“عالمی سازشیں اور افواجِ پاکستان”
تحریر : صدام لونی
- Advertisement -
کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم و ریاست کی مضبوطی کا دار و مدار اس کے جوان خون کا اپنی دھرتی کے ساتھ مخلص پن سے جڑا ہے، اگر جوان تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم و تربیت یافتہ ہیں تو کوئی قوم زوال پذیر نہیں ہو سکتی۔
جوانوں کا اپنے قوم کے ساتھ یک زبان ہو کر کھڑا رہنا اور اس کے بعد سرحدوں کی حفاظت کیلئے چوبیس گھنٹے معمور وہ فوجی جوان جو دن رات ، صبح و شام اپنی نیندیں حرام کر کے ہماری نیند و سکون کیلئے جان کی قربانیاں دیتے آئے ہیں۔
اگر کسی بھی گھر کی چاردیواری اور مرکزی دروازہ غیر محفوظ ہو تو اس گھر میں رہنے والے باسی کبھی خود کو عروج کی طرف نہیں لے جا سکتے، وہ ہمیشہ زوال میں ہی رہینگے اور وحشی جانور موقع پا کر اُن پر حملہ آور ہونگے۔ ملکِ پاکستان کا وجود و جغرافیائی اہمیت اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی سازشوں میں ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں، پاکستان کا نہری نظام، سیر و سیاحت کے قدرتی حسین و جمیل نظارے ، گرم پانی کا سمندر اور یہاں کے معدنیات کے وسیع و عریض ذخائر اور سی پیک جیسے قوم دوست اقدامات نے دنیا کو اس کشمکش میں ڈالا ہوا کہ اس ملک کو ہم ترقی یافتہ ہونے نا دیں۔
اور ان سب کے بعد وہ بہادر اور سیسہ پلائی دیوار جیسی فوج جو اپنے لہو سے آگ کے شعلے بجھانے سے بھی انکار نہ کرے ، یہ ہمت و بہادری عالمی دنیا کیلئے تشویش کا باعث تو بنینگی۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن قوتیں ایک جامع سازش اور پراپیگنڈے کے تحت ملکِ پاکستان میں جوانوں کے ذہنوں میں افواجِ پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتی آئی ہے لیکن دشمن ہمیشہ ناکام رہا ہے۔ عالمی شازشیں مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر افواجِ پاکستان کی کردار کشی کی جاتی رہی ہے اور ملکی سیاست کو فوج کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے، لیکن فوج نے اپنا فرض کبھی نہیں بھلایا اور سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ 2005 میں ہونے والا قیامت خیز زلزلہ ہو ، تھرپارکر کی قحط سالی یا پھر سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں۔
فوجی جوانوں نے ایک سرکاری ادارے کا فرض ادا کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو ہر مشکل سے نکالا ہے۔ عوام کی حمایت مسلح افواج کی طاقت کا سرچشمہ ہے، فوج کی تعمیری تنقید مناسب ہے لیکن اگر ہم اپنے گھر کے رکھوالوں کی کردارکشی کرینگے تو ہمارا گھر بھی نہیں بچے گا۔ مملکتِ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد سے لے کر اب تک ملکی سیاست میں داوٴ پیچ اور تبدیلیاں آتی رہی ہیں، فوج کے سیاسی کردار کے اوپر بھی کئی بار بہت کچھ لکھا اور بتایا جاتا رہا ہے لیکن عمران خان کی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہونے کے بعد تنقید کی زد میں آئی، عدلیہ کا عمران خان حکومت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینا اور عدلیہ کا آزادانہ فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فوج نے جمہوریت کی بقا و مضبوطی کیلئے جمہوری قوتوں کی حوصلہ افزائی کی وہ قابلِ ستائش امر ہے۔
اس سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ ملک میں ادارے خود مختیار ہیں اور ہماری عدلیہ مکمل آزاد ہے۔ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا کردار ماضی میں جیسا بھی رہا ہو لیکن ایک جمہوری عمل کو دوام اور حوصلہ بخشنا فوج کے کردار کو واضع کرتا ہے کہ ہماری فوج ملکی فوج ہے جو ہر مشکل وقت میں قوم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی نظر آئی ہے۔ کیونکہ پاکستانی فوج میں رنگ و نسل، ذات پات، فرقہ و مذہب نہیں دیکھا جاتا۔ فوج میں صرف یہ سکھایا جاتا کہ اپنے وجود و تن سے زیادہ دوسرے انسان کی بقا اور زندگی اس کیلئے اہم ہونی چاہیئے۔ ملک کا باسیوں اور بالخصوص جوانوں کو فوج کے ساتھ کھڑا ہو کر اُن کی حوصلہ افزائی کی کافی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اور قومی سلامتی اداروں کے خلاف ڈس انفارمیشن پھیلانے والے غیر ملکی عناصر کسی مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں گذشتہ کافی عرصے سے نظریہِ پاکستان، ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کو ہدفِ تنقید معمول بن گیا ہے۔
ہم بحثیت ایک قوم جہاں مسلمان ، ہندو ، سکھ ، عیسائی سب آباد ہیں ہم یک زبان ہو کر ان جعلی پراپیگنڈوں کے خلاف کھڑے ہو کر یہ ثابت کریں کہ ہم قائداعظم کے پاکستان کو ترقی کے منازل پر لے جائینگے۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود