بلوچستان فوڈ اتھارٹی صرف فوٹو سیشن تک محدود ہے، کاشف حیدری
کوئٹہ (ویب ڈیسک) اتحاد تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) کے انفارمیشن سیکرٹری اور سماجی کارکن کاشف حیدری نے کہا ہے کہ شہر کے وسط میں مرغیوں کا مردہ گوشت فروخت ہونا فوڈ اتھارٹی کے کارکردگی پر سوالیہ نشان، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ہزارہ ٹاون میں فوڈ اتھارٹی کی سرٹیفیکیٹ کیلئے فارم اور چالان کے مد میں ہزاروں روپے بٹورنے کے سلسلے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز اپنے جاری کردہ بیان میں کہی۔
- Advertisement -
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اخباروں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پنجاب و دیگر صوبوں سے آنے والی غیر معیاری اور مردہ مرغیاں ریڑھی پر سبزی کی طرح دھڑی کے حساب سے فروخت کی جارہی ہیں جو کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان فوڈ اتھارٹی غیر معیاری، حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف فروخت ہونیوالی مردہ مرغیوں کے خلاف کارروائی کے بجائے ہزارہ ٹاون کے ہوٹلز اور پرچون کی دکانوں سے فوڈ اتھارٹی کے لائسنس کے چالان کی مد میں بلاوجہ عوام سے ہزاروں روپے بٹورا جارہا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کیجانب سے ہزارہ ٹاون میں فارم تقسیم کیا جارہا ہیں اور کہا جارہا ہے کہ ہزاروں روپے کا چالان جمع کرکے لائسنس بنایا جائے۔ چھاپے کی صورت میں اگر لائسنس نہ دکھایا گیا تو دکان سیل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی اس اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے حکام غریب تاجروں اور دکانداروں پر چھاپے مار کر اپنی بیانات اور تصاویر اخبارات پر سرخیوں کی صورت میں شائع کرواتے ہیں مگر شہر کے عین وسط جوائنٹ روڈ میں مردہ اور غیر معیاری گوشت کا فروخت فوڈ اتھارٹی کے حکام کیلئے سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے چھاپے غریب دکانداروں کی دکانوں اور فوٹو سیشن تک محدود ہیں۔