جھوٹ کا مداریٌٌ
تحریر: کنول زہرا
- Advertisement -
پرانے وقتوں میں جھوٹے پر کوءی اعتبار نہیں کرتا تھا مگر جدید دور میں ہر بات کے معنی ہی بدل گءے ہیں، اب جھوٹے کو مقبول لیڈر کہا جاتا ہے، لیڈر بھی وہ جس کے اپنے دور کی مہنگاہی اور حالات کی ابتری سابقہ حکمرانوں کی غفلت تھی مگر ان کے نزدیک کسی دوسرے کے دور کی خرابی سراسر اس کی کوتاہی ہے،1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی فتح سے لیکر 27 فروری 2019 کے محاذ کی کامیابی کا ازخود مکمل کریڈٹ لینے والے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اس کمال ماہرات سے غلط بیانی کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ، چلیں جی کرکٹ ورلڈ کپ کی فتح کا کریڈٹ لینا تو کسی حد تک برداشت کیا جاسکتا ہے مگر 27 فروری 2019 کے محاذ کی کامیابی کا ازخود مکمل کریڈٹ لینا ہرگز بھی قابل قبول نہیں ہے۔ 26 فروری 2019 کو سہ پہر تین بجے ترجمان پاکستان آرمی کی پریس کانفرنس ہوتی ہے، جس میں میجر جنرل صاحب دشمن کے ایکشن پر سرپرائز دینے کا عندیہ دیتے ہیں جبکہ اس وقت کے وزیراعظم رات آٹھ بجے قوم سے خطاب کرکے
Don’t mess with my county
کا پیغام دیتے ہیں، اس بات کا کیا مطلب ہے، میرے خیال میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے، خان صاحب کی سابقہ اہلیہ کی کتاب کی عبارت کے تناظر میں جس وقت عمران خان کوکین کے جہاز اڑا رہے ہوتے ہیں اس وقت پاک فوج کے جوان دشمن کی اہم تنصیبات کے ٹارگٹ لاک کرکے ابھی نندن کے چاءے تیار کرچکے تھے، تو پھر غیر معتلقہ شخص کا کریڈٹ لینا یقینا حماقت کی انتہا ہے۔
یوں تو عمران خان کے جھوٹ کی لمبی فہرست ہے مگر ہم ان کے ماضی قریب کے جھوٹ پر نظر ڈالیتے ہیں ، عمران خان کے جھوٹ کی موجودہ سیریز میں پہلا جھوٹ یہ تھا کہ مجھے نکالنے کے لیے امریکہ نے سازش کی اور جھوٹ پر مبنی خط عوام کے سامنے لہرایا گیا۔ اس کے بعد سب نے دیکھا کہ وہ جھوٹ آہستہ آہستہ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ایک اور جھوٹ کی ضرورت تھی۔ پھر یہ جھوٹ بولا گیا کہ ان کے ‘دیرینہ محسنوں’ نے غداری کرتے ہوئے ان کی حکومت کا تختہ الٹا ہے۔ کہا گیا کہ باجوہ صاحب نے میر جعفر اور میر صادق کا کردارادا کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر ان کی حکومت کو ختم کیا ہے، پھر جھوٹ بولا گیا کہ میں تو ظاہری طور پر حکومت کررہا تھا اصل حکمران تو کوئی اور تھا، اگر عمران خان کے اس جھوٹ کو تسلیلم بھی کرلیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ “چیری باسم” کے لقب کے پہلے حقدار تو کپتان صاحب خود ہیں۔
پھر مزید جھوٹ یہ بولا گیا کہ جناب نیب میرے کنٹرول میں نہیں تھی، اس کو تو اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی تھی۔ اچھا تو پھر یہ بتاءیں کہ شہزاد اکبرکے اختیار میں نیب کو کس نے دیا تھا؟ آپ نے یا ارسلان بیٹا کہنے والی نے؟ پھر سابق وزیراعظم انتقامی جذبے کے تحت اپنھے مخالفین کو جو دھمکیاں دیا کرتے تھے اور ان کے اوپر جھوٹے مقدمات بنوا کر اور ان کو جیل بھجوا کر فخر کیا کرتے تھے وہ کیا تھا ؟ آپ نے اپنے پر تنقید کرنے والے صحافیوں کا جینا دوبھر کردیا تھا، یہ کس کی ایما پر ہوا ؟ مزید جھوٹ کی سیریز میں قاتلانہ حملے کا اسکرپٹ ایک اور بھونڈا جھوٹ بولا گیا, اس سیریز میں میڈیکل سرٹیفکیٹ سے لے کر زخموں کی ویڈیوز جاری کرنا تک جیسے جھوٹ در جھوٹ دیکھنے کو ملے۔
عمران خان کی حکومت جانے کے بعد سے محسن نقوی کے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب بننے تک عمران خان یا ان کی پارٹی کا کوئی رہنما محسن نقوی کا نام تک نہیں لیتا تھا لیکن جیسے ہی وہ نگران وزیر اعلیٰ بنے ہیں عمران خان نے ان کو بھی اپنے جھوٹ کے دائرے میں شامل کر لیا ہے, بعد ازاں ان کے جھوٹ کا اگلا نشانہ آصف علی زرداری بنے, بقول عمران خان آصف علی زرداری نے ان کو قتل کرنے کے لیے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو سپاری دی ہے۔
عمران خان جو اپنے منہ سے اپنے آپ کو بہادر کہتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے ہیں وہ گذشتہ چار ماہ سے ٹانگ پر پلستر بندھے زمان پارک لاہور میں ازخود
House arrest
ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ جیل بھرو تحریک کے بانی نے اپنی ضمانت سب سے پہلے کراکے اپنے کو محفوظ کیا، عدالت میں حاضری سے بچنے کے لیے ٹانگ کا پلستر سامنے کیا جبکہ سوشل میڈیا پر ان کی
exercise machines
دیکھی جا چکی ہیں جس سے ایک اور جھوٹ کا پردہ چاک ہوتا ہے، اب جبکہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ سنا چکی ہے تو انہوں نے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے، جس میں شرکت کے لیے ان کے ڈاکٹروں نے انہیں اجازت بھی دیدی ہے، یعنی اہل دانش کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ یہ بھی بھونڈا جھوٹ تھا جس کی مدت اپنے اختیام کو ہے، دارصل عمران خان اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ
لوگوں کو پے در ہے اتنا جھوٹ بتاؤ کہ وہ سچ ماننے لگ جائیں, اس کے ساتھ ہے ایک کے بعد ایک جھوٹ کا تسلسل قائم رکھو تاکہ معصوم لوگ اسی شیطانی چکر میں پھنسے رہیں اور ان کی دو نمبری چلتی رہے، تاہم یہ کھیل زیادہ عرصے نہیؓں چل سکتا ہے کیونکہ ایک نہ ایک دن سچ سامنے آئیگا، اور جب شاید عمران خان کے لیے حالات سازگار نہ ہو۔