب سے بیرون صوبہ 25 من سے زائد گندم اور آٹا منتقل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس پر 3سال قید اور 10 لاکھ جرمانے کی سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں اشیاءضروریہ ایکٹ میں گندم اور آٹا شامل کئے جانے کے بعد نا صرف رشوت خوری کا بازار گرم ہوگا بلکہ ہم اسے فیڈریشن کی اکائیوں کے مابین موجود نظم کو متاثرکرنے کی بھی سمجھتے ہیں بلکہ اس سے صوبوں کو مابین ایک نئی کھینچا تانی اور بے اعتمادی کا آغاز ہوگا انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کی دو اکائیاں بلوچستان اور خیبر پشتونخوا اپنی گندم کی ضروریات پوری نہیں کر سکتی اسی لئے وہ پنجاب اور سندھ سے گندم اور آٹا کی ضروریات پوری کرتے ہیں مگر ایسے حالات میں جب بلوچستان اور خیبر پشتونخوا میں آٹا اور گندم کی بحرانی صورتحال ہے میں پنجاب جیسے صوبے کی جانب سے اس طرح کے ایکٹ نافذ العمل ہونا افسوسناک ہے اگر پنجاب کے بعد سندھ نے بھی اسی طرز عمل کو اپنایا تو پھر صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی اور بلوچستان و خیبر پشتونخوا میں لوگوں کو آٹا اور گندم میسر نہ ہوگا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صرف پانچ فیصد گندم اور آٹا سرکاری سطح پر فراہم کیا جاتا ہے جبکہ یہاں کی کل طلب کا 95 فیصد اوپن مارکیٹ سے پورا کیا جاتاہے انہوں نے کہا کہ اس وقت سیکرٹری خوراک پنجاب کی جانب سے اشیاءضروریہ ایکٹ کے نفاذ کے خلاف پنجاب میں فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کی گئی ہے اگر 13 فروری تک پنجاب میں نافذ العمل اشیاءضروریہ ایکٹ میں سے گندم اور آٹا کو نہیں نکالا گیا تو پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن ملک گیر ہڑتال کرنے پر مجبور ہوگی جس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری سیکرٹری خوراک پنجاب و دیگر پر عائد ہوگی۔
- Advertisement -