کیا کرپٹو مارکیٹ کریش ہونیوالی ہے؟ بِٹ کوائن کی قیمت میں کمی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے
کراچی (مسائل نیوز)کرپٹو کرنسی مارکیٹ نے نومبر کے آغاز پر شدید مندی کا سامنا کیا ہے، جب صرف بارہ گھنٹوں کے اندر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر سے زائد کے سرمایہ کارانہ سودے ختم ہو گئے۔
مارکیٹ کے ابتدائی سیشنز میں تیزی سے ہونے والی اس گراوٹ نے سرمایہ کاروں میں بے چینی اور ممکنہ نئے کریش کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق بِٹ کوائن کی قیمت میں چار فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 105699 امریکی ڈالر تک گر گئی جو تین ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔
اسی طرح ایتھریم کی قیمت میں سات فیصد کمی کے بعد یہ 3583 امریکی ڈالر پر آگئی، جو تقریباً تین ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 08 ارب ڈالر کے ایسے معاہدے ختم ہوئے جن میں قیمتوں کے بڑھنے کی امید پر سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
- Advertisement -
اس کے برعکس متبادل کرپٹو کرنسیز یا آلٹ کوائنز نے اس سے بھی زیادہ مندی کا سامنا کیا۔ ایکس آر پی کی قیمت سات فیصد گر کر 2 اعشاریہ 33 ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ بی این بی ، سولانا اور ڈوج کوائن کی قیمتوں میں تقریباً نو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اکتوبر کے مہینے میں متوقع اَپ ٹوبر ریلی نہ آنے کے بعد نومبر کا آغاز بھی کرپٹو مارکیٹ کے لیے مایوس کن رہا۔ کئی بڑے سرمایہ کار اور مارکیٹ تجزیہ کار اس ماہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
تحقیقی اداروں کے مطابق نومبر کے معاشی اعداد و شمار پیچیدہ ہیں، جس کے باعث کرپٹو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
اسی دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد سرمایہ کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے احتیاطی طور پر اپنی رقوم مارکیٹ سے واپس نکال لی ہیں تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔
رپورٹوں کے مطابق گزشتہ بارہ گھنٹوں میں سرمایہ کاروں نے 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر سے زائد رقم نکال لی ہے اور اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو مزید نقصانات کا خدشہ ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ کرپٹو مارکیٹ اب بھی انتہائی غیر مستحکم ہے، جہاں معمولی معاشی یا سیاسی خبریں بھی بڑے پیمانے پر مالیاتی جھٹکوں کا باعث بن سکتی ہیں۔