پی ٹی آئی کے مستعفی 81 اراکین قومی اسمبلی تاحال پارلیمنٹ لاجز میں مقیم
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی 81 اراکین قومی اسمبلی کے تاحال پارلیمنٹ لاجز میں مقیم ہونے کا انکشاف ہوگیا۔ جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ 23 جنوری کو 100 سےزائداراکین اسمبلی کو7 روز میں لاجز خالی کرنےکی ہدایت کی گئی تاہم نوٹس کےباوجود 81 اراکین نے رہائش گاہیں خالی نہیں کیں، جس کے باعث حکومت نے پیرکو انتظامیہ کے ذریعے مستعفی اراکین سےلاجز خالی کروانےکا فیصلہ کیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس وقت بھی پی ٹی آئی کے ارکان کےاستعفوں کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں مقیم پی ٹی آئی ارکان سے کمرے خالی کرانے کا سلسلہ شروع جاری ہے، ہفتے کے روز سی ڈی اے نے کارروائی میں رہنما پی ٹی آئی فرخ حبیب کے کمرے کا تالا توڑ کر سامان باہر نکال دیا جب کہ 8 ارکان نے اپنے کمروں کی چابیاں انتظامیہ کے حوالے کردیں اور بعض نے مہلت لے لی۔
ادھر پی ٹی آئی نے 43 سابق رکن قومی کے استعفے منظور کرنے کا اقدام عدالت میں چیلنج کر دیا، لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے 43 سابق ایم این ایز کے استعفوں کی منظوری کے اقدام کیخلاف درخواست دائر کر دی گئی، درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ ریاض فتیانہ، نصر اللہ خان اور طاہر صادق سمیت دیگر نے عدالت میں درخواست دائر کی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ارکان اسمبلی نے استعفے منظور ہونے سے قبل ہی واپس لے لیے تھے، استعفے واپس لینے کے بعد اسپیکر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ استعفے منظور کرے، ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنا خلاف قانون اور بددیانتی پر مبنی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ ارکان قومی اسمبلی کے استعفے عدالت عظمٰی کے طے کردہ قوانین کے برعکس منظور کئے گئے، اسپیکر قومی اسمبلی نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے استعفے منظور کیے، استعفے منظور کرنے سے پہلے اسپیکر نے ممبران کو بلا کر مؤقف نہیں پوچھا، ارکان اسمبلی کی مرضی کے بغیر استعفے منظور کرنے کااقدام غیر آئینی ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے استعفے منظور کرنے کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے۔