’نواز شریف اور مریم نواز دونوں نئی ڈیل چاہتے ہیں‘ فواد چوہدری کا دعویٰ
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز دونوں نئی ڈیل چاہتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملک میں آنے اور مریم نواز لندن جانے کے لیے نئی ڈیل چاہتے ہیں ، ان معاملات پر ڈیل اور ڈھیل دونوں ہی اداروں کی آبرو کے لیے خطرہ ہیں ۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز شریف کو ڈیل دے کر پہلے ہی کافی تنازعات کھڑے کر دیے گئے ہیں ، اس لیے اب ان معاملات پر احتیاط لازم ہے۔
- Advertisement -
علاوہ ازیں فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تو گویا نرسری کے بچوں کو دے دی گئی ہے جو ہر کھلونے کو کھول کر دیکھنا چاہتے ہیں ، پٹرولیم کی قیمتوں میں ایک ہفتے میں 60 روپے کا اضافہ کیا گیا ، گیس کی قیمت میں 45 فیصد اور بجلی کی قیمت میں 47 فیصد اضافے کے بعد بھی ڈالر 200 روپے سے نیچے نہیں آیا ، اس صورتحال میں ملک میں معاشی فسادات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
دوسری طرف ماہر معاشیات ڈاکٹراشفاق حسن نے ملک میں پٹرول کی قیمت اس ماہ کے آخر تک 260 روپے فی لٹر ہونے کی پیش گوئی کردی ، انہوں نے کہا ہے کہ ابھی ایک یا 2 بوسٹر اور لگنے ہیں اور پٹرول کی قیمت اس ماہ کے آخر تک 260 روپے تک ہوجائے گی ، جب حکومت بدلتی ہے ہمیں آئی ایم ایف ، آئی ایم ایف کھیلنا پڑتا ہے ، مشرف گئے اور زرداری آئے تو آئی ایم ایف چلے گئے ، عمران خان آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہتے تھے تو عمران خان پر دباؤ ڈال کر آئی ایم ایف کے پاس لے جایا گیا ، حالات ایسے پیدا کیے جاتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جایا جائے ، ستمبرتک دیکھیے گا کیسے حالات ہوں گے اور کیا ہوگا ۔
ماہر معاشیات نے کہا کہ معیشت اور حالات کی بہتری جیسے الفاظ اپنی ڈکشنری سے نکال دیں کیوں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے کبھی معیشت اچھی نہیں ہوتی ، کوئی درد مند ایسے ظالمانہ طریقے سے قیمتیں نہیں بڑھا سکتا ، کوئی اور حکومت ہوتی تو اتنی زیادہ قیمتیں نہیں بڑھائی جاتیں ، اگر کسی کو پاکستان اورعوام سے محبت ہے تواس طرح قیمتیں نہیں بڑھاتا لیکن اب کوئی حکومت آئی ایم ایف کے چنگل سے نہیں نکل سکتی اور اگر کوئی حکومت نکلنا چاہے بھی تو رجیم تبدیل کردیا جائے گا ۔
اشفاق حسن نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف بہت غیرملکی دورے کر رہے ہیں ، ملک میں معاشی ایمرجنسی اور دورے پر بڑے بڑے وفد لے کر جا رہے ہیں ، اس صورتحال میں وزیراعظم کو مزید بیرون ملک دورے نہیں کرنے چاہئیں کیوں کہ بیرون ملک دوروں پر بہت زیادہ خرچہ آتاہے ، لوگ بیرون ملک جاتے ہیں تو ماہانہ سفر پر150 ملین ڈالر جاتا ہے ، اس وقت ایک ایک روپیہ ایک ایک ڈالربچانےکی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ماہر معاشیات نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نے بہت اچھا کام کرنا شروع کردیا تھا ، اسی لیے چیئرمین اپٹما نے کہا 3 سال میں ہمیں اتنا فائدہ ہوا جتنا ماضی میں نہیں ہوا کیوں کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی گروتھ بہت شاندار جا رہی تھی اور ٹیکسٹائل برآمدات 20ارب ڈالرتک جاسکتی ہیں۔