MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سانحہ سیالکوٹ اور انسانی شکل میں درندے

0 520

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:محمّد شہزاد بھٹی

سانحہ سیالکوٹ پر جہاں پوری قوم افسردہ ہے وہیں پوری پاکستانی قوم کے سر پوری دنیا کے سامنے شرم سے جھک گئے ہیں اور ہمارے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر بہت سے سوال اٹھ گئے ہیں۔ جب سیالکوٹ کا المناک واقعہ پیش آیا تو فوری پولیس کو اطلاع کی گئی مگر پولیس کافی تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچی اور مشتعل ہجوم کو دیکھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی آخر کیوں؟ کیا ریاست لوگوں کے جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟ ایک شخص جس کا نام عمران خان ہے اس نے کہا تھا جب ہماری حکومت آئے گی تو باہر سے لوگ یہاں نوکریاں کرنے آئیں گے جب وہ جیسے تیسے کر کے وزیراعظم بنا تو اب لاقانونیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ جو باہر سے یہاں نوکری کر رہا تھا اسے ہی زندہ جلا دیا گیا۔ کیا اب کوئی آئے گا یہاں نوکریاں کرنے، پاکستان کو پستی میں دھکیلنے والی حکومت نے جو بیج کچھ سال پہلے ایک منتخب حکومت کے خلاف دھرنے، جلسے، جلوس، گھراؤ جلاؤ کر کے بویا تھا آج ایک بہت بڑا تنا آور درخت بن چکا ہے۔

- Advertisement -

اس درخت کی جڑیں اسٹیبلشمنٹ کی نرسری اور شاخیں پورے ملک میں پھیل چکی ہیں جن سے اب کوئی محفوظ نہیں۔ ‏مردان میں مشعال کو توہین رسالت پر قتل کیا گیا مگر الزام ثابت نہ ہوسکا۔ خوشاب میں بنک منیجر کو گارڈ نے توہین مذہب پر قتل کیا مگر الزام ثابت نہ ہوا۔ قصور میں قرآن پاک کی توہین پر ایک جوڑے کو قتل کیا گیا مگر الزام ثابت نہ ہوا۔ اب اسی الزام پر ایک انسان کو جلا دیا گیا، یہ ہم کس طرف جا رہے ہیں، ہم کس سے شکایت کریں؟ کیا ہم بس چپ رہیں کہ ہم اس قدر مردہ ضمیر اور بے حس ہو چکے ہیں۔ ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے نہ صرف آواز اٹھانی ہو گی بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ آج انسانیت ہم سے شرمندہ ہے کہ یہ کیسے انسان ہیں اور انسانی شکل میں درندے بے خوف و خطر گھوم رہے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی روکنے والا نہیں، قاتلوں کو اسلام کی آڑ نہ لینے دیں، قتل کی مذمت کیجئے، اسلام کے نام پر درندگی کی مذمت کیجئے، اسلام امن و آتشی اور محبت کا دین ہے، اس میں شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب دلائیے باقی دنیا کو یقین کہ اسلام امن کا دین ہے اور یہاں کے مسلمان اعتدال پسند لوگ ہیں مذہب کی توہین کے نام پر انسانیت کی توہین کرنے والے درندوں نے پاکستان کا نام رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

سری لنکن شہری کو سیالکوٹ میں بے دردی سے قتل کرنے اور اس کی لاش جلانے کا واقعہ اس جنونی معاشرے کے چہرے پر جو کالک مل گیا ہے اور اس کے اثرات بہت دیر تک بھگتنے پڑیں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے تو ہدایت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے جو پلک جھپک میں کسی کی جان لینے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ میرے پیارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی تعلیمات ایسی تو ہرگز نہ تھیں۔ کاش! 2017 میں لاہور سے چلنے والے جتھے جنہوں نے لوگوں کی گاڑیوں کو جلایا دیہاڑی دار لوگوں کے موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا، لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا، دکانوں کے شیشے توڑ کر مال لوٹا ان کو سزائیں دی جاتیں اور قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد ہوتا، گجرانوالہ کے نوجوان کانسٹیبل کو مار مار کر کھیتوں میں پھینکنے والوں کو سزا ہوتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ آج پاکستان کی رسوائی پوری دنیا میں نہ ہوتی، آج ہم تاریخ کے اس دوراہے پر نہ کھڑے ہوتے ان جنونیوں کو پتا ہے نہ ان کو سزا ہونی ہے نہ ان پر کوئی مقدمہ چلنا ہے اس لیے وہ کسی بھی مخالف پر ختم نبوت کا الزام لگا کر کے مار مار کر جان سے مار دیتے ہیں اور پھر آگ بھی لگا دیتے ہیں ان وحشیوں کو تو سزا ہونی ہی چاہیے لیکن جنہوں نے یہ وحشی بنائے ہیں جب تک ان کو سزا نہیں ہو گی یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ نرسری ہی ختم کی جائے جہاں پر اس طرح کے بیج بوئے جاتے ہیں جو تنا آور درخت بن کر پاکستان اسلام اور عوام کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.