MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بلوچستان کے اخبارات و جرائد کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں،بلوچستان گرینڈ الائنس

حکومت صوبے کے پڑھے لکھے طبقے کو بیروزگار کرنے پر تلی ہوئی ہے، بلوچستان کو تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہ~ے~، پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ

0 294

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

حکومت عجلت میں ایسے فیصلے نہ کرے جس سے بلوچستان مزید متاثر ہو،بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کی سرپرستی کی جائے،جی ٹی اے آئینی

کوئٹہ (مسائل نیوز) ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے زیراہتمام حکومت کی جانب سے پرنٹ میڈیا کے اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کیخلاف علامتی احتجاجی کیمپ میں اظہار یکجہتی بلوچستان گرینڈ الائنس اور جی ٹی اے آئینی بلوچستان کے وفود کی آمد۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے وفد نے آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ کی قیادت میں اظہار یکجہتی کیلئے شرکت کی۔ وفد میں حاجی محمد یونس کاکڑ،پروفیسر فرید اچکزئی،بور محمد،در محمد لانگو،نظام الدین،شمس اللہ کاکڑ،سجاد رند،ارباب نصراللہ،پروفیسر کلیم اللہ بڑیچ،آرگنائزنگ کمیٹی اور کور کمیٹی کے اراکین شامل تھے۔

- Advertisement -

ایکشن کمیٹی کے چیئرمین حاجی عبدالغفار لانگو اور جنرل سیکرٹری مرتضیٰ ترین نے وفود کو حقیقی پرنٹ میڈیا اور اخبار مارکیٹ کو درپیش مسائل کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان گرینڈ الائنس کے آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پرنٹ میڈیا کے اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کی کوشش بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کیساتھ ظلم کے مترادف ہے حکومت صوبے کے پڑھے لکھے طبقے کو بیروزگار کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے اس سے پہلے بھی مختلف محکموں کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی جس کے منفی نتائج برآمد ہوئے۔پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے دیگر معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان کے حالات مزید کسی تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ کا مزید کہنا تھا بلوچستان گرینڈ الائنس صوبے کے پرنٹ میڈیا کیساتھ ہے ہم اپنے صوبے کی واحد صنعت کے مطالبات کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں۔

جی ٹی اے آئینی کے وفد میں خیر محمد ترین،منظور احمد راہی بلوچ، عبدالکریم جتک، یوسفی بلوچ،سید عارف شاہ،گل مہر ہانبھی،عبید اللہ انور شامل تھے۔ بات چیت کرتے ہوئے یوسفی بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کوئی دوسری صنعت موجود ہی نہیں اور بلوچستان کے اخبارات و جرائد ہزاروں خاندانوں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خبروں کا مستند ذریعہ بھی ہیں حکومت کی جانب سے اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم میں سے اکثر افراد بلوچستان کے انہی مقامی اخبارات کیساتھ منسلک رہے ہیں،حکومت عجلت میں ایسے فیصلے نہ کرے جس سے بلوچستان مزید متاثر ہو۔ انہوں نے اپنی تنظیم کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ جی ٹی اے آئینی بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کی سرپرستی کی جائے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.