اسلام آباد(مسائل نیوز) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 4 نہیں 10 ارب ڈالر ہیں، کمرشل بینکوں کے پاس موجود 6 ارب ڈالر بھی پاکستان کے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے واجب الادا قرض وقت پر واپس کر رہے ہیں، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بہت جلد دوبارہ مستحکم ہوں گے، سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے فنڈز جلد پاکستان کو منتقل ہوں گے، اس کے علاوہ اس وقت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 4 نہیں بلکہ 10 ارب ڈالر ہیں کیوں کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود 6 ارب ڈالر بھی پاکستان کے ہیں۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا، جینیوا میں بھی آئی ایم ایف حکام سے ملاقات ہو گی جہاں سے واپسی پر3 روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں رکیں گے۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے ہیں اور ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی سال 2000ء کے بعد سب سے کم درآمدی کور ہے، اس امپورٹڈ حکومت کی نااہلی اور لاپرواہی کی وجہ سے ذخائر کی سطح موجودہ خطرناک حد تک کم ہے جب کہ ہماری حکومت ختم کرنے کے بعد سے آج تک ذخائر 16.4 بلین ڈالر سے کم ہو کر صرف 4.5 ڈالر رہ گئے ہیں۔
- Advertisement -
خیال رہے کہ غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 8 سال 9 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور ذخائر 25 روز کی درآمدات کی ضرورت پوری کرنے کی سطح پر آگئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے بینکوں کو مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر قرض کی ادائیگیاں کی ہیں، جن میں سے امارات این بی ڈی کو 60 کروڑ ڈالر اور دبئی اسلامک بینک کو 42 کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں، جس کے بعد زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 4.5 ارب ڈالر کی سطح پر آچکے ہیں، جو سرکاری ذخائر کی 8 سال 9 ماہ کی کم ترین سطح ہے، مارچ 2014 کے بعد پہلی مرتبہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 6 ارب ڈالرز کی سطح سے نیچے آئے ہیں۔
[…] (مسائل نیوز)پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ہو گیا۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے […]