اہم شخصیات کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی تردید کردی گئی
کراچی(مسائل نیوز)اہم شخصیات کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی تردید کردی گئی ۔ جیو نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امیگریشن حکام کہتے ہیں کہ اہم شخصیات کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے کراچی ائیرپورٹ پر احکامات موصول نہیں ہوئے ، اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ابھی کسی کو روکنے کے کوئی تحریری احکامات نہیں ملے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز خبر آئی تھی کہ سرکاری افسران کو بنا حکومتی این او سی بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا، ایف آئی اے ہیڈکوارٹر کی جانب سے اس حوالے سے ملک کے تمام ائیرپورٹس کو الرٹ کر دیا گیا ، اور اس ضمن میں ہدایت کی گئی ہے کہ بنا این او سی بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے کسی بھی سرکاری افسر کو طیارے سے آف لوڈ کر دیا جائے جب کہ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، پولیس اہلکاروں اور افسران کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئیں۔
- Advertisement -
ادھر وزیراعظم عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست دائر کی گئی ہے، اس درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس 11 اپریل کو سماعت کریں گے ، درخواست شہری مولوی اقبال حیدر کی جانب سے دائر کی گئی ، درخواست میں کہا گیا کہ وفاقی وزراء فواد چودھری، قاسم سوری، شاہ محمود قریشی، اور سفیراسد مجید کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا جائے ، درخواست میں استدعا کی گئی کہ سیکرٹری داخلہ کو وزیراعظم اور وزراء کیخلاف مبینہ خط کی تحقیقات کیلئے انکوائری کی جائے۔
بتاتے چلیں کہ عمران خان اب پاکستان کے وزیراعظم نہیں رہے کیوں کہ ان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد اکثریتی ووٹوں سے کامیاب ہوگئی، تحریک عدم اعتماد کے حق میں بغیر پی ٹی آئی کے منحرف ارکان 174 ووٹ پڑے ہیں ، نئے قائد ایوان کا انتخاب پیر11 اپریل کو ہوگا ، تحریک انصاف کے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد کہا کہ میں اسپیکر کی صدارت پینل آف چیئرمین کے رکن سردار ایاز صادق کو سونپتا ہوں۔
اس کے بعد پینل آف چیئرمین کے رکن ایاز صادق نے قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت کی اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا عمل شروع کیا ، ایاز صادق نے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پڑھ کر سنائی، ووٹنگ کیلئے اسمبلی کے دروازے بند کرائے گئے، نئے قائد ایوان کا انتخاب پیر11 اپریل کو ہوگا، نئے قائد ایوان کیلئے عہدے کیلئے کاغذات نامزندگی طلب کرلیے گئے۔ یاد رہے کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے 8 مارچ کو ریکوزیشن جمع کرائی تھی اور آئین کے تحت اسپیکر 14 رز کے اندر اجلاس بلانے کا پابند ہے تاہم انہوں نے 14 ویں روز یعنی 21 مارچ تک اجلاس نہیں بلایا جو بعد میں طلب کیا گیا۔