ضرورت ھے دل کی آنکھ سے تلاش کی۔۔۔!!
تحریر: جاوید صدیقی
- Advertisement -
اہسے لوگ خود کو دھوکہ دیتے ھیں، ھوتے تو وہ مسلم ھیں مگر ایمان سے خالی۔ موجودہ دور پندرہ ویں صدی کا ھے۔ اس میں ہر شعبہ میں، ہر طبقہ میں، ہر مسلک میں، ہر امور میں اور ہر شعبہ ہائے زندگی اور فکرات و افکار میں ایسے مسلمانوں کی بہت ہی زیادہ تعداد بڑھ چکی ھے جن کے چہروں پر ڈاڑھیاں سجی ہیں، پنج وقتہ تو کیا تہجد گزار بھی ھیں، فصیح و بلیغ بیانات، خطبات، تقاریر اور گفتگو بھی کرتے ھیں اور عقیدتمندوں کی تو ایک طویل و لمبی فہرست بھی موجود ھیں۔ کچھ تو ایلیٹ جماعت، اشرفیہ اور شاہی دربار میں نور نظر اور خاص الخاص مقام رکھتے ھیں اور چند ایک ایسے بھی جو زمانہ حال کے تقاضوں کے مطابق چینلز کے مالکان ھونے کے ناطے آدھے پیر، فقیر، درویش، بزرگ اور ولی کامل بن بیٹھے ھیں اور کچھ نے آستانے، خانقاہیں، درگاہیں سجائے رکھی ھیں مگر ان سب کا احاطہ کیا تحقیق کی مشاہدہ کیا اور اپنے تجربات سے گزارا تو نہایت دکھ اور افسوس ھوا۔ آپ ﷺ کی وہ تمام احادیث سامنے حقیقتاً آگئیں کہ آخیر زمانہ دجالی اور فتنہ و فساد میں ایسے لوگوں کی اکثریت اور بہتات ھوجائیگی جو دین کو درہم و دینار میں تولیں گے اور علمائے سو اور منافقین چھا جائیں گے۔ میری تحریر ہر دو نمبری اور مبافقین کو شدید تکلیف پہنچتی ھے اور جو رحمان کے پسندیدہ بندے ھوتے ھیں اور اللہ واحد لاشریک کا قرب حاصل کرلیتے ھیں تو نہ انہیں خرقہ کی حاجت ھوتی ھے اور نہ دستار اور نہ کسی مخصوص لباس کی۔ وہ ہر شکل، ہر انداز اور ہر طرح رب العزیز اور رسول اللہ ﷺ کی خاموشی سے اطاعت گزاری اور احکامات کی پیروی میں مصروف عمل رہتے ھیں۔ ایسے اللہ واحد لا شریک کے نیک، منتخب اور مقرب بندوں کی تلاش میں دنیا والے سرگرداں رہتے ھیں لیکن وہ انہیں ہی ملتے ھیں جو تلاش حق والے اپنے دل کو پہلے شفاف بناتے ھیں۔ بناء شفافیت کے آئینہ بھی چہرہ نہیں دیکھاتا یہ تو رب کی محبت و عشق کی رہنمائی کا راستہ ھے۔ قرآن کو پڑھنا ثواب، سمجنا لاجواب، عمل کرنا بے مثال لیکن اس نہج تک پہنچنا ہی محال ھے۔ اس منزل کی راہنمائی اور سلیقہ مندی یہی نیک بندے اپنے اعمال اور تربیت سے بتاتے اور سیکھاتے ھیں۔ یہاں میں بس اتنا کہوں گا کہ ایک عظیم عالم دین جو علم پر بہت زیادہ دسترست رکھتے تھے جنھیں عالم اسلام جلال الدین رومی کے نام سے جانتا ھے انہیں ایک عام سے انسان جو کہ درویش تھے حضرت شمس تبریز نے جس طرح مولانا کو مقام ولایت و طریقت کی بلندی پر پہنچایا بس یہی منزل حیات ھے۔ آج بھی علماء و مشائخ، مفتیان کرام، پیر عظام، درویش، قطب، ابدال اور ولی کامل ھیں بس محنت، جستجو، لگن اور تلاش کی ضرورت ھے یاد رکھئے ہر چمکتی شے سونا نہیں ھوتی۔ ممکن ھے آپکے گھر میں ایسے کامل ھوں آپ کے محلہ قرب و جوار میں ھوں، وہ جنگل اور پہاڑوں میں نہیں بلکہ آپ کے درمیان ھوتے ھیں کیونکہ شریعت و طریقت ان میں مکمل سمائی ھوئی ھوتی ھے عام لوگوں کی طرح ان کا طرز زندگی ھوتا ھے بس عام آنکھ کی طرح سے ظاھر اور نظر نہیں آتے اس کیلئے دل کی آنکھ کو کھولنا اور دماغ کو بند کرنا شرط ھے۔