MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

خدارا بچالو پاکستان کو…. 

0 432

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
26 اکتوبر کو فیصل واڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جو لانگ مارچ کرنے جا رہے ہیں اس میں مجھے لاشے نظر آ رہی ہیں, یوں تو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان, سینئر صحافی ارشد شریف کو اپنا دوست کہتے تھے, ان کے جنازے تک میں شرکت نہیں کی, چیئرمین تحریک انصاف نے عین اسی دن لانگ مارچ کا آغاز کیا,جس دن ارشد شریف کو سپرد خاک کیا گیا تھا جبکہ عمران خان کے کہنے پر ہی ارشد شریف نے کینیا کا رخ کیا تھا, پھر افسوسناک خبر نے پورے ملک کو سوگوار کیا,  لانگ مارچ کا آغاز ہی خون ناحق کے پیوند خاک ہونے سے ہوا, پھر خاتون رپورٹر صدف نعیم کی آن ڈیوٹی شہادت, ایک لڑکے کی کنٹینر سے ٹکر لگ جانے کے سبب ہلاکت, ایک بزرگوار کا ہارٹ فیل ہو جانے کے سبب انتقال, ایک پولیس اہلکار دوران ڈیوٹی دل کا دورہ پڑنے سے شہید, پی ٹی آئی کا ایک کارکن کنٹینر سے گر کر ہلاک ہوا, یعنی دو طبی موت کو نکال کر باقی اموات انتظامی غفلت کا سبب بنی ہیں, اس کے ساتھ ہی کھانے پینے کی چیزیں نہ ہونے پر بھی کارکناں کے لڑنے جھگڑنے کی خبریں بھی ابتدائی دنوں سے آنا شروع ہوگئی تھیں,لانگ مارچ کے شیڈول کی بار بار تبدیلی بھی دیکھنے کو ملی, غالبا جس کی وجہ ‘کسی کی ‘ بے جا توجہ لینا کا اشارہ ہے مگر بات بنتی نظر نہیں آئی کہ اچانک عمران خان پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں, حملہ آور نے خان صاحب کے ٹانگوں پر گولی چلائی, فائرنگ کی وجہ سے فیصل جاوید سمیت چھ افراد زخمی اور ایک جاں بحق ہوا, عمران خان الله کے فضل سے ٹھیک ہیں,ملہ آور پولیس کی حراست میں ہے, جس نے اپنا بیان قلم بند کراتے ہوئے کہا کہ عمران خان لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے, مغرب کے وقت ڈیک چلاتا ہے, اس لئے اسے مارنا کے غرض اس پر گولی چلائی, حکومتی, سیاسی و عسکری شخصیات نے چیئرمین تحریک انصاف پر حملے کی شدید مذمت کی اور واقعے کی مزید شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا, دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے میڈیا کو بتایا کہ اب سے تھوری دیر پہلے مجھے اور میاں اسلم اقبال کو عمران خان نے بلا کر کہا کہ میرے کہنے پر یہ بیان جاری کرو کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کی زمے داری شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل نصیر پر عائد ہوتی ہے, ان تین افراد کو فوری ہٹایا جائے ورنہ ملک گیر مارچ کیا جائے گا. گذشتہ روز انٹیلی جنس کے ذرائع کے مطابق کچھ مسلح جھتوں کی مارچ میں شرکت کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی تھیں جبکہ شام میں لانگ مارچ میں فائرنگ اور عمران خان کے زخمی ہونے کی خبر ذرائع ابلاغ کا حصہ بنی, سوال یہ ہے جب انٹیلی جنس نے باخبر کر دیا تھا تو صوبائی انتظامیہ نے موثر اقدامات کیوں نہیں کیے? یہ افسوسناک واقعہ پنجاب پولیس کی سیکیورٹی کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے, عمران خان جب اپنے آپ اور لانگ مارچ شرکا کو اپنے ہی حکومت کے صوبے میں محفوظ نہیں رکھ سکتے تو وفاقی حکومت سے کیا گلہ? آخر کیسے اسلحہ بردار لانگ مارچ میں عمران خان کے کنٹینر تک پہنچ گیا?پولیس نے حملہ آور کو AK-47 کے ساتھ کیسے جانے دیا?
Quick reaction forces
کی موجودگی میں یہ ناخوشگوار واقعہ کا رونما ہونا انتہائی غفلت کا سبب ہے,
پاکستان کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ اس ساری افراتفری سے کسے فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ کچھ روز قبل خان صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ میری پارٹی میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر مجھے اتنا بھروسہ نہیں مگر کچھ پر ابھی بھی ہے, چند روز قبل عمران خان اچانک لانگ مارچ سے لاہور چلے گئے جس کی وجہ اسد عمر نے کسی سے ملاقات کی بتائی مگر عمران خان نے اس بات کو یکسر مسترد کیا, پاکستان کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ کیا سڑکوں پر اس طرح کی سیاسی مفاد کی سرگرمی کے ساتھ ملک کو تقسیم کرنا مناسب  ہے؟ پاکستان پر عزم اور ترقی پذیر ملک ہے, ہمیں اس تقسیم زدہ سوچ سے نکل کر  اپنی نسلوں کو ترقی یافتہ  اور محفوظ پاکستان دینا ہوگا, ہمیں  تجزیہ کرنا ہوگا کیا گالی, گولی کا یہ ماحول ہماری تہذیب  ہے?  کیا ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں یا پھر کسی کی اندھی تقلید میں اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں ؟ پاکستان کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ پاکستان کو چھاتہ بردار فوجوں کا مسکن بنانا چاہتے یا پھر مضبوط اور محفوظ پاکستان, 75 سال کا پاکستان اپنی 22 کروڑ اولاد سے اپنا تحفظ  مانگ رہا ہے, خدارا بچالو پاکستان کو….

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.