Regime change, absolutely not
تحریر: کنول زہرا
- Advertisement -
پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور حکومت میں روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں پاکستان نے روس کے مقابلے میں امریکہ کو ترجیح دی، کیونکہ روس ایک کمیونسٹ جبکہ امریکہ ایک جمہوری ملک ہے۔ قائداعظم نے 1947 میں کابینہ کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ”پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، اور کمیونزم اسلامی ممالک میں نہیں پنپ سکتا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے مفادات روس کی بجائے امریکہ اور برطانیہ سے وابستہ ہوں گے۔“
لمحہ لمحہ بانی پاکستان کے فرمودات کا سہارا لیتے عمران خان نے قائداعظم کے اس قول کا ذکر کبھی نہیں کیا, امریکہ پر ریجیم چینج کا الزام لگاتے عمران خان نے رواں سال میں ہی دو بار امریکی وفد سے مل چکے ہیں, تحریک عدم اعتماد کے باعث اقتدار سے باہر ہونے کی خفت کو مٹانے کے لئے ریجیم چینچ کا نام دینے والے عمران اپریل ہے ستمبر میں امریکی وفد سے ملاقات کرچکے ہیں, خیبر پختونخواہ کی حکومت بھی امریکیوں کی بہت آو بھگت کر چکی ہے تاہم
عوام کو ریجیم چینچ کی ٹرک کی بتی پر لگایا ہوا ہے, آڈیو لیک میں عمران خان امریکہ کا نام نہ لینے کی تاکید کرتے سننے گئے ہیں مگر عوام کے سامنے سچ بتانے سے گریز کر رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ اقتدار کا لالچ اور خود نمائی کا نشہ ہے.
رواں سال 31 اکتوبر کو واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے نجی نیوز چینل کے رپورٹر کے سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پہلے بھی متعدد بار واضح کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے رجیم چینج کے الزامات حقائق پرمبنی نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا ان بے بنیاد پروپیگنڈے، مس انفارمیشن یا ڈس انفارمیشن کو پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی راہ میں نہیں آنے دے گا۔ترجمان محکمہ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں ہوا ہے تاہم امریکا پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن آئینی اور جمہوری اصولوں پر عمل در آمد کی حمایت کرتا ہے, امریکہ کو لیکر عمران خان کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے,پاکستان اورامریکہ کے مشترکہ طور پر خطے کے استحکام ،عالمی قیام امن اورعلاقائی اوربین الاقوامی معاشی ترقی کے فروغ کے خواہاں ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں استحکام، تعلیم اورصحت اور معاشی ترقی کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے, 2009 سے لیکر تا حال امریکی حکومت نے پاکستان کو امداد کی مد میں پانچ ارب ڈالر اور ہنگامی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیےایک ارب ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کی ہے جبکہ مجموعی طور پر ہم امریکہ کے 13 کڑوڑ 20 لاکھ ڈالرز کے بھی مقروض ہیں, جس کی ادائیگی کو سیلاب کی وجہ امریکہ نے موخر کردیا ہے
عالمی وبا کورونا کے دنوں میں امریکہ نے پاکستان کو چھ کروڑ دس لاکھ ویکسین بھی عطیہ کی, اس کے ساتھ سات کروڑاسّی لاکھ ڈالرمالیت کی براہ راست اور سامان کی مد میں امداد بھی کی۔پاکستان کی سیلابی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے
پاک،امریکا تعلقات کی75ویں سالگرہ کی تقریب میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے دوران خطاب اردو میں کہا کہ ’اچھا دوست برے وقت کو بھی اچھا بنا دیتا ہے, پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کبھی کیشدگی تو کبھی قربت کے حامل رہے ہیں تاہم خطے کے استحکام اور عالمی امن کی خاطڑ دونوں ممالک کو ہی ایک دوسرے کی ضرورت رہی ہے, امریکہ جانتا ہے کہ
تعمیری کردار کا حامل مستحکم اور خوشحال پاکستان اس کے لئے بہتر ہے۔