MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

یونیورسٹی آف بلوچستان جی ایس او چیرمین کی نااہلی میلینز میں خریدی گئی ایم فل، پی ایچ ڈی اور دیگر کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹ بنانے اوراٹومیٹیک سکین کرکے چیک کرنے والی مشین خراب مینول طریقے سے پچھلے سال بھی ٹیسٹ چیک کیے گئے، چانسلر اور وزیراعلیٰ سے نوٹس کی اپیل: بلوچستان ینگ سکالرز فورم

0 146

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ (مسائل نیوز) بلوچستان ینگ سکالرز فورم نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے جی ایس او آفس کے چیئرمین ڈاکٹر قیصر کی من مانیاں، بلیک میلنگ، اقرباپروری، تمام سبجیکٹس کی ٹیسٹس اور خصوصاً ایم فل اور پی ایچ ڈی کینڈیڈیٹس کو پسند و نا پسند کی بنیاد پر داخلے کیلئے اہل و نا اہل کرنے کی ناقابل فراموش دھندہ سرعام چل رہا ہے۔ جس سے یونیورسٹی میں تحقیق اور ریسرچ، پروجیکٹ، داخلوں کی مد میں فیسوں اور ریوینیو جنریشن کا پروسس روک کر صوبے کی اعلیٰ تعلیم یافتہ محققین کو ارادی طور پر دوسرے صوبوں کی طرف دھکیلنے کی سازش ہورہی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہورہا ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں دو سال پہلے میلینز کی لاگت سے خریدی گئی کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹنگ، سکیننگ اور سکورنگ مشین کو ارادی طور پر خراب کرکے ایم فل، پی ایچ ڈی ٹیسٹس مینول طریقے سے چیک کرنے جارہے ہیں اور پچھلے سال بھی یہی ہوا تھا جب جی ایس او نے اپنی رشتہ دار کو ۸۰ نمبرز سے پاس کرکے باقی کینڈیڈیٹس کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔ جب قصہ مینول طریقے سے ٹیسٹ بناکر کلرکوں سے چیک کرنا ہے تو یہ ٹیسٹس ڈپارٹمنٹس کیوں نہ بنائے اور ڈینز کی کمیٹیوں کی سربراہی میں ایک شفاف طریقے سے چیک نہ کیا جائے؟

 

- Advertisement -

بیان میں پوچھا گیا ہے کہ دنیا جہاں میں ٹیسٹنگ کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور ایم فل پی ایچ ڈی جیسے اہم ڈگریوں کےلئے ٹیسٹس کو من مانیوں، پسند نا پسند، اقربا پروری، بدنیتی، علمی بدیانتی، سازشی ذہنیت اور علمی میدان میں عدم تحفظ کی بنیاد پربنانا تعلیم و تحقیق دشمن عمل ہے۔ جبکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ہر ڈپارٹمنٹ کے کم ازکم تین پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کی ٹیسٹ کنٹنٹس سے سوالات کی بینک بنائی جاتی ہے اور اس کی اپروول سیچوٹری باڈیز سینڈیکیٹ، سینیٹ اور اکیڈمیک کونسل سے دی جاتی ہے۔ مگر مجال ہے کہ جی ایس او چیرمین رولز و ریگولیشن اور بنیادی اخلاقیات کو عمل میں لاتے ہوئے ٹیسٹ کو اکاونٹیبیلیٹی کی بنیاد پر بنائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نہ ہی جی ایس او چیئرمین کو یہ پتہ ہے کہ سبجکٹ کی کورس کا دائرہ کیا ہوگا اور کتنے فیصد ریسرچ اور دیگر کنٹنٹس شامل ہونگے۔ کیونکہ اپنے آپ کو مغل شہنشاہ سمجھنے والا ڈاکٹر قیصر کا یونیورسٹی آف بلوچستان کی رینکینگ اور پروفائلینگ سے کیا لینا دینا ہے۔ ان کی تو اپنی بادشاہی ہر وقت زور و شور سے چل رہی ہوتی ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ جس یونیورسٹی میں داخلے کی صورتحال یہ ہو کہ ہر سال مختلف ڈپارٹمنٹس میں ٹیسٹ تو اناونس ہوجاتے ہیں مگر بعد میں یا تو من پسند لوگوں کو داخلہ دیا جاتا ہے یا پھر سب کو فیل کرکے سکالرز کی قیمیتی وقت، یونیورسٹی کو میلینز میں ملنے والی فیسوں اور انہی سکالرز کے ذریعے کروڑوں اربوں روپوں کی تحقیقی پروجیکٹس کی توقعات کو ملیا میٹ کیا جاتا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے اساتذہ، آفیسران اور لیبرز یونین سالہاسال روڈوں پر کچکول لے کر تنخواہیں نہ ملنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

 

بیان میں یونیورسٹی آف بلوچستان کے چانسلر گورنر جناب شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ جناب میر سرفراز خان بگٹی، وزیر تعلیم مس راحیلہ حمید خان درانی صاحبہ، وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کو تحقیقی زبوں حالی اور ڈیکٹیٹرشپ، پسند ناپسند، اقرباپروری، بدنیتی، علمی و تحقیقی بدیانتی سے نجات دلانے کےلئے انکوائری کمیٹی بنائی جائے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.