وفاق میں کامیابی کے بعد اپوزیشن نے پنجاب پر نظریں جما لیں
لاہور(مسائل نیوز) وفاق میں کامیابی کے بعد اپوزیشن نے پنجاب پر نظریں جما لیں ۔ 92 نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں کامیابی کے بعد اپوزیشن اتحاد حمزہ شہباز کو وزیراعلی پنجاب منتخب کرانے کیلئے سرگرم ہو گئی ہے ، اپوزیشن اتحاد کے ایم پی ایز لاہور کے نجی ہوٹل میں مقیم ہیں اور جنہیں وزیراعلی پنجاب کے لیے ہونے والی ووٹنگ تک ہوٹل میں ہی روکنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ حمزہ شہباز کی طرف سے ارکان اسمبلی کو غیر ضروری ملاقاتوں اور میڈیا نمائندگان سے بات چیت سے بھی منع کردیا گیا۔
ادھر لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کی درخواست پر سماعت پیر کے روز ہوگی ، جمعے کے روز پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء اور اپوزیشن کے طرف سے وزارت اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی نے سماعت کی ، جہاں لاہور ہائیکورٹ نے سیکریٹری پنجاب اسمبلی کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
- Advertisement -
خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے اس ضمن میں لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی جس میں اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر اور آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب میں وززیراعلیٰ کا عہدہ خالی ہے اس پرجلد از جلد الیکشن کرائے جائیں ، سیکرٹری اسمبلی اور انتظامی افسران پرویز الٰہی کے غیر قانونی احکامات مان رہے ہیں اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے بلا جواز تاخیر کی جارہی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے وزیراعلیٰ کے امیدوار کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ جب تک وزیراعلیٰ کا انتخاب نہ ہوتا اس وقت تک آئین کے آرٹیکل130 کے تحت اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں کیا جاسکتا ہے جب کہ درخواست میں فریق بنائے گئے افراد اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں لہٰذا عدالت جلد حکم جارے اور انتخاب ممکن بنائے۔
تاہم لاہور ہائی کورٹ آفس نے مسلم لیگ ن کے رہنماء حمزہ شہباز کی درخواست پر اعتراض عائد کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر کے احکامات عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتے‘ آرٹیکل 69 کے تحت اسمبلی کی کارروائی پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع نہیں ہو سکتا ‘ لاہور ہائی کورٹ آفس کے اعتراض پرچیف جسٹس امیر بھٹی آج ہی سماعت کی جس میں انہوں نے ے حمزہ شہباز کی درخواست پر اعتراض ختم کر دیا اور درخواست سماعت کے لیے لگانے کی ہدایت کر دی اور عدالت نے رجسٹرار آفس کو درخواست آج ہی سماعت کے لیے لگانے کا حکم دیا۔
جب سماعت کا آغاز ہوا تو لاہور ہائیکورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کیا ، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے سماعت کے دوران ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کے وکیل نے دلائل پیش کیے ، جہاں وکیل ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ پرویز الہیٰ خود وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں ، اسپیکر آئین کے تحت اس سیشن کو ہیڈ نہیں کر سکتے ، ڈپٹی اسپیکر کو آئین کے تحت اختیار حاصل ہے کہ وہ ہاؤس چلائے ، جب اسپیکر کا دفتر خالی ہو تو ڈپٹی اسپیکرمعاملات چلاتا ہے ۔ دوران سماعت وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ خاردار تاریں لگا کر ہمیں اندر جانے سے روک دیا گیا ، 8 دن پنجاب بغیر حکومت کے چل رہا ہے ، درخواست میں اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں جب کہ اے جی نے سپریم کورٹ میں یقین دہانی کرائی تھی۔