مڈل کلاس بندے کے پاس فخر کے لیے صرف وفاداری ہوتی ہے
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل گرفتاری کے دوران چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف بیان دینے کے الزامات پر بول پڑے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو عمران خان کو بتایا گیا کہ میں نے ان کے خلاف بیان دیا۔شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 18 اکتوبر کی اہم میٹنگ میں ایوان صدر میں اہم شخصیت نے خان صاحب کو کہا کہ آپ کا گرفتار بندہ تو فر فر آپ کے خلاف بول رہا ہے۔
شہباز گل نے کہا کہ مڈل کلاس کے لوگوں کے پاس ایک ہی تو چیز ہوتی ہے فخر کرنے کو اور وہ وفاداری ہے۔ مجھے صرف اپنا نہیں اپنی پوری کلاس کا بھرم رکھنا تھا۔ اللہ نے مدد کی اور بھرم رکھ پایا۔
خیال رہے کہ پولیس کی جانب سے 9 اگست کو شہباز گل کو گرفتار کیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا تھا، ان پر اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے اور ان کے سربراہوں کے خلاف بغاوت پر اکسانے سمیت 10 سنگین نوعیت کے مقدمات درج تھے۔
- Advertisement -
۔پولیس کے مطابق شہباز گل کے خلاف مقدمے میں اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف اکسانے سمیت کئی دیگر دفعات بھی شامل کی گئیں۔ شہباز گل کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی اور طاقت ور حلقوں کے درمیان دوریاں مزید بڑھ گئیں۔شہباز گل کی گرفتاری پر پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے بہت سخت ردِعمل دیا گیا۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی ہماری آواز دبا نہیں سکتا، شہباز گل کو گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ہماری آواز دبا نہیں سکتا، شہباز گل کو گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا ہے۔بعدازاں شہباز گل پر شدید تشدد کی خبریں بھی سامنے آئیں۔16 اگست2022ء کو شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ جس دن ریمانڈ مسترد ہوا تب میڈیا نے دیکھا کس طرح میرے موکل پر تشدد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ شہباز گل پر تشدد اسلام آباد میں ہوا، یہ تفتیش نہیں کرنا چاہتے بلکہ تشدد کرنا چاہتے ہیں،ایسا کرنے کا ان کا کچھ اور ہی مقصد ہے۔شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ شہباز گل پر تشدد کیا گیا۔شہباز گل نے بھی عدالتی پیشی پر میڈیا کو بتایا کہ ساری ساری رات مجھ پر تشدد کیا جاتا ہے، انہوں نے بتایا کہ میرے جسم کے نازک اعضا پر تشدد کیا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے۔بعدازاں یہ بھی دیکھا گیا کہ عدالت پیشی پر شہباز گل کو سانس لینے میں دشواری کا سامناکرنا پڑا۔اس کے باوجود شہباز گل کا دوبارہ جسمانی ریمانڈ دیا گیا۔عمران خان نےشہباز گل کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کے فیصلے پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کی وجہ سے شہباز گل کی ذہنی اور جسمانی صحت کی حالت نازک ہے،شہباز گل کو دوبارہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنا میرے اور پی ٹی آئی کے خلاف جھوٹے بیانات دے کر نشانہ بنانے کی سازش کا حصہ ہے،تمام قانونی اقدامات اٹھائیں گے۔
شہباز گل کے لیے سوشل میڈیا پر بھی آواز اٹھائی گئی۔عدالت نے بعدازاں شہباز گل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔