پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعدگیس کی قیمتوں میں 45فیصد اضافہ
اسلام آباد(مسائل نیوز) پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعدآئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بھی دانت تیزکرلیے ہیں اور گیس کی قیمتوں میں 45فیصد اضافے کے لیے سمری حکومت کو ارسال کردی ہے جس پر اگر وفاقی حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرتی تو نئی قیمتیں خود بخود لاگو ہوجائیں گی.
- Advertisement -
رپورٹ کے مطابق ریگولیٹر نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کی آمدنی کی ضروریات کے بارے میں دو الگ الگ فیصلے بھیجے ہیں تاکہ صارفین کے ہر زمرے کے لیے گیس کی فروخت کی قیمت کے بارے میں مشورہ دیا جائے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت منظور کیے گئے اوگرا آرڈیننس میں ترامیم کے تحت وفاقی حکومت کو مختلف کیٹیگریز کے درمیان سبسڈی اور کراس سبسڈی کے فیصلوں کی بنیاد پر البتہ اوگرا کے مقرر کردہ مجموعی ریونیو ہدف کے اندر رہتے ہوئے تمام کیٹیگریز کے ہر سلیب کے لیے گیس کی قیمت تجویز کرنا.
قانون میں کہا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت 40 روز کے اندر اوگرا کو کیٹیگری اور سلیب کے حساب سے گیس کی قیمتوں کے بارے میں اپنی سفارشات فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اتھارٹی کی جانب سے ہر کیٹیگری اور سلیب کے لیے مقرر کردہ قیمتیں خود بخود نوٹیفائیڈ ہو جائیں گی اور گیس یوٹیلیٹی نئے نرخ وصول کرنے کی پابند ہوں گی. ریگولیٹر نے ایس این جی پی ایل کے لیے اوسطاً 854.52 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) مقرر کیا ہے جو 265 روپے فی یونٹ یا 45 فیصد زیادہ ہے کمپنی نے تقریباً 597 بلین روپے ریونیو حاصل کرنے کے لیے اپنے مقررہ نرخ میں 1623 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو میں 198pcیا 1,079 روپے فی یونٹ اضافے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ریگولیٹر نے 45 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے سالانہ 260 ارب روپے کی آمدنی کی اجازت دی.
اوگرا نے کہا کہ مندرجہ بالا اضافے کے اوپر گزشتہ برسوں کے 2 کھرب 64 ارب 89 کروڑ 40 لاکھ روپے کے شارٹ فال کے مالی اثرات، یعنی 720.20 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مناسب پالیسی فیصلے کے لیے وفاقی حکومت کو بھیجے گئے تھے اور اس لیے اسے فوری تعین کا حصہ نہیں بنایا گیا. خیال رہے کہ ایس این جی پی ایل کا پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گیس کی فراہمی کا نیٹ ورک ہے اسی طرح اوگرا نے ایس ایس جی سی ایل کے لیے 699.30 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی اوسط تجویز کردہ قیمت کا تعین کیا، جو کہ 44 فیصد یا 308 روپے فی یونٹ کا اضافہ ظاہر کرتا ہے ریگولیٹر نے مالی سال 23-2022 کے لیے ایس ایس جی سی ایل کی ریونیو کی ضرورت کو کمپنی کی جانب سے مطالبہ کردہ 2 کھرب 87 ارب روپے کی بجائے 2 کھرب 85 ارب 20 کروڑ روپے میں منظور کیا.
اوگرا نے کہا کہ اس نے مالی سال 23-2022 کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے گیس کمپنیوں کے مطالبے میں نمایاں کمی کی ہے اتھارٹی کا کہنا ہے کہ قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کے ساتھ کرنسی کی قدر میں کمی اور گیس کے بے حساب نقصانات اور سرمائے کے اخراجات ہیں.
[…] آباد (مسائل نیوز)سوئی ناردرن اور سوئی سدرن نے گیس کی قیمتوں میں237 فیصد تک اضافے کی درخواستیں اوگرا […]