MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بھارتی صحافت پر مودی کے حملے

1 572

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو سخت سنسر شپ کا سامنا ہے, صحافیوں کو مقامی پولیس اسٹیشنوں پر متواتر حاضری لگانا پڑتی ہے,  ”دی وائر” میں شائع  خبر کے مطابق گزشتہ دو سال میں کم از کم چالیس کشمیری صحافیوں کا ڈیٹا جاننے  کیلئے پولیس نے طلب کیا بلایا گیا جبکہ معتدد کشمیری صحافیوں کو بیرونِ ملک سفر کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ کم از کم چھ کشمیری صحافیوں پر باضابطہ طور پر دہشت گردی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ رپورٹرز ود آٹ بارڈرز کے مرتب کردہ ایک سو اسی ممالک کے سالانہ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں گزشتہ سال بھارت دو درجے گر کر ایک سو بیالیس ویں نمبر پر تھا۔ بھارت میں صحافیوں پرحملوں کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ھے کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت صحافیوں کیلئے غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے۔ گیتا سیشو کی جانب سے فری اسپیچ کلیکٹو کیلئے کی گئی تحقیق کے مطابق سنہ دو ہزار بیس میں سرسٹھ صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور تقریباً دو سو پر باضابطہ حملے کئے گئے۔ ایک صحافی جو ریاست اتر پردیش میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی کوریج کرنے جارہا تھا، پانچ ماہ سے جیل میں ہے۔ دہلی میں مقیم فری لانس صحافی نیھا دکشت کا کہنا ہیکہ ان کا پیچھا کیاگیا، کھلے عام عصمت دری اور قتل کی دھمکیاں دی گئیں، بری طرح سے ٹرول کیا گیا اور ان کے اپارٹمنٹ میں گھسنے کی کوشش کی گئی۔ رواں ہفتے پولیس نے ایک اور فری لانس صحافی روہنی سنگھ کو مبینہ طور پر قتل اور عصمت دری کی دھمکیاں بھیجنے کے الزام میں قانون کی ایک طالبہ کو گرفتار کیا جن صحافیوں نے خاموش ہونے سے انکار کیا، ان پر حملے کئے گئے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک آزاد صحافی اور ایڈیٹر فہد شاہ پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ  پی ایس اے کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے جسکے تحت انہیں دو سال تک بغیر کسی مقدمے کے جیل میں رکھا جاسکتا ہے اور ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف حکومت کے کریک ڈان کی رپورٹنگ کی تھی۔
ہندوستان خواتین صحافیوں کےلیے بھی خطرناک ملک بن گیا ہے
چھ ستمبر 2017 کو مودی کی مخالف بھارتی خاتوں صحافی گوری لنکیش کا قتل بھی ہوچکا ہے,لنکیش دائیں بازو کے خیالات کے حامی ہندوؤں کی بھی بڑی نقاد تھیں۔ ان کو یقین تھا کہ مذہبی اور اکثریتی سیاست سے انڈیا کو نقصان پہنچے گا۔
بھارتی صحافی عرشی قریشی کی بھی اسی “بولی بائی‘ ایپ پر جعلی نیلامی کی گئی تھی جس میں بہت سی دیگر مسلم خواتین اور لڑکیوں کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔اگرچہ ایپ کو سخت تنقید کے بعد بند کردیا گیا ہے لیکن انہیں ڈرانے دھمکانے اوران کے خلاف آن لائن ٹرولنگ کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔
عرشی نے وی او اے کو بتایا کہ ” اگر میں حکومت پر تنقید ی ٹویٹ کروں یا کوئی پوسٹ لگاؤں تو اکثر سماجی میڈیا پر میرے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے”۔
انھوں نے کہا کہ ایک صحافی کے طور پر یہ ان کا کام ہے کہ اپنے ملک کو متاثر کرنےوالے سماجی وسیاسی مسائل پر رپورٹنگ کی جائے۔لیکن ایسا کرنا مشکل اور خطرناک ہوتا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ خاموش نہیں رہ سکتیں، کیونکہ یہی تو وہ چاہتے ہیں۔ وہ مسلم خواتین کی آواز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں۔
یہ صرف عرشی قریشی کا معاملہ نہیں ہے۔
رعنا ایوب کو خواتین کے حقوق، حکومت کے احتساب اور ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پر مسلسل رپورٹنگ کی پاداش میں مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے
کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 2021ء میں دنیا کے مختلف حصوں میں ہلاک ہونے والے 27 صحافیوں میں سے پانچ کا تعلق بھارت سے ہےاورسیکولر اورجمہوری حیثیت کے باوجود رپورٹرز ودآوٹ بار ڈر کے ورلڈ پریس فریڈم انڈکس میں میانمار اور پاکستان کے بعد ہندوستان کا 142واں نمبر ہے۔
صحافت کے خلاف اس جنگ میں نریندر مودی حکومت نہ صرف دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے ذریعے صحافیوں پر حملہ کررہی ہے بلکہ حکومتی ہمدردوں اور ان کی سوشل میڈیا  کے ذریعے  دھمکیاں اور  ہراساں بھی کر رہی ہے تاکہ کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کی اواز بندی کے لئے آزاد میڈیا کو لگام ڈالی جائے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] میں قائم جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طالبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے لیکچرار کو معطل کردیا جبکہ احتجاجی طالب […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.