نظامِ خلافت ہی ھماری بقاء کی ضمانت ھے۔۔۔ !!
کالمکار : جاوید صدیقی
- Advertisement -
اسلام ، قرآن اور پاکستان غور و فکر اور توجہگی سے صاف و شفاف طور پرعیاں ھوتا ھے کہ سر زمین پاکستان اسلام کیلئے بنایا گیا اور پھر قرآن کے مطالعہ اور تفسیر و تحقیق سےبھی کئی اشارے اس سمت نظر آتے ھیں اگر قرآن پاک کی بارکیوں اور اشاروں کی گہرائیوں کی طرف مکمل یکسوئی کیساتھ توجہ کی جائے تو واضع ھوجاتا ھے کہ دین کی سربلندی کیلئے یہی خطہ منظور و منتخب کیا گیا ھے۔ اسلام سر زمین عرب سے شروع ھوا اوردنیا بھر میں پھیل گیا لیکن عربوں نے اللہ کیجانب سے عطا کردہ بے پناہ دولت کو دین محمدی کے فروغ اور مسلمانوں کی حالت ابتر کو بہتر بنانے کے بجائے کافرین و مشرکین یہود و نصاریٰ کی عیاریوں چالاکیوں اور دھوکہ میں آکر امت مسلمہ کو سنبھالنے کے بجائے تن تنہا چھوڑ دیا۔مسلم امہ کی ریاستوں کے بیشتر ممالک کے سربراہان مملکت وشاہی خاندان غلامانانِ یہود و عیسائی ھوگئے اور مسلم امہ کو فوقیت و اہمیت دینے کے بجائے ان مشرکین کی حسین دوشیزاؤں کے سحر میں اکسیر ھوگئے اگر پاکستان کی بات کیجائے تو جو ملک و ریاست خالصتاً نظریہ اسلام پر معروضِ وجود میں آیا تھا وہاں پر نواب لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سے تا حال یہود و مشرکین کے ایجینٹس قابض ھوگئے اور اسلام مخالف نظام جمہوریت کو دھوکے سے نافذ کردیا جس کے منفی اثرات نے ملک کو تہہ بالا کرکے رکھ دیا ھے۔ ریاستِ پاکستان کئی طبقات میں منقسم ھوگئی ھیں ایک طبقہ ایلیٹ کلاس ھے جو خود کو سپیرئیر یعنی اعلیٰ ترین سمجھتا ھے اس طبقہ میں اشرفیہ، سول و عسکری بڑے نوکر شاہی طبقہ، جسٹس حضرات،بڑے شاہی دربار کے عالمِ دین و بڑے شاہی دربار کے پیر عظام اور بڑے بڑےصنعتکار و تاجران اور بڑے میڈیا مالکان و سہولتکار شامل ھیں۔ اب رھا وہ طبقہ جو شب و روز گدھوں گھوڑوں کی طرح محنت و مشقت کرتے ھیں اور ٹیکسوں کے انبار چھیلتے ہیں۔ بنیادی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں۔ کمزور و مغلوب طبقہ سمجھا جاتا ھے اسی طبقہ پر ایلیٹ کلاس عیش و عشرت کرتے ھیں۔۔۔ معزز قارئین!! میری ڈاکٹر خالد حسین شہزاد صاحب جو چیرمین المصطفیٰ فاؤنڈیشن پاکستان ھیں ان کی ایک تحریر کے مطالعہ کا شرف حاصل ھوا وہ لکھتے ھیں کہ خلافت کا مسلہ بڑا آسان ھے لیکن امت نے اس پر سیاست کی اور ٹکڑے ھوگئی جب ھمارا ایمان ھے کہ حضور اکرم ﷺ جو کچھ فرماتے ھیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرماتے ھیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم کبھی کوئی روک نہیں سکتا وہ ھوکر رہتاھے اگر حضور اکرم ﷺ نےکسی کو خلیفہ بنایا تھا تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنایا تھا اور آپ بتائیں اس شخص کو کون خلیفہ بننے سے روک سکتا تھا۔ لہٰذا حضور اکرم ﷺ نے کسی کو خلیفہ نامزد اشارے سے بھی نہیں بنایا۔ یہ مسلہ اوپن تھا کہ صحابہ کرام جس کو مرضی بنالیں۔ اسی وجہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نہ کبھی دعویٰ کیا نہ خلافت کے حصول کیلئے کوشش کی۔بلکہ خلفائے راشدہ کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا۔ اب جو لوگ یہ ایمان رکھتے ھیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تھا لیکن صحابہ کرام نے نہیں بنایا وہ باطل ھیں اور حضور اکرم ﷺ پر جھوٹ بولنے کی وجہ سے جہنمی ھیں کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ آپکی ظاہری زندگی میں بھی اور اب تک ویسا ھورھا ھے اور جو کچھ پہلی امتوں کی خبر دی وہ بھی سچ ھے یہاں تک کہ حضور اکرم ﷺ اس آخری جہنمی کو بھی جانتے ھیں جو سب سے اخر میں جنت میں داخل ھوگا۔ میرے بھائیوں اینا ایمان سیدھا رکھو اورتاریخ کو بنیاد بناکر کسی طرح سے بھی اپنا ایمان خراب نہ کرو۔ یہ باطنی ظلی اور پتہ نہیں کیا کیا ابھی آئے گا یہ سب جھوٹے لوگوں کی قادیانی کی طرح اپنی پیدا کردہ چیزیں ھیں۔ اسلام بڑا سادہ مذہب ھے کوئی ایسی چیز نہیں جس کو سمجھنے کیلئے آپ کو سالوں چاھے۔انبیاء کرام علیہ اسلام کی وراثت علم ھوتا ھے جوکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ملا اس لئے جو پوچھنا ھے پوچھ لو کا نعرہ صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے لگایا کسی اور نے نہیں لگایا اور خلفائے کرام کو بھی جب کوئی مسلہ درپیش ھوتا تو وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے رجوع کرتے تو میرے بھائیوں اپنے ایمان کی سلامتی کی دعا مانگتے رھیں کیونکہ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ایک بندہ صبح مومن ھوگا شام کو کافر ھوچکا ھوگا۔ رات کو مومن سوئے گا اٹھے گا تو کافر ھوگا۔ آجکل یہ صورت حال آچ کی ھے سوشل میڈیا پر گمراہ ترین پوسٹ اور دیگر مواد موجود ھے جو انسان پڑھ پڑھ کر ہر وقت اپنا ایمان خراب کرتا رھتا ھے۔ اللہ تعالیٰ ھم سب کا مالک و خالق ھے۔حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ھمارے رسول نبی آخری ھیں صحابہ کرام اور اہلبیت کرام ھماری محبتوں کا محور ھیں ھم انکے غلاموں کے غلاموں کے غلاموں کے بھی نوکر اور انکے پاؤں کی خاک ھیں۔بس۔۔معززقارئین!! جمہوری نظام نقصان ہی نقصان ہے سب سے بڑا نقصان تو اللہ تعالیٰ کی شریعت اور خلافت کو چھوڑ کر باطل نظامِ جمہوریت کو اپنا لینے سے مسلمانوں کو بیشماردنیاوی مسائل کا سامنا ہوتا ہے جیسا کہ سورہ المائدہ آیت 44,45,47 ترجمہ: جو لوگ اللہ کی الہامی مقدس قرآن کیمطابق فیصلے نہیں کرتے وہی لوگ کافر ہیں ظالم ہیں فاسق و فاجر ہیں۔۔۔!! جمہوری نظام نے عوام کو سیاسی پارٹیوں کا شکار بنا کر بداتفاقی سے دو چار کرکے کمزور کردیا ھے۔ آپس میں لڑا دیا اور فساد برپا کردیا ھے،آب جب تک یہ پارٹیاں ہیں یہ فتنے و فسادات بڑھتے بڑھتے ہمارے خاتمے کا سبب بن جائیں گے اور کرپٹ حکمرانوں اور سود کی مدد سے معیشیت تباہ کردی جمہوریت نے اور آئی ایم ایف کے سودی شکنجے میں قوم و ملک کو پھنسا دیا یہی جمہوریت کا ٹارگٹ ہے جو آپکی دوبارہ مکمل قوم کی غلامی اور ملک کے چھن جانے کا باعث بنے گا اگر ہم سنبھلنا چاہیں تو یہ نظام اور اسکے مفاد اٹھانے والے سیاستدانوں کوجیلوں میں ڈالنا ہوگا،اس کیلئے نیا اسلامی نظام خلافتِ راشدہ ماڈل لانا ہوگا اور اسے چلانے کیلئے اہل عادل حکمران و دیگر اہل قیادت لانے ھونگے! سود، فحاشی، کرپشن، ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری، غربت، بدامنی، غیر اسلامی رسومات، جہالت الغرض تمام مسائل کی جڑ جمہوری نظام ہے۔ تمام مسائل کا واحد حل خلافت راشدہ ماڈل نظام اور اسلامی آئین و قوانین کیساتھ اسلامی صدارتی نظام اور قرآن ہمارا آئین و قانون ہے سنت ہمارا طریقہ ھے۔۔۔۔معزز قارئین!! میں بحیثیت جرنلسٹ اور بحیثیت مسلمان حق و سچ؛ دیانت و امانت؛ عدل و انصاف؛ حب الوطنی اور عشقِ رسول ﷺ پر کاربند رھتے ھوئے اس دارِ فانی سے کوچ کرجاؤں گا دعا کرتا ھوں کہ رب مجھے روز محشر سچ و حق صادق و امین کے گروہوں سے اٹھائے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔۔۔!!