MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اتنی سکیورٹی کیوں، ایسا لگ رہا تھا کہ آج کلبھوشن یادیو عدالت آ رہا ہو

0 351

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آبا د(مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر آج پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر 2 ایس پیز سمیت 778 افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے۔
سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ہائیکورٹ کے گرد مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر حفاظتی انتظامات کی ذمے داری سیکیورٹی ڈویژن کے سپرد کی گئی۔ عمران خان نے عدالت پیشی پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ آج کلبھوشن یادیو عدالت آ رہا تھا۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی اتنا خوف مجھے تو آج آتے آتے بھی 15منٹ لگ گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات میچ دیکھنے کےلیے وقت نہیں تھا۔گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنا نیاجواب جمع کرادیا، نئے جواب میں بھی عمران خان نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا،لفظ شرمناک توہین کے لیے استعمال نہیں کیا، جج زیبا چوہدری کے جذبات مجروح کرنا مقصد نہیں تھا،جج زیبا چوہدری کے جذبات مجروح ہوئے اس پر گہرا افسوس ہے،غیر ارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر گہرا افسوس ہے، اپنے الفاظ پر جج زیبا چوہدری سے پچھتاوے کا اظہار کرنے سے شرمندگی نہیں ہو گی، عدالت نے مجھے ضمنی جواب کی مہلت دی اس پر بھی تنقید ہوئی،سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی تاک میں رہنے والوں نے شدید تنقید کی۔
عمران خان کے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ آئندہ ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لوں گا، نہ تو کبھی ایسا بیان دیا نہ مستقبل میں دوں گا جو کسی عدالتی زیر التواء مقدمے پر اثر انداز ہو،میں عدلیہ مخالف بدنتیی پر مبنی مہم چلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا،عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے یا انصاف کی راہ میں رکاوٹ کا سوچ بھی نہیں سکتا،ہائی کورٹ اور اس کی ماتحت عدالتوں کے لیے بہت احترام ہے،شہباز گل پر ٹارچر کا سن کر غیر ارادی طور پر الفاظ ادا کیے،عدالت سے استدعا ہے کہ میری وضاحت کو منظور کیا جائے، جواب میں عمران خان نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ عدالتیں ہمیشہ معافی اور تحمل کے اسلامی اصولوں کو تسلیم کرتی ہیں،عفُو و درگُزر اور معافی کے وہ اسلامی اصول اس کیس پر بھی لاگو ہوں گے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.